Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے،صوبے کو موجودہ مالی بحران سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ نگران وزیراعلیِ  خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی حکومت کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے،صوبے کو موجودہ مالی بحران سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ نگران وزیراعلیِ  خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت پیر کے روزایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بالخصوص ضم اضلاع کے وفاق سے جڑے مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان معاملات کو نگران وزیر اعظم کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری ، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈاپور ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ سید امتیاز حسین شاہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اکرام اللہ خان ، سیکرٹری خزانہ عامر سلطان ترین و دیگر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ نگران صوبائی وزیر برائے قبائلی امور عامر عبداللہ بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سابق فاٹا کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہو چکا ہے مگر مالی انضمام کا عمل اب تک مکمل نہیں ہوا، مالی انضمام مکمل نہ ہونے سے صوبائی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ انضمام کے وقت سابقہ قبائلی اضلاع کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ کئے گئے وعدے بھی پورے نہیں ہو رہے جس سے ضم اضلاع میں ترقیاتی عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام سے صوبے کی آبادی اور رقبے میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبے کی موجودہ آبادی اور رقبے کے حساب سے این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کا حصہ 19.64فیصد بنتا ہے لیکن صوبے کو اس وقت این ایف سی کا 14.62 فیصد حصہ مل رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع کے اخراجات جاریہ کے لئے سالانہ 142 ارب روپے درکار ہیں لیکن اس مد میں رواں مالی سال کے لئے صرف 66 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

 

اس طرح صوبائی حکومت کو اخرجات جاریہ کی مد میں 76 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے۔ مزید برآں انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی کے لئے 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہورہا۔ ضم اضلاع میں پولیس کو مستحکم کرنے کے لئے 19.7 ارب روپے کا خصوصی پیکج دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق کے ذمے تقریباً 88 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ اسی طرح ونڈ فال لیوی آن آئل کی مد میں بھی 50 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صوبے خصوصاً ضم اضلاع میں ترقیاتی عمل متاثر ہورہا ہے جبکہ ضم اضلاع کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے کو موجودہ مالی بحران سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
81926