Chitral Times

Dec 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

برانچ لیس بینکاری کی ہر ٹرانزیکشن کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار

شیئر کریں:

برانچ لیس بینکاری کی ہر ٹرانزیکشن کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار

کراچی( چترال ٹائمزرپورٹ) اسٹیٹ بینک نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمائے کی فراہمی کے خدشات کی روک تھام کیلیے مالیاتی اداروں کو برانچ لیس بینکاری کی خدمات کی فراہمی کے لیے کنٹرول کو مضبوط بنانے کی ہدایت کردی ہے۔جاری کردہ سرکلر لیٹر نمبر 20 کے ذریعے برانچ لیس بینکاری سے متعلق ریگولیشنز کو مزید سخت کردیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک نے برانچ لیس بینکاری کی خدمات فراہم کرنے والے مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ 31 جنوری 2024سے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس کے ذریعے رقوم بھجوانے اور وصول کرنے والے اکاؤنٹ یا والٹ ہولڈرزکی بائیو میٹرک ویریفکیشن کی جائے۔اس مقصد کے لیے ملک بھر کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس پر بائیومیٹرک ڈیوائسز نصب کی جائیں اور اس ضمن میں دہشت گردی کے لیے سرمائے کی فراہمی کے لحاظ سے ہائی رسک علاقوں کو ترجیح دے جائے۔مالیاتی اداروں کو برانچ لیس بینکاری کی خدمات سے متعلق تمام قسم کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئرز بھی اپ گریڈ کرتے ہوئے کنٹرول کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔مالیاتی اداروں کو برانچ لیس بینکاری کے ٹرانزیکشن کی خود کار نگرانی کے لیے ا?ٹو میٹڈ ٹرانزیکشن مانیٹرنگ سسٹم کو مضبوط بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک غیرمعمولی یا ماضی کے ٹریک ریکارڈ سے ہٹ کر کیے جانے والے ٹرانزیکشن کی فوری نشاندہی عمل میں لائی جاسکے۔اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ معمول سے ہٹ کر زائد مالیت کی رقوم کی منتقلی کے لیے ہونے والے ٹرانزیکشنز کی اے ایم ایل ایکٹ 2010کے تحت مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ مرتب کی جائے اور انفرادی سطح پر تمام برانچ لیس بینکنگ ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مرتب کیا جائے تاکہ متعلقہ قانون کے تحت ہونے والی کسی کرمنل انویسٹی گیشن کے لیے مہیا کیا جاسکے۔

 

فارماسوٹیکل انڈسٹری کی ترقی کے لیے فارما پارک قائم کرنے پر کام کر رہے ہیں، ڈاکٹر ندیم جان

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر ندیم جان نے کہا ہے کہ فارما انڈسٹری ادویات کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے لہذا حکومت اسے صنعت کے اہم مسائل حل کرنے کی ہرممکن کوشش کرے گی تا کہ اس کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پبلک وپرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایک فارما پارک کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے جس میں فارما کمپنیوں کو ادویات کے خام مال کی مقامی پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک میں نئے مالیکیولز کی مقامی پیداوار کے لیے مراعات دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فارماسیوٹیکل سیکٹر میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،جس نے چیمبر کے صدر احسن ظفر بختاوری کی قیادت میں ان سے ملاقات کی اور فارما انڈسٹری کے اہم مسائل سے ان کو آگاہ کیا۔ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دے کر ملک میں صحت کے مجموعی نظام کو جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے وفد کو پاکستان میں آئندہ ہونے والے گلوبل ہیلتھ سکیورٹی سمٹ باریبھی آگاہ کیا۔

 

انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی کے وفد نے فارما انڈسٹری کے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے ان کے ازالے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کو فارما انڈسٹری کے اہم مسائل بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فارما انڈسٹری ادویات کی تیاری کے لیے تقریباً 90 فیصد خام مال باہر سے درآمد کرتی ہے لیکن کرنسی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے خام مال کی درآمدی لاگت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ادویات کے خام مال کی ملک میں پیداوار کی ہرممکن حوصلہ افزائی کرے جس سے ادویات کی پیداواری لاگت کم ہو گی اور اس کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فارما انڈسٹری کی برآمدات مالی سال 23-2022کے دوران صرف70کروڑ ڈالر سے کچھ زائد تھیں جو کہ ملک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ریگولیٹری ادارے فارما انڈسٹری کے ساتھ مل کر ادویات کی برآمدات کو آئندہ چند سالوں میں 5ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں جس سے ہماری معیشت کے لیے فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔چیمبر کے سینئر نائب صدر فاد وحید نے کہا کہ بہت سی مقامی اور بین الاقوامی فارما کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز فارما انڈسٹری کی مدد کریں تا کہ پاکستان کو عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں صف اول کی پوزیشن پر لایا جاسکے۔ آئی سی سی آئی کے سابق صدر اور یو بی جی پاکستان کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے بھی معیشت کی ترقی اور روزگار کی فراہمی میں فارما انڈسٹری کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس صنعت کے اہم مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر جوہریہ اظہر، فصیح اللہ خان اور ضیا خالد چوہدری بھی آئی سی سی آئی کے وفد میں شامل تھے۔


شیئر کریں: