Chitral Times

Dec 3, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایس ایل او بیسڈ امتحان – تحریر:محمد اجمل خان

شیئر کریں:

ایس ایل او بیسڈ امتحان – تحریر:محمد اجمل خان

ایس ایس ٹی(میتھ/فزکس)
گورنمنٹ ہائی سکول بریر لوور چترال
آئیٹم موڈیریٹر
١۔ فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈییٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن اسلام آباد
٢۔ بورڈ آف انٹر میڈییٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن پشاور

 

وفاق سمیت خیبر پختونخواہ کے تمام بورذ نے مشترکہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ آیندہ ان بورڈذ کے زیر اہتمام ہونے والے تمام امتحانات ایس ایل او بیسڈ ہونگے۔

ایس ایل او سے مراد
Students learning outcome یا
Specific Learning objectives

کسی بھی مضمون کو پڑھانے کے عمومی اور خصوصی مقاصد ہوتے ہیں۔۔
مثلاًنویں اور دسویں جماعت میں فزکس کے مضمون کو پڑھانے کے مقاصد عمومی کہلاتے ہیں۔ اس مضمون کو مختلف ابواب میں تقسیم کر کے ہر باب کو پڑھانے کے پھر الگ سے مقاصد بیان کیے گیے ہیں جن کو خصوصی مقاصد کہا جاتا ہے۔
یہ مقاصد ہر کتاب کے لیے ہر یونٹ کے شروع میں ہی دیے گیے ہوتے ہیں۔
ایک استاد کی زمہ داری ہے کہ اس باب میں جو مواد دیا گیا ہوتا ہے اس مواد کوکچھ اس طرح سے پڑھاےکہ ان مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔۔
بینجمن بلومز کے مطابق بچے کی کوگنیٹیو ڈومین کے چھ لیولز ہوتے ہیں۔۔

جس عنوان کو ان میں سے جس لیول تک پڑھانا ہو، وہ ایس ایل او کے اندر کمانڈ ورڈ سے ہی ظاہر ہوتا ہے
مثلاً اگر کوی ایس ایل او نالج لیول کا ہو تو اس میں یہ الفاظ استعمال ہونگے تعریف کریں، بیان کریں، لسٹ بنایں، نام بتایں، تاریخ بتایں وغیرہ وغیرہ۔۔
اگر کوی اسی ایل او اس سے اوپر یعنی انڈرسٹیڈنگ لیول کا ہو تواس میں یہ الفاظ ہونگے۔۔وضاحت کریں، تشریح کریں، وغیرہ وغیرہ۔
اور اگر کوی ایسل ایل او اس سے بھی اوپر یعنی ایپلیکیشن لیول کا ہو تواس میں الفاظ یہ ہونگے۔۔ ثابت کریں، استعمال کریں، روزمرہ زندگی کے ساتھ جوڑں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

ایس ایل اوز کہاں سے لیے جاتے ہیں؟
ایس ایل اوز دراصل کریکولم ڈاکومنٹ سے لیے جاتے ہیں۔ ہر مضمون کا اپنا کریکولم ڈاکومنٹ ہوتا ہے جس میں اسباق،پڑھانے کے طریقہ ہاے کار، اوقاتِ کار،عمومی و خصوصی مقاصد، امتحانات اور اس کے طریقہ ہاے کار دیے گیے ہوتے ہیں۔ غرض کریکولم ڈاکومنٹ ایک استاد ک لیے مکمل گایڈ ہوتا ہے۔ یونٹ کے شروع میں جو ایس ایل اوز دیے گیے ہوتے ہیں وہ بھی کریکولم ڈاکومنٹ سے ہی کاپی کیے گیے ہوتے ہیں۔ ہر استاد کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ مضمون کا کریکولم ڈاکومنٹ ضرور پڑھے۔

ایس ایل او بیسڈ امتحان کیسا ہوتا ہے؟
اب تک بورڈ امتحانات روایتی طریقے سے لیے جاتے تھے یعنی کوی سے تین چار اساتزہ کسی مضمون کے لیے پرچہ بناتے اور بورڈ ان میں سے کسی ایک پرچے کو امتحان کے لیے منتخب کرتا۔ سوالات کتاب سے لیے جاتے۔۔اور کتاب میں ردج سوالات کے جوابات پہلے ہی مارکیٹ میں گایڈذ کی صورت میں موجود ہوتے اور یوں امتحان میں نقل کا امکان زیادہ رہتا تھا۔

اب تمام بورڈذ نے اپنا آئیم بینک بنایا ہے۔ آئیٹم بنک کے لیے بورڈ نے مختلف ماہرین تعلیم و ماہرین مضامین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ ہامرین ہر مضمون کے لیے تین طرح کے سوالات بناتے ہیں

١ ایم سی کیوز ٢ سی آر کیوز(مختصر سوالات)٣ ای آر کیوز(تفصیلی سوالات)
پرچے میں تین طرح کے سوالات تین حصوں یعنی حصہ اول اور حصہ دویم و سویم کی صورت میں دیے جاتے ہیں۔
آئیٹم بنک میں رکھے گیے سوالات کتاب کے ایس ایل اوز کے عین مطابق ہوتے ہیں مگر کتاب کے مشقی سوالات کی ہو بہو کاپی نہیں ہوتے۔ یہ ایک رواں سلسلہ ہوتا ہے اور بورڈ کے لیے یہ ماہرین مسلسل یہ کام کرتے رہتے ہیں۔ یوں بورڈذ کے ساتھ ایل اوز کی بنیاد پر بناے گیے معیاری سوالات کا ایک زخیرہ موجود ہوتا ہے۔

امتحانی پرچہ کیسے تیار ہوتا ہے؟
یہ کام کمپیوٹر کوسونپا گیا ہے۔

کمپیوٹر کو پہلے ہی ہدایات دی جاتی ہیں کہ فلاں مضمون کے لیے اتنے ایم سی کیوزَ اتنے سی آر کیوز اور اتنے ای آر کیوز چاہییں ۔ اور ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی دی جاتی ہیں کہ ان سوالات میں سے کتنے نالج لیول کے ہونگے، کتنے انڈرسٹینڈنگ اور کتنے ایپلیکیشن لیول کے۔ اور اسی طرح ان سوالات کے ڈیفیکلٹی لیول بھی دیے جاتے ہیں۔
عام طور پر امتحان میں بیس فیصد سوالات آسان، ساٹھ فیصد سوالات درماینے اور آخری بیس فیصد سوالات مشکل دیے جاتے ہیں۔
اب ان تمام ہدایات کی بنیاد پر کمپیوٹر صرف ایک کلک کرنے پر امتخانی پرچہ بنا کے دے دیتا ہے۔۔

ہماری زمہ داری۔۔۔
بحیثت استاد یہ ہماری زمہ داری ہے کہ جدید تدریسی طریقوں کو اپنا کر اپنے طلبا و طالبات کو اس طرز امتحان کے لیے تیار کریں۔ اپنی تدیسی عمل کو مزید بہتر بنایں اور ایس ایل اورز کو بنیاد بنا کر بچوں کو پڑھایں۔

سکول کے اندر سہ ماہی، شش ماہی و نو ماہی امتحانات میں ایس ایل او بیسڈ پرچے بناے جایں،
سبق کے دوران بھی اور سبق کے آخر میں بھی جو سوالات پوچھے جایں اس میں یہ بھی دیکھا جاے کہ ہم نے جس ٹاپک کو پڑھایا ہے کیا اس کے تردیسی مقاصد حاصل ہوگیے ہیں؟ اور کیا ہم اس لیول تک اس عنوان کو لے گیے ہیں جہاں تک لے جانا اس ایس ایل او کا ڈیمانڈ ہے؟
اگر ہم نے اپنی تدریسی عمل میں ان چیزوں کو مد نظر رکھا تو ان شا الله ہمارے طلبا و طالبات آنے والے امتحانات میں بہتر نتایج دینگے۔۔


شیئر کریں: