Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت مکمل، حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی، سیاسی جماعتوں کیلئے ضابطہ اخلاق منظور کر لیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر

Posted on
شیئر کریں:

نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت مکمل، حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی، سیاسی جماعتوں کیلئے ضابطہ اخلاق منظور کر لیا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ )الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت مکمل کر لی ہے، سیاسی جماعتوں کیلئے ضابطہ اخلاق منظور کر لیا گیا ہے، بیلٹ پیپرز کی طباعت کیلئے ضروری انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، انتخابی مواد کی خریداری مکمل کر لی گئی، الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد کیلئے تیار ہے، حتمی انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ کا کام جاری ہے۔جمعرات کو الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن، صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب ودیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختونخو ا، سندھ و بلوچستان بھی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ ابتدائی حلقہ بندیوں پر تمام عذرداریوں پر الیکشن کمیشن نے سماعت مکمل کر لی ہے اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی روشنی میں حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست 30 نومبر کو شائع کر دی جائے گی۔مزید حتمی انتخابی فہرستوں کی پرنٹنگ نادرا میں جاری ہے اور ان کی ترسیل الیکشن پروگرام تک یقینی بنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون کیمطابق سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بعد ضابطہ اخلاق کی ا لیکشن کمیشن نے منظوری دے دی ہے جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسروں، ریٹرننگ آفیسروں و پولنگ سٹاف کی ٹریننگ کا پلان تیار ہے اور مذکورہ بالا انتخابی آفیشلز کی بروقت ٹریننگ کو یقینی بنایا جائے گا۔اسی طرح بیلٹ پیپروں کی طباعت کے لئے ضروری انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور الیکشن میٹریل کی خریداری بھی مکمل کر لی گئی ہے اور الیکشن کمیشن انتخابا ت کے انعقاد کے لئے تیار ہے۔الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات سے متعلق اب تک کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ انتخابی فہرستوں کی ریٹرننگ افسروں تک ترسیل کامکمل میکنزم بنایا جائے تاکہ ریٹرننگ افسروں کو بروقت انتخابی فہرستوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کے دوران امن وعامہ کو یقینی بنانے اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے صوبائی حکومتوں اور لاء انفورسنگ ایجنسیوں کی تعیناتی سے متعلق ایک ہفتہ کے اندر مکمل تفصیلات لی جائیں اور پولیس فورس کی کمی کی صورت میں بروقت متبادل انتظام کو یقینی بنایا جائے اور عام انتخابات کے دوران پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں تاکہ عوام کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے۔

اسمبلی تحلیل کے بعد عام انتخابات 7 نومبر تک ہونا آئینی تقاضہ ہے، جسٹس اطہر من اللّٰہ کا اضافی نوٹ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)عام انتخابات کی تاریخ سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنا اضافی نوٹ جاری کر دیا۔ اضافی نوٹ 41 صفحات پر مشتمل ہے۔نوٹ میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد عام انتخابات 7 نومبر تک ہونا آئینی تقاضہ ہے، انتخابات کی تاریخ دینا آرٹیکل 48 شق 5 کے تحت صدرکا ہی اختیار ہے، یہ یقینی بنانا صدر کی ذمہ داری تھی کہ پاکستانی ووٹ کے حق سے 90 دن سے زیادہ محروم نہ رہیں، الیکشن کمیشن اور صدر نے 8 فروری کی تاریخ دے کر خود کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا۔اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 90 دن میں انتخابات نہ کرنے کی آئینی اور عوامی حقوق کی خلاف ورزی اتنی سنگین ہے کہ اس کا کوئی علاج نہیں، صدر یا گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا تھا۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو آئین بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، صدر مملکت اور گورنرز کو اپنے منصب کے مطابق نیوٹرل رہنا چاہیے، الیکشن کمیشن صدر یا گورنرز کے ایکشن نہ لینے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، انتخابات میں 90 دن سے اوپر ایک بھی دن کی تاخیر سنگین آئینی خلاف ورزی ہے، آئینی خلاف ورزی اب ہوچکی اور اسے مزید ہونے سے روکا بھی نہیں جا سکتا۔اطہر من اللّٰہ نے اضافی نوٹ میں مزید کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر اور الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، صدر انتخابات کی تاریخ نہ دے کر اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے، انتخابات سے عوام کو دور نہیں رکھا جا سکتا، وقت پر انتخابات نہ کروانا عوام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے، انتخابات نہ کرواکر عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی، 12 کروڑ 56 لاکھ 26 ہزار 390 رجسٹرڈ ووٹرز کو ووٹ دینے سے محروم رکھا گیا۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر روکنے کیلئے مستقبل میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، صدر، گورنرز اور الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی، آرٹیکل 224 اے کی خلاف ورزی کا تدارک ممکن ہے نہ ہی یہ ناقابل احتساب ہے، 90 دن میں انتخابات نہ ہونے کے بعد ہر گزرنے والا دن آئینی خلاف ورزی میں شمار ہوگا۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ جبری گمشدگیاں کرنا ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی بن چکی ہے، شخصی آزادی، نجی گھروں میں تجاوز کی کارروائیاں معمول بن گئیں، صحافیوں، سیاسی ورکرز کے خلاف کارروائیاں معمول بن گئیں، ملک کی آئینی تاریخ بھی قابل تعریف نہیں رہی، سپریم کورٹ نے مولوی تمیزالدین کیس میں نظریہ ضرورت اپنایا، جج اور نہ ہی مسلح افواج کا کوئی افسر آئین سے بالا ہے، کئی جمہوری ریاستوں میں نگراں حکومتوں کا کوئی تصور نہیں، نگراں حکومتوں کے قیام کا مقصد صرف روزمرہ امورکی انجام دہی ہے، نگراں حکومتوں کا مقصد نیوٹرل رہ کرشفاف انتخابات کیلئے سازگارماحول بنانا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ انتخابات میں 90 دن سے زیادہ کی تاخیر آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، انتخابات کے انعقاد میں 90 دن سے زیادہ تاخیر آئین معطل کرنے کے مترادف ہے، انتخابات میں تاخیر کے آئینی حق کی خلاف ورزی کا مداوا آرٹیکل 254 سیبھی ممکن نہیں، آئین کے تحت ملک منتخب نمائندے ہی چلا سکتے ہیں، آئین میں آئینی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 کا حل موجود ہے، انتخابات میں تاخیر پر کوئی شہری عدالت سے رجوع کرے تو اس کی داد رسی ہونی چاہیے۔اضافی نوٹ میں مزید کہا کہ الیکشن کمیشن تاخیر شدہ انتخابات کو شفاف اور منصفانہ کروائے، الیکشن کمیشن یقینی بنائے تاخیر شدہ انتخابات میں کسی کو شکایت نہ ہو، الیکشن کمیشن انتخابات شفاف، منصفانہ نہ کروائے تو آئینی ذمہ داری ادائیگی میں ناکام ہوگا۔

 

 

خنجراب پاس کے ذریعے چین اور پاکستا ن کے درمیان آمدورفت میں حالیہ عرصے کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا، چینی اخبار

بیجنگ( چترال ٹائمزرپورٹ)خنجراب پاس کے ذریعے چین اور پاکستا ن کے درمیان آمدورفت میں حالیہ عرصے کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ چائنا ڈیلی کی رپورٹ میں پاکستانی تاجر سیف اللہ بیگ جو گزشتہ 30 سال سے اس پاس سے سفر کر رہے ہیں، کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تقریباً 30 سال پہلے 20-40 لوگ خنجراب پاس سیسرحد عبور کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد 200 سے 300 تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے پاک چین سرحد پر امیگریشن انسپکشن اور کسٹم کلیئرنس کی خدمات کو بہت اچھا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود سال میں تقریباً دس بار دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے ہیں اور پاکستان سے دستکاری کی اشیاء چین جبکہ چین سے کپڑے اور جوتے پاکستان لاتے ہیں اور ان کی سالانہ آمدن 8 لاکھ یوان کے قریب ہے۔چینی اخبار کے مطابق صوبہ ہوبی کے شہر ووہان میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی کے طالب علم اسماعیل نے بتایا کہ وہ آسان اور سستا ہونے کی وجہ سے چین سے اپنے ملک واپس جانے کے لئے خنجراب پاس کا استعمال کرتے ہیں۔ خنجراب امیگریشن انسپکشن سٹیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 3 اپریل سے 13 نومبر تک کل تعداد 42 ہزار سے زیادہ افراد کی خنجراب پاس کے ذریعے ا?مدورفت ریکارڈ کی گئی جو 2019 کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہے۔خنجراب امیگریشن انسپکشن اسٹیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سونگ زیولیانگ نے بتایا کہ انٹری ایگزٹ گاڑیوں اور مسافروں کے لیے کسٹم کلیئرنس کے اقدامات کو مسلسل بہتر بنا یا جا رہا، عوام اور کاروباری اداروں کے لیے ون سٹاپ طریقہ کار اور دیگر آسان اقدامات فراہم کر رہے ہیں،بزرگوں کے لئے خصوصی چینلز، زخمیوں، بیماروں اور ریسکیو اہلکاروں کے لیے ہنگامی چینلز، اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے منسلک منصوبوں میں شامل گاڑیوں، ڈرائیوروں اور مسافروں کے لیے الگ چینلز قائم کئے گئے ہیں۔

حکومت کا 18 لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ دینے کا فیصلہ

کراچی(سی ایم لنکس)سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ شہریوں کے اہلِ خانہ کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 18 لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، محکمہء داخلہ سندھ نے لاپتہ شہریوں کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کی سمری وزیرِ اعلیٰ کو بھجوا دی ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اہلِ خانہ کو رقم کی ادائیگی کر دی جائے گی۔سرکاری وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کے متعدد اجلاسوں کے بعد ان شہریوں کو جبری گمشدہ قرار دیا گیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کا آخری اجلاس کب ہوا تھا؟عدالت میں سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ مارچ 2022ء میں جے آئی ٹی کا آخری اجلاس ہوا۔عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ کم سے کم جے آئی ٹی کا اجلاس تو کیا جائے تاکہ تلاش کی کوئی امید تو رہے۔عدالت نے تفتیشی افسران کو پھر ہدایت کی کہ شہریوں کی تلاش کے لیے جدید ڈیوائسز استعمال کی جائیں اور کہا کہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق معاملات میں سیکریٹری داخلہ اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن دلچسپی لیں۔عدالت نے شہریوں کی بازیابی سے متعلق آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی اور سماعت 10جنوری تک ملتوی کر دی۔


شیئر کریں: