Chitral Times

Dec 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا افغانی نمک حرام ہیں ؟ ( اقرارالدین خسرو)

Posted on
شیئر کریں:

کیا افغانی نمک حرام ہیں ؟ ( اقرارالدین خسرو)

کرکٹ میچ ہارنے کے بعد بہت سارے دوست افغانیوں کو برا بھلا کہتے ہوے نمک حرام کے طعنے دے رہے ہیں کیا سچ مچ افغانی نمک حرام ہیں ؟ یہ دیکھنے کی ہم نے کوشش کی ہے۔

اسی کی دہائی میں روس نے جب افغانستان پر حملہ کیا اس کے بعد تقریبا چالیس سال ہونے کو ہے افغانستان میں جنگ کا ماحول ہے 37 لاکھ کے قریب افغانی ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق 17 لاکھ مہاجرین کے پاس پی او آر ( پروف آف رجسٹریشن ) موجود ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسی کی دہائی میں پاکستان آئے تھے جب سے لیکر آج تک وہ یہاں آباد ہیں یہاں شادی کی ان کے بچے ہیں جو یہاں پیدا ہوئے اور اب جوان ہیں۔ ان کے علاوہ تقریبا دس لاکھ افراد کے پاس افغان سٹیزن کارڈ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شروع میں پاکستان آئے کچھ سال یہاں رہنے کے بعد واپس چلے گیے پھر واپس آئے ہیں۔ انھیں افغان سٹیزن کارڈ دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ حالیہ طالبان قبضے کے وقت 6 لاکھ افراد پاکستان آئے تھے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو پہلے سے یہاں ہیں مگر ان کے پاس کارڈ نہیں ہیں انھیں غیر قانونی مہاجر کہا جاتا ہے انکی تعداد بھی دس لاکھ کے قریب ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اس ملک کے واحد حکمران ہیں کہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ بھی انسان ہیں ان کے ساتھ بھی انسانوں جیسا سلوک ہونا چاہیے خان صاحب نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جو افغانی یہاں پیدا ہوے اور جوان ہوے ہیں انھیں شہریت کا حق ملنا چاہیے ۔ مگر ہمارے ملک کے کرپٹ نظام کو وہ منظور نہیں تھا کیونکہ ہمارے کرپٹ حکمران افغان مہاجرین کے نام پہ لاکھوں ڈالر سالانہ وصول کرتے ہیں ۔ دوسری طرف ہم کہتے ہیں ہم نے افغانوں کو پناہ دی ہے ۔ کیا کوئی پاکستانی یہ بتا سکتا ہے کہ اس نے کتنے دن کتنے افغانی مہاجرین کو پناہ دی انھیں مفت کھلایا پلایا ؟ کوئی ایک بھی نہیں۔۔ افغان مہاجرین کرائے کے مکانوں میں رہ رہے ہیں خود کما کر کھاتے ہیں۔ کبھی کسی کے محتاج نہیں ہوے کبھی کسی افغانی کو ہم نے بھیک مانگتے نہیں دیکھا۔ الٹا ہم ان کے نام پہ لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں ۔ حقیقت میں ان کا نمک ہم کھا رہے ہیں وہ نہیں کیونکہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک افغان مہاجرین کے لیے ہر سال پاکستان کو لاکھوں ڈالر فراہم کرتے ہیں۔صرف 2022ء میں ہی امریکا نے افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کو 60 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ یورپی یونین نے 2023 ء میں افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کو تقریباً 18 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔ جسکا مطلب ہے صرف دو سالوں میں امریکا اور یورپی یونین سے 78 ملین ڈالر وصول کر چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور دوسرے ممالک کی تفصیل الگ ہے۔ اسلیے جب عمران خان نے ان مہاجرین کو شہری حقوق دینے کی بات کی تو ہمارے بیورو کریٹس نے مخالفت کی ۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کیا وہ امداد افغان مہاجرین تک پہنچ رہے ہیں ؟

اس کے علاوہ افغانوں نے ہمیں بہت کچھ سیکھایا پورے پاکستان میں افغانی کھانے مشہور ہیں۔ افغانی ہم جیسے بے کار لوگ نہیں محنتی ہیں محنت کرکے کماتے ہیں ۔
باقی رہی کرکٹ کی بات انہوں نے اچھا کھیل پیش کیا ان کے کچھ پلیرز واقعی نمبر ون ہیں انھیں داد دینا چاہیے ۔ ایک پلیر نے اگر مین آف دی میچ ان مہاجرین کے نام کیا جنھیں واپس بھیجا گیا ہے کیا برا کیا ؟ کیا آپ کو ان کے دکھ کا احساس ہے ؟ زرا سوچیے ایک شخص کا والد 1983 میں پاکستان آیا تھا۔ 1985 میں وہ پیدا شخص پیدا ہوا اسے افغانستان کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہے پاکستان میں اسکی عمر 38 سال ہے چار بچے بھی ہیں والدین فوت ہوچکے ہیں۔ اس نے یہاں اپنا گھر بسایا ہے آپ اسے پکڑ کے افغانستان بھیج رہے ہو۔ اسکا کیا قصور ہے ؟وہ تو پاکستان میں پیدا ہوا ہے اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا قصور ہے انھیں کیا پتہ افغانستان ہے کہاں ؟ اب وہ جائے تو جائے کہاں ؟ زرا نہیں پورا سوچیے ۔۔۔۔۔


شیئر کریں: