Chitral Times

Dec 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ماحولیاتی تبدیلیاں: انسانیت اور جانداروں کا مسقبل خطرے میں – عبید ساحل

Posted on
شیئر کریں:

ماحولیاتی تبدیلیاں: انسانیت اور جانداروں کا مسقبل خطرے میں – عبید ساحل

آپ نے پچھلے سال رونما ہونے والے خطرناک اور ملک گیر سیلاب کا مشاہدہ تو کیا ہوگا. اپنی نوعیت کا یہ بڑا سیلاب بدلتے موسمی بدلاؤ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا. اس سیلاب کے نتیجے میں سترہ سو جانوں کا ضیاع ہوا تھا. ماحولیاتی تبدیلیوں سے مراد کسی علاقے کی آب و ہوا کا وقت کے ساتھ تبدیل ہونا ہے۔ جیسے کہ پہلے دنیا آئس ایج کو جھیل چکی ہے، جو کہ قدرتی عمل تھا۔ ماحولیاتی تبدیلیاں بھی قدرتی عوامل میں سے ہیں لیکن پچھلے دو تین سو سالوں سے اس قدرتی عمل کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اور اب یہ مصنوعی عمل بن چکا یے۔ اس تیز رفتاری کی سب سے بڑی وجہ صنعتی انقلاب ہے۔ دنیا میں صنعتی انقلاب کے بعد ہماری ہوا میں کاربن اور میتھین گیسوں کی مقدار بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جو ان تبدیلیوں کی اصل وجہ ہے۔ جس تیز رفتاری سے ماحول اور موسم تبدیل ہورہے ہیں وہ ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔ اور حالیہ سالوں میں بین الاقوامی طور پر کئی بڑے ممالک اور کئی عالمی تنظیمیں اس تیز رفتاری کو روکنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ رواں سال ان تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو جتنا خاطرخواہ نقصان پہنچا وہ اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔ آپ پنجاب، بلوچستان یا خیبرپختونخواہ کے متاثرہ علاقوں کا وزٹ کرے آپ اپنے آنسو نہ روک سکیں گیں۔ اب بھی سینکڑوں ایسے متاثرہ مقامات ہیں جہاں لوگ بےیار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔ پوری پوری فیملیاں الخدمت اور دیگر فلاحی اداروں کے خیموں میں کسی مدد کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب وبائیں خطرناک حد تک پھیل چکی ہے۔ جس سے مزید جانی و مالی نقصاب اب بھی ہورہا ہے۔

         رواں سال تو پاکستان نے ان حالات کا سامنا کیا لیکن یہ پیشن گوئیاں ہورہی ہے کہ اگلے چند سالوں میں خطے کے دوسرے ممالک بھی ان حالات سے خطرناک حد تک متاثر ہونگے اور کوئی بعید نہیں کہ پاکستان کو  بھی دوبارہ ان حالات کا سامنا کرنا پڑے (اللہ نہ کرے)۔ ماحویلاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر سال دنیا کے گلیشئرز کا 1.2 ٹریلین ٹن برف پگھل رہا ہے۔ جس سے سمندر کی سطح بلند سے بلند تر ہوتی جارہی ہے۔ اور یہ سطح سمندر کی بلندی مستقبل قریب میں دنیا کے بڑے شہروں کو سمندر میں ڈبو دے گی۔ جن میں کراچی، جکارتہ (انڈونیشیا)، دہلی(بھارت)، لاگوس(نائجیریا)، میامی(امریکہ)، مسقط(عمان)، شنگھائی(چائینہ) وغیرہ شامل ہیں۔ اس خطرناک صورحال سے آپ مستقبل کا اندازہ لگالیں کہ ہماری زمین کا مستقبل کتنا بھیانک ہوگا۔ یہ تبدیلیاں خطرناک موسمی حالات بھی پیدا کررہے ہیں جیسے کہ حالیہ سیلاب، زمین کا درجہ حرارت بھی تیزی  سے بڑھ رہا ہے جس سے موسم بھی بہت زیادہ گرم ہونگے اور گلیشئرز بھی جلدی پگھل جائیں گے۔

            دوسری جانب ان تبدیلیوں کا صرف ماحول اور موسموں پر اثر نہیں پڑتا بلکہ انسان اور دیگر جاندار بھی ان سے خطرناک حد تک متاثر ہوریے ہیں۔ یہ تبدیلیاں انسانی صحت کیلیے بہت خطرناک ثابت ہورہے ہیں اور کینسر، جلدی امراض، سانس کی بیماریوں وغیرہ کے باعث بنتے ہیں۔ جنگلی حیات کا تو ہم ویسے ہی نسل کشی کر چکے ہیں۔ پچھلے سو سالوں میں ہم نے زمین کے 60% جنگلی حیات کا خاتمہ کیا ہے۔ یہ جنگلی حیات شکار کی وجہ سے، بڑھتی جانوروں کی تجارت کی وجہ سے اور بڑھتی آبادی کے باعث زراعتی شعبے میں اضافے کی وجہ سے ختم ہوچکے ہیں۔ اور اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ 2100ء تک دنیا سے شیر، ہاتھی، گینڈے اور ٹائگرز کا خاتمہ ہوجائیگا۔ اور ہماری اگلی نسلیں ان جانوروں کو دیکھنے کی قابل نہیں رہیں گی۔ دنیا میں اس وقت شیروں کی تعداد صرف پچیس ہزار رہ چکی ہیں جو کہ صرف دو سال پہلے دو لاکھ تھی یعنی ہم نے دو سو سال میں ایک لاکھ پچھتر ہزار شیروں کا خاتمہ کیا۔ بھارت میں پائے جانے والے ایشیائی شیروں کی تعداد ایک زمانے میں صرف بارہ رہ چکی تھی لیکن بہتر حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے آج ان ایشیائی شیروں کی تعداد بڑھ کر 600 تک پہنچ چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ان جانداروں کو بچانا چاہے تو بچا سکتے ہیں۔ لیکن اس کییلیے بہتر حکمت عملی اور پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔

ٹائگرز کی تعداد صرف پنتالیس سو رہ چکی ہیں۔ یہ خطرناک جنگلی جانور اپنی طاقت کے باوجود انسانی درندگی سے نہ بچ سکا اور اپنی نسل کھو دی۔ تیندوا یعنی لیوپرڈ کی تعداد دنیا میں صرف تیرہ ہزار رہ چکی ہیں۔ چیتا جو روئے زمین پر تیز ترین جانور ہے اس کی تعداد صرف آٹھ ہزار رہ چکی ہیں۔ حال ہی میں بھارتی حکومت نے چیتوں کو افرقیہ سے منگوا کر ان کو دوبارہ بھارت میں بسانے کی کوشش کی ہے۔ ان چیتوں کیلیے باقاعدہ ایک نیشنل پارک بنایا گیا ہے اور اس پارک کیلیے رینجرز کی کافی تعداد بھرتی کی گئی ہیں جو ان چیتوں کی حفاظت کریں گے۔ ایرانی علاقوں میں رہنے والا ایشیائی چیتا اپنی نسل تقریبا کھو چکا ہے جس کی تعداد صرف پچاس رہ چکی ہیں۔ آج سے سو سال پہلے دنیا میں ہاتھیوں کی تعداد 10 لاکھ تھی لیکن آج صرف چار سے پانچ لاکھ رہ چکی ہیں۔

لکھاری کا تعارف:

عبید ساحل سوات سے تعلق رکھنے والے ایک طاببعلم اور لکھاری ہے.


شیئر کریں: