Chitral Times

Jun 13, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گورنر حاجی غلام علی سے ڈپٹی آڈیٹرجنرل(نارتھ) ساجد خان کی ملاقات، کویڈ 19 کے دوران صوبائی حکومت کے اخراجات پر مشتمل اسپیشل آڈٹ رپورٹ پیش کی

Posted on
شیئر کریں:

گورنر حاجی غلام علی سے ڈپٹی آڈیٹرجنرل(نارتھ) ساجد خان کی ملاقات، کویڈ 19 کے دوران صوبائی حکومت کے اخراجات پر مشتمل اسپیشل آڈٹ رپورٹ پیش کی

مالی امور میں شفافیت کیلئے آڈٹ لازمی جزو ہے، رپورٹ کی تجاویز و سفارشات پرعملدرآمد بھی ہوناچاہئیے، گورنر

 

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے ڈپٹی آڈیٹرجنرل(نارتھ) ساجد علی ندیم نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور ادارہ کیجانب سے کویڈ 19 کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کے اخراجات پر مشتمل اسپیشل آڈٹ رپورٹ پیش کی۔ آڈٹ رپورٹ میں خیبرپختونخوا حکومت کے کورونا وائرس وبا کے دوران مالی سال 2020-21 میں اخراجات کا تفصیلی آڈٹ کیا گیا جس کی مفصل رپورٹ گورنر کو پیش کی گئی، اس موقع پر گورنر نے خصوصی آڈٹ رپورٹ کی تیاری کو مالی امور میں شفافیت سے متعلق خوش ائند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادارے میں مالی امور میں شفافیت کیلئے آڈٹ لازمی جزو ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ آڈٹ رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عملدرآمد بھی یقینی بنانا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف مستقبل میں مالی مسائل سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا بلکہ رپورٹ کی تجاویز و سفارشات سے مالی امور میں مزید شفافیت بھی لائی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں گورنر سے ضم اضلاع باجوڑ، مہمند، کرم اورخیبر کے45 رکنی نمائندہ وفد نے بھی گورنرہاؤس میں ملاقات کی۔وفدمیں حاجی شمس الدین آفریدی،مولانامحمدعارف حقانی، محمدانور، مفتی عباد الرحمن، مختیار احمد، عمران ماہر، مولانامجیب، سمیع اللہ سواتی اوردیگرشامل تھے۔ وفد کے شرکاء نے اپنے اپنے علاقے کے عوام کے کو درپیش مسائل سے گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے گورنر کو علاقے کے عوام کو بجلی لوڈشیڈنگ، تعلیمی سہولیات کے فقدان، تجارت سے متعلق مسائل سمیت انفراسٹرکچر اوردیگر بنیادی سہولیات سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وفد کے شرکاء نے گورنر کو ضم اضلاع کے ساتھ کئے جانیوالی ناانصافیوں سے آگاہ کیا اور کہاکہ حکومت کی جانب سے سالانہ 100 ارب روپے ترقیاتی فنڈز دینے کا وعدہ کیاگیاتھا اور قبائلی علاقوں کو صوبے کے دیگر ترقیافتہ علاقوں کے برابر لاناتھا ایسا تو کچھ نہیں ہواالبتہ ضم ہونے کے بعد 8 سینیٹرز سے قبائلی عوام کو محروم کردیاگیا اور نئی حلقہ بندیوں میں مزید 6 این اے بھی کم کردیے گئے جسے کسی بھی طور تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ گورنر کے پاس ایک جرگہ کی صورت میں آئے ہیں تاکہ قبائلی عوام کے احساسات و جذبات کو اعلی حکام تک پہنچایاجاسکے۔

 

انہوں نے گورنر کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جب سے گورنر بنے ہیں تمام ضم اضلاع کے عوام سے بلا تفریق ملے اور ان کے مسائل حل کئے اور آج ہمارا یہ مطالبہ بھی متفقہ ہے۔ گورنرنے وفد کے معروضات غورسے سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو بعض مسائل کے حل کیلئے احکامات جاری کئے جبکہ دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔گورنرنے کہاکہ اس وقت ملک اور خاص طور پر خیبرپختونخوا بشمول ضم اضلاع مشکل دور سے گزررہاہے۔ صوبہ اورخاص طور پر ضم اضلاع کے عوام، مشران، نوجوان، بلدیاتی نمائندوں کو جذبات سے ہٹ کر موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کردار ادا کرناہوگا۔ گورنرنے کہا جہاں تک حلقوں کی کمی کا تعلق ہے، چونکہ یہ مردم شماری کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں اور اگر اس حوالے سے اعتراضات ہوں تو ایک طریقہ کار تحت الیکشن کمیشن کے پاس اپیل جمع کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی نظام مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل کے حل کیلئے انتہائی اہم ہے۔

 

صوبائی حکومت، وزیراعلی، چیف سیکرٹری، لوکل گورنمنٹ اوردیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد کئے گئے ہیں اور اس ایک آرڈیننس تیارکردیاگیا ہے اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد صوبے کی تمام بلدیاتی نمائندوں کوفنڈز ریلیز کردیے جائیں گے۔ حکومت ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ قبائلی اضلاع میں معیاری تعلیمی اداروں کے قیام، جدید سہولیات سے مزین ہسپتالوں، سڑکوں کی تعمیر، ڈیمز کی تعمیراور مواصلاتی نظام میں بہتری لانے کیلئے ریاستی ادارے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں جس سے نہ صرف قبائلی عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگابلکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقی و خوشحالی کادورشروع ہوگا اوروہ وقت دور نہیں جب ضم شدہ قبائلی اضلاع کا شمار ملک کے ترقی یافتہ علاقوں میں ہوگا۔ ہمیں قبائلی اضلاع اورقبائلی عوام کے مسائل کا اندازہ ہیں، ہمیں احساس ہے کہ جن مشکلات کا سامنا قبائلی عوام کررہے ہیں ان مشکلات کاازالہ کیاجائے اور اس کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومت کی کاوشیں جاری ہیں۔ دریں اثناء گورنرسے اسلامیہ کالج پشاور سے ڈاکٹرنثار اور ڈاکٹر عنایت علی شاہ، پشاور کے علاقہ دین بہار کالونی سے قاری محمد عبداللہ، خلیل الرحمن، سعید الرحمن، قاسم عبداللہ اور صدیق خان نے بھی گورنر سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
79898