Chitral Times

Jun 13, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امن سے ہی بزنس اورریاست کی ترقی ممکن ہے، گورنر حاجی غلام علی

Posted on
شیئر کریں:

امن سے ہی بزنس اورریاست کی ترقی ممکن ہے، گورنر حاجی غلام علی

ذ ہن سازی عصرحاضر میں انتہائی ضروری، منفی سوچ و پروپیگنڈا ریاست اور ریاستی اداروں کیلئے زہر قاتل ہے، گورنر

گورنر سے اسلامیہ کالج منیجمنٹ سائنسز سے اکیڈیمیااور بزنس کمیونٹی کے مشترکہ وفد کی ملاقات، عالمی سطح پر شائع ہونیوالی کتاب پیس،لو اینڈ ہارمونی کا پشتو زبان میں ترجمہ پیش کیا
گورنر سے سابق نگران صوبائی وزیر حامد شاہ اور حیات آباد پشاور سے وفد کی بھی الگ الگ ملاقاتیں، مختلف امور پر تبادلہ خیال

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخواحاجی غلام علی نے کہاہے کہ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک پرامن معاشرے اور پرامن ماحول سے ہی بزنس ریاست کی ترقی اور عوام کیمشکلات کا حل ممکن ہے،عصرحاضر میں نوجوانوں کو اس کیلئے اہم کردار ادا کرنا ہوگا جس کیلئے نوجوانوں کی ذہن سازی کی اشد ضرورت ہے۔ منفی سوچ اور منفی پروپیگنڈا ملک وقوم کیلئے بہتر نہیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عزت واحترام جوکہ اسلامی اقدار کا بنیادی جزو ہے بدقسمتی سے پامال ہوتاجارہاہے جو ہم سب کیلئے بحیثیت قوم تشویش ناک ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلامیہ کالج منیجمنٹ سائنسز سے اکیڈیمیااور بزنس کمیونٹی کے مشترکہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں پشاور چیمبر سے خالد فاروق، عاطف شہزاد، فیاض علی شاہ اور اسلامیہ کالج منیجمنٹ سائنسز کے ڈاکٹر رضاء اللہ، ڈاکٹرامجدعلی اور ڈاکٹرشاہد جان کاکاخیل شامل تھے۔ اس موقع پر وفد نے گورنر کو عالمی سطح پر شائع ہونیوالی کتاب پیس،لو اینڈ ہارمونی کا پشتو زبان میں ترجمہ کی جانیوالی کتاب بھی پیش کیں۔ وفد کا کہناتھاکہ مذکورہ کتاب امن اور بزنس کی ترقی سے متعلق انتہائی مفید ہے۔ وفد نے کہا کہ صوبہ اور ملک میں صنعت و تجارت کی ترقی کے لئے دور حاضر کی جدید ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی اہم ضروت ھے،

اس موقع پر وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ اکیڈیمیا اور بزنس انڈسٹری کامضبوط ربط و تعلق استوار کرنا نہ صرف انتہائی ضروری ہیبلکہ موجودہ وقت کی ضرورت ھے، عالمی سطح پر بزنس میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بزنس میں جدت لائی جارہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک اور بالخصوص صوبہ میں بھی اکیڈیمیا اور بزنس انڈسٹری کے مضبوط تعلق سے یہاں کے کاروباری طبقہ کو نئی ٹیکنالوجی سمیت کاروبار میں جدت لانے کیلئے موثر نظام لایا جائے اور اس ضمن میں یونیورسسٹیوں کواہم کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہماری انڈسٹری اور کاروباری طبقہ عالمی سطح پر بزنس کے چیلنجز پر پورا اترسکیں، انہوں نے کہاکہ صوبہ خیبرپختونخوا بشمول ضم اضلاع قدرتی وسائل اور قیمتی معدینات سے مالا مال ہے اور ان وسائل کو صحیح طریقے سے بروئے کارلانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی اورصوبائی حکومت تاجروں کے مسائل کے حل کے لئے تمام تر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں اور کوشش ہے کہ تاجر برادری کو تمام تر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ تاجر برادری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مسائل کے حل سے نہ صرف تاجر کمیونٹی کی ترقی ممکن ہو سکے گی بلکہ صوبہ بھی معاشی طور پر مستحکم اور ترقی یافتہ صوبہ بننے کے ساتھ صوبے میں بیروزگاری کا خاتمہ بھی ہوگا۔

علاوہ ازیں گورنر سے سابق نگران صوبائی وزیر حامد شاہ، کراچی سے قاری عثمان کی سربرائی میں 5 رکنی وفد اور حیات آباد پشاور سے معین الدین اوریوسف نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔#


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
80341