Chitral Times

Dec 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

Posted on
شیئر کریں:

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) سپریم کورٹ نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل کو بھیج دیا۔ مختلف کمپنیوں کی جانب سے بجلی کے بلوں میں شامل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیرقانونی قرار دلانے کے لیے کمپنیوں نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے اسے جائز قرار دیتے ہوئے کمپنیوں کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔کمپنیوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں جہاں ا?ج سپریم کورٹ نے مختلف سماعتوں کے بعد لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فیول ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ نیپرا کے اپیلیٹ ٹریبونل میں ارسال کردیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ آئینی و قانونی طور پر قابل عمل نہیں، نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل میں صارف کمپنیاں 15 دن میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے خلاف اپیلیں دائر کریں اور نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل 10 دن میں اپیلیں مقرر کرے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل جلد از جلد قانونی میعاد کے اندر اپیلوں پر فیصلہ کرے۔قبل ازیں دوران سماعت کمپنیوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مئی 2022ء میں جب فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ لگایا گیا تب نیپرا کی تشکیل غیر آئینی تھی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر نیپرا کی تشکیل غیر آئینی تھی تو جج کو اس پر فیصلہ دینا چاہیے تھا، لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے اپنے اختیار سے باہر نکل کر فیصلہ دیا جسے برقرار رکھنا ممکن نہیں، ہائی کورٹ کے ججز آرٹیکل 199 پڑھنا بھول جاتے ہیں، کیا ہائیکورٹ کا جج یہ کہہ سکتا ہے کہ 500 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر بل یہ ہوگا؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت نیپرا کے تکنیکی معاملات نہیں دیکھ سکتا، لاہور ہائی کورٹ نے وہ فیصلہ دیا جس کی درخواستوں میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی، بہتر ہوگا تکنیکی معاملات نیپرا کے سامنے ہی اٹھائے جائیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیپرا اور ڈسکوز کو ٹربیونل میں معاملہ چیلنج کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ کمپنیز اور صنعتوں سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد واجب الادا رقم نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے سے مشروط ہوگی۔ بعدازاں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے درخواستیں نمٹا دیں۔

 

نگران حکومت کی طرف سے دوسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی،پبلک ٹرانسپورٹ اورمال برداری کے کرایوں میں کمی نہ ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی کم نہ ہوسکیں،عوام کا ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)نگران حکومت کی طرف سے دوسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ اورمال برداری کے کرایوں میں کمی نہ ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی کم نہ ہوسکیں۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کا فراہم کردہ ریلیف عوام کو منتقل کیا جائے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس وٹس ایپ،فیس بک اور ٹویٹر پر شہریوں کی طرف سے ارباب اختیارکی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ ماہ اکتوبرمیں حکومت فی لیٹر پٹرول کی قیمت 48 روپے کی ریکارڈ کمی کرچکی ہے۔ ڈیزل،مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹرز نے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر بڑھائے گئے کرائے قیمت کم ہونے پربھی کم نہیں کئے۔سٹاپ سے سٹاپ 40 سے 50 روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ شہریوں نے اسلام آبادراولپنڈی ٹرانسپورٹ اتھارٹیوں، ٹریفک حکام، کمشنر، ڈپٹی کمشنر صاحبان سے اپیل کی ہے کہ فوری ریلیف عوام کو منتقل کیاجائے۔ اس ضمن میں کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے فوری اجلاس طلب کرکے ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر بڑا ریلیف حکومت کا احسن اقدام ہے۔مہنگائی کی وجہ سے پریشان عوام کو فائدہ ہوگا۔ عوام کو براہ راست استفادہ پہنچانے کیلئے کارروائی کا ا?غاز کردیا گیا ہے۔ دریں اثناء اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے حکام نے بھی ٹرانسپورٹرز اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت شروع کردی ہے تاکہ عوام کو کرایوں میں ریلیف دیا جاسکے۔

“بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو”کی مشترکہ تعمیر نے دنیا میں نئی ٹھوس تبدیلیاں پیدا کیں، چین 150 سے زائد ممالک سے معاہدے کر چکا

اسلام آباد(سی ایم لنکس)تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون نے دنیا بھر کے 140 سے زائد ممالک اور 30 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کو اپنی جانب متوجہ کیاہے۔ چینی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں“بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو”کی مشترکہ تعمیر نے دنیا میں نئی ٹھوس تبدیلیاں لائی ہے۔گزشتہ 10 سالوں میں،“بیلٹ اینڈ روڈ”نے 3،000 سے زیادہ تعاون کے منصوبے تشکیل دیئے ہیں، جن سے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔جون 2023 کے اواخر تک چین 150 سے زائد ممالک اور 30 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ 200 سے زائد تعاون کی دستاویزات پر دستخط کر چکا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر مکمل عمل درآمد سے شریک ممالک کے درمیان تجارت میں 4.1 فیصد اضافہ ہوگا۔ توقع ہے کہ 2030 تک اس سے سالانہ 1.6 ٹریلین ڈالر کے عالمی فوائد حاصل ہوں گے اور 7.6 ملین افراد کو انتہائی غربت سے نکالا جائے گا۔ بی آر آئی معاشی فوائد سے کہیں زیادہ ثمرات لا رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک کی ایک بڑی تعداد کو سرمائے کی کمی جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ چین نے متعلقہ ممالک کے ساتھ سلک روڈ فنڈ اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے قیام، مشترکہ طور پر شراکت دار ممالک کے لئے سرمایہ کاری اور فنانسنگ چینلز کو وسعت دینے اور عالمی اقتصادی گورننس سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے مالی اعانت فراہم کی ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں ماحول دوست ترقی کا تصور پائیدار ترقی کے لئے اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے اور عالمی موسمیاتی گورننس میں نئی قوت کا اضافہ کر رہا ہے۔مشترکہ مشاورت، تعمیر اور اشتراک، حکمرانی کا یہ نیا تصور حقیقی کثیرالجہتی پر عمل درآمد کی وکالت کرتا ہے۔ اس انیشی ایٹو کو اقوام متحدہ اور چین افریقہ تعاون فورم جیسے بین الاقوامی تنظیموں اور میکانزم کی اہم دستاویزات میں بھی شامل گیا ہے، جس سے عالمی حکمرانی کے نئے فارمولے سامنے آئے ہیں۔اپنی ترقی کے ساتھ چین دنیا میں نئے مواقع لایا ہے اور بنی نوع انسان کے جدید یت کی جانب راستے کے انتخاب کو وسعت دی گئی ہے۔ جیسا کہ سربیا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اورلک نے تبصرہ کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو مستقبل کا راستہ ہے۔

 


شیئر کریں: