Chitral Times

Dec 1, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مصر کا موجودہ فرعون – تحریر عبد الباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – مصر کا موجودہ فرعون – تحریر عبد الباقی چترالی

بے بس مجبور فلسطینیوں پر اسرائیل کے حملے مزید تیز کر دئے گئے ہیں ۔اور غزہ شہر کی ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے ۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطین کی آبادی والے علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں پر حملے کئے جا رہے ہیں ۔کئی امدادی کارکنان بھی اسرائیلی حملے کے زد میں آئے ہیں ۔اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 3500 سے زائد ہو گئیں ہیں ۔جبکہ13000ہزار کے قریب زخمی ہیں ۔غزہ شہر میں پانی ،خوراک،بجلی ،گیس اور ادویات کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔امریکی دباؤ پر مصر کا موجودہ صدر فرعون جنرل عبد الفتح السیسی نے فلسطین کے مظلوم پناہ گزینوں کے آمدورفت کے لئے اپنی سرحدیں مکمل طور پر بند کر کے امریکی نمک خور ہونے کا ثبوت دیا ہے۔مصری صدر کی اس شرمناک اقدام پر تمام مسلم ممالک کو اس کے ساتھ سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہیے ۔اور اس اقدام کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے ۔

 

مصر کے بزدل صدر امریکی دباؤ پر فلسطین کی بے یارو مددگار مسلمانوں کے لئے اپنی ملک کی سرحدیں بند کر کے ان کو اسرائیلی درندوں کے رخم وکرم پر چھوڑ دیا ہے. جو کہ افسوس ناک اور شرمناک اقدام ہے۔مسلم ممالک کے سربراہان فلسطین کی مصبیت زادہ بھائیوں کی عملی طور پر مدد کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔مسلم ممالک میں صرف ایران فلسطینیوں کی جانی ،مالی مدد فراہم کر رہی ہے ۔جو کہ قابل تحسین اقدام ہے ۔اس وقت مسلم ممالک اسرائیلی جارحیت روکنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کیے تو یہ جنگ دوسرے اسلامی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔وہ اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے نہیں بچ سکیں گے ۔مسلم ممالک کے بزدل حکمران اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کرنے کے بجائے بیان بازی پر اکتفا کر رہی ہے ۔لیکن اسلامی ممالک کی عوام فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔

 

خاص کر کراچی میں ہونے والے فلسطینی مارچ نے پوری امت مسلمہ کو طاقت اور قوت بخشی ہے ۔کراچی کے غیور مسلمانوں نے جس جوش جذبے کے ساتھ اس مارچ کے لئے بڑی تعداد میں گھروں سے نکلے ہیں ۔وہ ناقابل فراموش ہیں ۔کراچی والوں کے مارچ نے پوری امت مسلمہ کو بیدار کر دیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس امریکی بحری بیڑہ اسرائیل کی مدد کو پہنچ چکا ہے ۔امریکہ کے علاؤہ برطانیہ اور فرانس بھی اسرائیل کو دفاعی سازو سامان فراہم کر رہی ہیں ۔لیکن دنیا نے جدید ٹیکنالوجی کا حشر افعانستان میں دیکھ چکے ہیں ۔اہل ایمان کے سامنے جدید ٹیکنالوجی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔افعانستان میں امریکہ اور اس کی چالیس اتحادی یورپی ممالک نے اپنے جدید ٹیکنالوجی افغان طالبان کے خلاف بھرپور استعمال کیا آخر کار امریکہ اور اس کی اتحادیوں کو بدترین شکست سے دو چار ہو کر ذلت ورسوائی کا طوق گلے میں ڈال کر افغانستان سے بھاگنا پڑے ۔

 

مسلم ممالک کے حکمران اسرائیل کے خلاف خود کوئی عملی اقدام کرنے کی بجائے امریکہ کا کٹھ پتلی ادارہ اقوام متحدہ سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہیں ۔جو کہ صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے ۔اقوام متحدہ مسلم ممالک کا دشمن ادارہ ہے۔جس نے عراق ،شام ،لیبیا اور افغانستان میں جو شرمناک کردار ادا کیا ہے ۔اس سے تمام مسلمان بخوبی واقف ہیں ۔اقوام متحدہ سے مسلم ممالک کا خیر اور بھلائی کی امید رکھنا بیکار ہے ۔

 

اگرچہ پاکستان عالم اسلام کا واحد ایٹمی قوت رکھنے والا ملک ہے ۔اس لحاظ سے پاکستان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ۔لیکن اس وقت پاکستان اپنے کمزور معیشت اور بے پناہ اندرونی اور بیرونی مسائل میں جکڑا ہوا ہے ۔وہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ عملی مدد کرنا درکنار موثر آواز اٹھانے سے بھی معذور ہے۔فلسطین کا ہمسایہ ملک مصر 1979 میں اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے۔اور دوسرا ہمسایہ ملک اردن 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔طاقت ور مسلم ملک ترکی کا اسرائیل کے ساتھ درینہ سفارتی اور تجارتی تعلقات ہے۔اور سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلمان کی اسرائیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہے۔ ان چاروں طاقتور مسلم ممالک کے سربراہوں کا امریکہ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔اس وقت ان چاروں طاقتور مسلم ممالک کی سربراہوں کو مسئلہ فلسطین حل کرنے کے لئے اپنے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔


شیئر کریں: