Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان ۔ ”ایک مثالی پرنسپل کی قابل تقلید کاوشیں“ ۔  محمد جاوید حیات 

شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان ۔ ”ایک مثالی پرنسپل کی قابل تقلید کاوشیں“ ۔  محمد جاوید حیات

 

گورنمنٹ سنٹینیل ماڈل ہاٸی سکول چترال پورےچترال کی مادر علمی ہے یہ چترال میں سب سے پرانا تعلیمی ادارہ ہے جس نے چترال کو نامی گرامی فرزند دٸیے جنہوں نے چترال میں چترال سے باہر اور ملک سے باہر چترال کا نام روشن کیا ۔اس ادارے میں نامی گرامی اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز نے خدمات انجام دی لیکن تاریخ کے دامن میں کسی کی بھی مثالی لیڈرشپ محفوظ نہیں ۔تاریخ ایک دوپرنسپلوں کانام نام لیتی ہے جنہوں نے اپنی بساط بھر کوشش کی ۔اگر مختلف ادوار کے پرنسپلز اس کو مثالی بنانے میں اپنا کردار اداکرتے تو یہ مادر علمی بےمثال ہو جاتی اور اس کے اردگرد کسی سرکاری یا پرائیویٹ تعلیمی ادارے کا نام نہ لیا جاتا جس طرح آج لوگ مختلف غیر سرکاری اداروں کا نام فخر سے لیتے ہیں اس کا نام بھی فخر سے لیا جاتا اور اس میں پڑھنے والوں اور پڑھانے والوں کو اس پہ فخر ہوتا ۔۔میں خود اس ادارے کا حصہ رہا مگر واں رہتے ہوۓ افسوس کے سوا کچھ نہ کر سکا

 

میری موجودگی میں پرنسپل ہاٶس پر ڈی ای او فیمل نے قبضہ کیا پرنسپل ٹس سے مس نہ ہوا ۔ سکول میں لرننگ ، صفاٸی ستھراٸی ، حاضری باقاعدگی وغیرہ پر اگر پرنسپل سے بات کی جاتی تو ان کے کان بہرے ہو جاتے ۔۔یہ حسرت لیے ہم اس ادارے سے ٹرانسفر ہوگۓ ۔ہم سوچتے کاش کوٸی اس کو ماڈل سکول بناۓ ۔۔ہم خواب دیکھتے کہ کاش کوٸی اس کی اہمیت کو سمجھے ۔ہم نے جب ڈسٹرکٹ سپورٹس گالہ میں چھ مقابلے جیت کر ٹرافیاں پرنسپل کی میز پہ رکھے تو اس نے یہ نہیں کہا کہ جی تمہاری محنت کو داد دیتا ہوں ۔لیکن شاید رب نے ہماری یا کسی اور کی دعا سن لی کہ آج کل اس ادارے کو ایک بے مثال پرنسپل فضل سبحان کی صورت میں ملا ہے ۔۔فضل سبحان صاحب سے میری ملاقات آج سے کٸ سال پہلے بمبوریت کے ہائی سکول میں ہوٸی میں اس سکول میں تھا آپ کسی انکواٸری کے سلسلے میں چترال آۓ تھے ۔

chitraltimes principal gcmhs chitral fazal subhan

پھر فضل سبحان صاحب چترال آتے رہے لیکن اب اس ادارے کے لیے اللہ کی طرف سے گفٹ بن کےآۓ ہیں ۔فضل سبحان صاحب نومبر 1965 کو شبقدر ضلع چارسدہ میں ایوب خان صاحب کے ہاں پیدا ہوۓ ابتداٸی تعلیم گاٶں کے سکول سے حاصل کی میٹرک میں اپنے سکول میں پوزیشن لی پھر بی اے ارنرز اور پشاور یونیورسٹی سے پاکستان سٹڈیز میں ایم ایس سی کیا ۔یونیورسٹی میں لکچرر بنا پھر ایس ایس بنا ترقی کا سفر جاری رہا انیسویں گریڈ پر ڈپٹی ڈاٸریکٹر بنا پھر بیس گریڈ پہ صوبے کے کٸ نامی گرامی سکولوں کا مثالی پرنسپل بنا ۔آج کل گورنمنٹ سنٹینیل ہاٸی سکول کے پرنسپل ہیں ۔اس مثالی معلم اورانتظامی ماہر اور پھر اس تاریخی تعلیمی ادارے کےبارے میں ہمیشہ سوچتا رہتا کہ اس ہستی کے ہوتے ہوۓ اس ادارے کے لیے ہمارے جو خواب تھے وہ پورے ہو جاٸیں ۔

یہاں تک کہ مجھے فضل سبحان صاحب کی محنت سرگرمیوں اور کاوشوں کے بارے میں آگاہی ہوئی اپنا خواب پورا ہوتے ہوۓ دیکھ کر اچھا لگا
سوچا کہ اپنے اس کمزور قلم سے ان خدمات کا ذکر کروں شاید اس نیک کام میں میرا بھی حصہ ہواور وہ یاد تازہ ہوں کہ کبھی ہم بھی اس سسٹم کا حصہ تھے ۔سرکاری سکولوں پر تنقید اس لیے ہو رہا ہے کہ وہاں کام کا طلبا کا داخلے کا معیار نہیں جزا سزا نہیں ہوتی ۔ایک استاد جان کھپا دے پرنسپل کے نزدیک اس کی کوٸی اہمیت نہیں ہوتی ایک استاد کچھ نہ کرے وہ بڑا لاڈلا ہوتا ہے یہی ان اداروں کی تباہی کی اصل وجہ ہے ۔فضل سبحان صاحب ادارے میں خلوص اور جذبہ لے کے آۓ ہیں پچھلے سال کی ساٸنسی نماٸش میں جانے کا مجھے بھی شرف حاصل ہوا شاگرد اساتذہ نے میری بڑی حوصلہ افزاٸی کی یہاں تک کہ سٹیچ مجھے حوالہ کیاگیا مجھے محسوس ہوا کہ ماحول بدل رہاہے فضل سبحاں صاحب اپنے نوجوان رفقاۓ کار کو ساتھ لے کر ایک منزل کی طرف روان ہے میر اندازہ درست تھا کہ یہ ادارہ مثالی بنتا جا رہا ہے ۔۔

 

فضل سبحان صاحب نے آتے ہی پی ٹی سی کونسل کو فعال بنایا اس میں تعلیم یافتہ لوگوں معاشرے کے ذمہ دار لوگوں اور علمائےکرام کو شامل کیا ان کو ان بوٹ لیا ان سے کام لینا شروع کیا ۔۔مذکورہ ادارے میں وساٸل کی کمی نہیں بس ان کو بروۓ کار لانے کی دیر تھی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انہوں نے بڑی کلاسوں میں ملٹی میڈیا کلاسس شروع کی ۔انہوں نے کلاسوں میں ڈیجیٹل بل سسٹم نصب کیا ۔ استاذ گھنٹی بچنے سے پہلے کلاس سے نہیں نکل سکتا ۔داخلی اور خارجی امتحانوں میں نقل کا سسٹم ختم کرنے کی پرخلوص کوشش کی اوروالدین کو بلا کر بچوں کے نتاٸج اور DMCs ان کے سامنے رکھنے کا سلسلہ شروع کیا ۔انہوں نےبچوں کو مختلف ہاوسس میں تقسیم کرکے ان میں نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں مقابلہ کرانا شروع کیاہے۔بچوں سے مختلف قومی اور بین القوامی دن مناتے ہیں ۔سپورٹس ویکس اور ہفتہ نظم و ضبط مناتے ہیں ۔کلاس رومز کی سجاوٹ کی ہے استاذ کے لیےڈاٸس اور pegion hole الماری بناٸی ہے ۔ساٸنس لیپ اور کمپیوٹر لیب فعال بنایا ہے ۔سٹوڈنٹ اف دی اٸر اور ٹیچر اف دی اٸر کے انعامات کا اجرا کیا ہے ۔سکول میں فرسٹ ایڈ نظام کو فعال بنایا ہے ایمرجنسی کی صورت میں بچوں اور اساتذہ کا فورا علاج ہوتا ہے ۔

 

کلاس رومز ڈاٸری اور تعلیمی کلینڈر بنایا ہے ۔اساتذہ کے لیے رخصت اتفاقیہ فارم بنایا ہے اس کے مطابق اگر کوٸی استاذ رخصت اتفاقیہ پہ جاۓ تو اس کی کلاسیں متاثر نہیں ہوں گی ۔پر نسپل نے سکول کی چالیس دکانیں جوکیس پہ تھیں عدالت سے وازگزار کرائی۔اب کرایہ سکول فنڈ میں جمع ہورہا ہے۔ عنقریب سکول میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کاآغاز کررہا یے۔ بچے نیچرل سائنس اور سوشل سائنس کےساتھ ہنر بھی سیکھیں گے۔پرنسپل صاحب اپنی جیب سے سکول میں موجود نادار اور مستحق طلبا کی مسلسل مدد کررہے ہیں ان کی تعلیمی اخراجات اور نجی بنیادی ضروریات ان کے ہاں سے پوری ہورہے ہیں۔ پرنسپل صاحب کی جتنی تعریفیں کی جاۓ کم ہے ان سب کا ذکر اس لیے کیا جاتا ہے کہ کیا یہ ساری سرگرمیاں کرانا ممکن نہیں اگر ممکن ہیں تو دوسرے اداروں میں کیوں نہیں ہو رہیں کیا وقت گزارنا ڈیوٹی کہلاتا ہے ۔اس ادارے کی قسمت میں ایسا پرنسپل پہلے کیوں نہیں آیا ؟۔میری 32 سال کی سروس میں کسی ایسے پرنسپل کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔کہ کاش کوٸ ہمارے خلوص اور جانفشانی کو ایک ادھ داد سے نوازتے ۔۔۔سنیٹینیل ماڈل سکول کا پورا سٹاف خوش قسمت ہے ان کوکام اور محنت میں مزا آنا چاہیے ۔۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
79251