Chitral Times

May 26, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آغاخان رورل سپورٹ پروگرام گزشتہ چالیس برسوں سے گلگت بلتستان اور چترال کی تعمیروترقی اورسماجی و معاشی ترقی کیلئے بھر پور کوشش کررہی ہے۔ مقرریں

شیئر کریں:

آغاخان رورل سپورٹ پروگرام گزشتہ چالیس برسوں سے گلگت بلتستان اور چترال کی تعمیروترقی اورسماجی و معاشی ترقی کیلئے بھر پور کوشش کررہی ہے۔ مقرریں

 

 

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) آغاخان رورل سپورٹ پروگرام چترال نے کنیڈین گورنمنٹ کی مالی معاونت سے بیسٹ فاروئیر پراجیکٹ کے زیراہتمام لوئراوراپرچترال سے سرکاری محکموں کے ذمہ دران اورسول سوسائٹی لیڈرزکاگلگت اورہنزہ کاپانچ روز ہ معلوماتی دورہ کروایاگیا۔اس ایکسپو ژرٹورکامقصدجی بی سی میں خواتین کوزندگی کے تمام شعبوں میں بااختیاربنانے کے لئے ان کودرپیش معاشرتی،معاشی اورسیاسی نوعیت کے مسائل کاادراک کرنے اوراُن کی حل کے لئے طویل المدتی بنیادوں پرآگاہی دیناہے ۔ چترال سے آئے وفدکوسرکاری اورغیرسرکاری اداروں کےذمہ داران سے ملاقاتیں اورسوال وجواب کاموقع دیاگیا۔کورآفس گلگت میں وفدسے خطاب کرتے ہوئےپروگرام منیجرایم این ای ذیشان ، جینڈر اسپیشلسٹ اے کے آر ایس پی سوسن عزیز، کیپیسٹی بلڈنگ اسپیشلسٹ سول سوسائٹی راحت علی،منیجرصحت مندخاندان فریدہ ناز، پروگرام منیجرسول سوسائٹی منیرہ شاہین،نیازاحمدشاہ اوردوسروں نے کہاکہ آغاخان رورل سپورٹ پروگرام گزشتہ چالیس برسوں سے گلگت بلتستان اور چترال میں علاقے کی تعمیروترقی،خواتین کے حقوق نوجوان نسل کی کردارسازی کے ساتھ ساتھ تخلیقی سوچ اورمثبت طرزعمل کوپروان چڑھانے کے لئے اپنی توانائیاں بروئے کارلاتے ہوئے سماجی اورمعاشی ترقی کیلئے بھر پور کوشش کررہی ہے۔

 

انھوں نے کہا کہ اے کے آر ایس پی نے جس نامساعد اور مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے چترال اورگلگت بلتستان میں کام کیا وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔اے کے آرایس پی واحد این جی او ہے جو خطے میں کسی بھی دوسری تنظیم سے زیادہ کام کر رہی ہے اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے اور اس کی بھر پور شراکت سے پائیدار ترقی کے منزل کا حصول اس کا طرہ امتیاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرد وخواتین گاڑی کے دو پہیئے ہیں جو زندگی کی گاڑی کو مل کر چلاتے ہیں جب تک دونوں میں بیلنس نہیں ہوگی ۔ گاڑی آگےنہیں چل سکتی۔ اسی لئے موجودہ دور میں ہم ترقی سے تب ہی ہمکنار ہوسکتے ہیں ۔ جب مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی اپنے اقدار اور تہذیب و ثقافت کا خیال رکھتے ہوئےترقی کے میدان میں آگے آئیں ۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان اور چترال میں کئی علاقے ایسے ہیں جو ترقی کےعمل میں اس دور میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ ان علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور ان کیلئے آسانیان پیدا کرنے کیلئے ہم سب کو باہم مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

 

سیکرٹری سوشل ویلفیئر،پاپولیشن ویلفیئر،ویمن ڈویلپمنٹ،ہیومن/چائلڈ رائٹس، یوتھ آفیئرزفداحسین نے گلگت بلتستان میں اے کے ڈی این کے خدمات کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کو مختلف ٹریڈز میں فنی تربیت دینے ، خود روزگاری کی جانب راغب کرنے اور معاشی طور پر خود مختار بنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی ہے۔اورسرکاری سطح پرہرقسم کی تعاون کی یقین دہانی کی۔ اس موقع پرچترال سے آئے ہوئے وفدنےامجدندیم فاونڈیشن سنٹرگلگت، کریم آبادہنزہ کے مشہورالتیت قلعہ ،عطاء آبادجھیل اوردیگرمقامات کادورہ کیا۔اس دوران ہنزہ سے پہلی خاتون کارپینٹربی بی آمنہ ،اے کے آرایس پی کے صائمہ، سی ای اوامجدندیم فاونڈیشن تمغہ امیتازامجدندیم ،ایل ایس او کے ذمہ داران اوردوسرے چھوٹے بڑے اداروں کے سربراہاں نے بتایاکہ ہمیں ایک مثبت سوچ کے ساتھ ہرمشکل حالات کامقابلہ کرنے کی رہنمائی ،حوصلہ افزائی اورمالی تعاون آغاخان رورل سپورٹ پروگرام گلگت نے کی ہے آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں ،اپنے جائزحقوق کے لئے جدوجہدکررہے ہیں اور معاشرے کا مفید باکردار اورایک ذمہ دراشہری بنانے کی تمام کریڈیٹ ا ے کے آرایس پی کوجاتاہے ۔

 

اس موقع پرچترالی وفدکی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹرفرمان علی اوردوسروں نے کہاکہ عرصہ درازسے چترال کے کچھ پسماندہ علاقوں میں نہ صرف خواتین ترقی کے عمل میں پیچھے رہ گئی ہیں بلکہ ان کے مسائل میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سماجی اور معاشی طور پر غیرمساوی حیثیت کے ساتھ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، خواتین کی موثر سیاسی شرکت کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان مسائل کے حل کی بجائے ہمیشہ سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں خواتین کی سیاسی شمولیت کوبہتربنانے کے لئے سکول ،کالج اوریونیورسٹی لیول پرسوشل میڈیا دیگرنیٹ ورک میں مثبت آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔اس گروپ میں ایم ایس ٹی ایچ کیوہسپتال بونی ڈاکٹرفرمان علی،سوشل ویلفیئر آفیسراپرچترال ضیاء الرحمن،ڈپٹی ڈی ای اومحکمہ ایجوکیشن اپرچترال مقدس خان ،چیف ایڈیٹر ڈیلی چترال سیدنذیرحسین شاہ ،کالاش کمیونٹی سے ممبرتحصیل کونسل اُنت بیگ ،رمبورسے خواتین یوتھ کونسلرشاہی گل، دروش سے سوشل ایکٹی وسٹ زئنب سجاد،ارندوسےسوشل ورکرعبدالاکبر، وی سی چیئرمین بازاردروش عبدالقادراپرچترال ثریا شہاب، غزالا بی بی ،حوریابی بی، گل قیہ اوردوسرے شامل تھے ۔ جبکہ اے کے آر ایس پی کی طرف سے سیدعارف حسین جان اس ٹیم کی سہولت کاری کر رہے تھے ۔

chitraltimes akrsp chitral tour gb 4 chitraltimes akrsp chitral tour gb 3

chitraltimes akrsp chitral tour gb 5


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
81938