Chitral Times

Oct 4, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پورے ملک میں طوفانی بارشیں محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

Posted on
شیئر کریں:

پورے ملک میں طوفانی بارشیں محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، خیبر پختونخوا،بالائی /وسطی پنجاب، زیریں سندھ، مشرقی بلوچستان اورکشمیر میں تیز ہواؤں /آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بالائی خیبر پختونحوا، اسلام آباد،جنوب مشرقی، زیریں سندھ، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں چند مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش اسلام آباد (سید پور 61، ایئرپورٹ 41، بوکرا 36، گولڑہ 17، زیرو پوائنٹ 15)، اٹک 38، راولپنڈی (کچہری 27، شمس آباد 17، چکلالہ 11)، سرگودھا 27،حافظ آباد19،لاہور(،فاروق آباد 15،گلبرگ14،سٹی 11، پانی والا تالاب 7،جوہر ٹاؤن،ائیرپورٹ 5،لکشمی چوک3)،گوجرانوالہ 12،نارووال 11، نورپور تھل 3،مری 2،ساہیوال ایک، کوٹلی 13، چراٹ 8، لوئر دیر 5، پشاور سٹی، پاراچنار 2، مالم جبہ ایک اور خضدار میں 2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔اتوار کو ریکارڈکییگئیزیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق سبی میں درجہ حرارت 42اور نوابشاہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسری جانب ملکہ کوہسار مری کہوٹہ میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

 

 

آئی پی پیز کا منصوبہ بجلی نظام میں بہتری لانے کیلیے شروع کیا گیا تھا

اسلام آباد(سی ایم لنکس) پاکستان میں آئی پی پیز کا سلسلہ بجلی کی فراہمی میں میں بہتری اور نظام کی صلاحیت میں اضافے جیسے خوشنما وعدوں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔1994 میں پاور پالیسی بنا کر آئی پی پیز کو پراڈکشن کی اجازت دی گئی ہے اور پہلے آئی پی پی نے 1997 میں پیداوار شروع کی، یہ پاور سیکٹر میں پہلی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تھی، جس پر بھاری منافعوں کی ضمانت دی گئی تھی، شدید تنقید کے باجود 2002 کی پاور پالیسی میں بھی 1994 کی پالیسی کی اہم خصوصیات کو برقرار رکھا گیا۔ڈالر میں ادائیگی اور کیپیسیٹی چارجز ایسی منافع بخش شرائط تھیں کہ جس کی وجہ سے پاور سیکٹر میں خطیر سرمایہ کاری ہوئی، اور 2004-05 کے دوران بجلی کی سرپلس پیداوار سامنے آئی، 1998 میں ٹرانسمیشن کے معاملات واپڈا سے لے کر این ٹی ڈی سی کو دے دیے گئے، جبکہ 2000 کے اوائل میں ڈسٹریبیوشن 8 ڈسکوز کے حوالے کر دی گئی۔اب پاور جنریشن پالیسی 2015 اور ٹرانسمیشن لائن پالیسی2015 نافذ العمل ہیں، اور واپڈا کو صرف آبی ذخائر تک محدود کر دیا گیا ہے، بجلی کی جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹریبیوشن اور ریٹیل سپلائی کے معاملات مختلف کمپنیوں اور اتھارٹیز کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔مائیکرو اکنامک ریفارمز کے موقع پر صلاحیت میں اضافے اور بہتری کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن ا?ج ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ان اقدامات کے نتیجے میں کوئی بہتری ا?ئی ہے یا حالات وہیں کھڑے ہیں، جہاں سے شروع ہوئے تھے۔


شیئر کریں: