Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام آباد ہائیکورٹ؛ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد ہائیکورٹ؛ سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد(چترال ٹاَئمزرپورٹ)ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد کردی۔علاوہ ازیں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی خارج کردی۔دوران سماعت دلائل کے دوران ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ ایسا کیس ہے جس میں جرم کا ارتکاب کر کے اسے ملزم کی جانب سے تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہ تھے۔ یہ سائفر ایک سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس جرم کی سزا 14 سال قید یا سزائے موت بنتی ہے۔ سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا حاصل نہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے کوئی اعتراف جرم نہیں کیا۔ انہوں نے پبلک کو کوئی سائفر نہیں دکھایا بلکہ علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنا دیا۔چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ہائی کورٹ اس سے قبل سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی درخواست بھی مسترد کر چکی ہے۔

 

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت اور مقدمہ اخراج کی درخواستیں مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں مقدمے میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے۔ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ دفتر خارجہ کے سابقہ اور موجودہ افسران بالخصوص سائفر بھیجنے والے اسد مجید کے بیانات ریکارڈ پر ہیں۔ دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت بعد از گرفتاری اور اخراج مقدمہ کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان کیس میں ایک شریک ملزم ہیں۔ صرف ایک شریک ملزم کی حد تک ایف آئی آر کالعدم نہیں ہو سکتی۔ شریک ملزم کی وجہ سے اخراج مقدمہ کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔ پراسیکیوشن کے مطابق سائفر عمران خان کیقبضے میں ہے۔

 

بلا شک و شبہ ان کیخلاف تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ سنگین نوعیت کے الزامات پر ضمانت نہیں بنتی۔ بادی النظر میں ملزم کا کیس سے تعلق بنتا ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق دفتر خارجہ کی پالیسی واضح ہے۔ پالیسی کے مطابق سائفر کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ہے جسے غیر مجاز افراد کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ سائفر کو کچھ وقت کے بعد واپس فارن آفس جانا ہوتا ہے۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سائفر کیس میں وکیل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی پابند تھے کہ وہ حکومت گرانے کے لیے غیر ملکی سازش سے عوام کو آگاہ کرتے۔ حکومت گرانے کی سازش سے عوام کو آگاہ کرنے کی دلیل میں وزن نہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بطور وزیراعظم فرائض سر انجام دینے کے بجائے سیاسی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا کی دلیل کو مسترد کر دیا۔ فیصلے کے مطابق آئین کا آرٹیکل 248 بطور وزیراعظم فرائض کی ادائیگی پر استثنا سے متعلق ہے۔ پٹیشنر کا سائفر سے متعلق سیاسی اجتماع سے خطاب بطور وزیراعظم ادا کی جانے والی ذمے داریوں میں نہیں آتا۔دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں فرد جرم کے آرڈر کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ عدالت 23 اکتوبر کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے فیصلے میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتی۔ آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے۔ ٹرائل کورٹ کی آبزرویشن سے کسی قسم کا تعصب ظاہر نہیں ہوتا۔ اس بات سے انکار نہیں کہ شفاف ٹرائل ملزم کا بنیادی حق ہے۔

 

 

چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر عدم اعتماد کردیا، وکیل

راولپنڈی(سی ایم لنکس)چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ عمران خان نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ پر عدم اعتماد کردیا ہے۔اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا مورال بہت بلند ہے۔ شاہ محمود قریشی سے وکلا کی ملاقات نہیں کرنے دی جارہی۔ جب سائفر سلامتی کمیٹی میں آیا اور ڈی کوڈ ہوا تو پھر سیکرٹ کیسے رہ گیا؟۔سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سائفر کیس توشہ خانہ پارٹ ٹو ہے۔ فیئر ٹرائل قطعی نہیں ہے، پتا چل رہا ہے کہ جج کیا چاہتے ہیں۔ سائفر کیس بابت اب تمام معاملات سپریم کورٹ جارہے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ محب وطن ہیں۔ عمران خان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کے لیے سائفر کیس بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت مسترد ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ پر عدم اعتماد کر دیاہے۔ ہماری دونوں درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ آئندہ کوئی درخواست چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو نہیں سننے دیں گے۔وکیل نے کہا کہ ہم سے لگاتار زیادتی کی جا رہی ہے۔ چیئرمین کی گرفتاری و نظربندی کا دورانیہ بڑھانے کے لیے سب کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین کی درخواست پر 10 گھنٹے دلائل سنے۔ یہ ٹرائل خصوصی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں مذاق بن چکا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے پیغام دیا ہے کہ سائفر کا ایشو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھا گیا، ڈی کلاسیفائی ہوا تو سیکرٹ کیسے ہو گیا؟۔

 

سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ملزم کے خلاف اہم ثبوت کا اسے علم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی سے زیادہ سائفر کیس کو کوئی نہیں جانتا۔ آج شاہ محمود بھی خفا تھے،جج سے گلہ کیا کہ وکلا سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ یہ فیئر ٹرائل،اوپن ٹرائل نہیں ہے۔ یہ بند کمرے کا ٹرائل ہے،جو شفافیت کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہا۔ نظر آ رہا ہے کہ جج صاحب کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ تمام تحفظات کو سپریم کورٹ کے پاس لے کر جا رہے ہیں۔ عمران خان کا پیغام ہے کہ یہ آفیشل سیکرٹ تھا ہی نہیں۔ یہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی۔وکیل آفتاب باجوہ نے کہا کہ انصاف ہمیشہ ہوتا دیکھتے آئے ہیں،اس کیس میں انصاف بکتا نظر آرہا ہے۔ کل اشتہاری کو ضمانت بھی دی گئی،اپیلیں بحال کر دی گئیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری درخواستیں جسٹس عامر فاروق کے پاس نہ لگائی جائیں۔ ہم ابھی سے میسج دے رہے ہیں کہ چیئرمین کے کسی کیس کی پٹیشن چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس نہ لگائی جائے۔قبل ازیں سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی، جس میں وکلائے صفائی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے آج فیصلے تک گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے کی استدعا کی۔

 

دوران سماعت پراسیکیوٹر شاہ خاور نے استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے گواہوں کو عدالت میں پیش کردیا۔ استغاثہ کی جانب سے 5 گواہ نادر خان، عمران ساجد، محمد نعمان، شمعون قیصر اور فرخ عباس کو پیش کیا گیا۔ایف آئی اے کی ٹیم سرکاری گواہوں کو لے کر اڈیالہ جیل پہنچی، جہاں انہیں جج ابوالحسنات محمد الذوالقرنین کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ملک و غیر ملکی میڈیا کی ٹیمیں بھی جیل کے باہر موجود تھیں۔ پراسیکیوٹر خاور شاہ نے کہا کہ اعظم خانوعدہ معاف گواہ نہیں، ان کا بیان آج ریکارڈ نہیں کرایا جائے گا۔ مجموعی طور پر 28 گواہ ہیں، ان میں سے جو غیر ضروری ہیں، وہ ترک کردیں گے۔دوران سماعت وکلائے صفائی نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک گواہوں کے بیان روکنے کی استدعا کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد نے آبزرویشن دی ہے، اس پر عمل ضروری ہے۔بعد ازاں راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سائفر کیس کی سماعت میں آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق آئندہ تاریخ پر 5 گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جائیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے گائیڈ لائن دیکھ کر آئندہ تاریخ پر بیان ریکارڈ کیے جائیں گے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت منگل 31 اکتوبر تک ملتوی کردی، جس پر ایف آئی اے ٹیم گواہوں کو لے کر جیل سے روانہ ہو گئی۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
80914