Chitral Times

Apr 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محمد بن سلمان نے شاہ سعود کی یاد تازہ کر دی- تحریر: سہیل انجم نئی دہلی 

Posted on
شیئر کریں:

محمد بن سلمان نے شاہ سعود کی یاد تازہ کر دی- تحریر: سہیل انجم نئی دہلی

دنیا کی بیس طاقتور معیشتوں کے گروپ جی20 کی نئی دہلی میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس کے موقع پر جن عالمی رہنماؤں کو بہت زیادہ توجہ حاصل رہی ان میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان قابل ذکر ہیں۔ وہ واحد ایسے عالمی رہنما تھے جنھوں نے سربراہی کانفرنس کے لیے کیے جانے والے دورے کو ایک اور مقصد کے لیے استعمال کیا۔ یعنی وہ جی ٹوینٹی میں شامل ہونے والے مندوب تو تھے ہی انھوں نے اسٹیٹ وزٹ بھی کیا۔ اسٹیٹ وزٹ کسی سربراہ مملکت کا دوسرے ملک کے سربراہ کی دعوت پر کیا جانے والا سرکاری دورہ ہوتا ہے۔ اس دورے میں مہمان کا روایتی استقبال کیا جاتا ہے۔ کانفرنس نو اور دس ستمبر کو تھی اور محمد بن سلمان کا سرکاری دورہ گیارہ ستمبر کو تھا۔

 

یہ سب پروٹوکول کی نزاکتیں ہیں ورنہ کوئی بھی یہ سوال کر سکتا ہے کہ جب وہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہی تھے تو پھر باضابطہ سرکاری دورے کا کیا مطلب ہے۔ دراصل کانفرنس میں جو سربراہان مملکت شریک ہوئے وہ اسٹیٹ وزٹ پر نہیں آئے تھے۔ بلکہ وہ کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے آئے تھے۔ اسی لیے کسی بھی سربراہ کا راشٹرپتی بھون کے وسیع میدان میں روایتی استقبال نہیں کیا گیا۔ جبکہ محمد بن سلمان کا انتہائی شاندار استقبال کیا گیا۔ انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے حیدرآباد ہاؤس میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کیے۔ مذاکرات میں کیا ہوا اور دونوں ملکوں میں کیا معاہدے ہوئے اس کا ذکر آگے کریں گے۔ آئیے پہلے جی ٹوینٹی سے متعلق ایک اہم بات کا تذکرہ ہو جائے۔

کانفرنس کے دوسرے روز یعنی دس ستمبر کی صبح کو تمام مندوبین کو پہلے راج گھاٹ جا کر گاندھی سمادھی پر پھول چڑھانے تھے۔ تمام سربراہوں نے وہاں جا کر پھول چڑھائے اور وزیر اعظم مودی نے ان کے گلے میں ایک مخصوص پٹکہ ڈال کر ان کا استقبال کیا۔ لیکن ایک رہنما ایسا تھا جو نہ تو گاندھی سمادھی گیا اور نہ ہی جس نے وہاں یا کہیں کوئی پھول چڑھایا۔ وہ عالمی رہنا تھے محمد بن سلمان۔ ظاہر ہے سعودی عرب کے حکمراں کو کسی قبر پر جاکر پھول چڑھانا بھی نہیں چاہیے تھا۔ اگر انھوں نے بھی دوسرے رہنماؤں کے مانند وہاں پہنچ کر گلہائے عقیدت پیش کیے ہوتے تو پھر سعودی عرب کے اسلامی مرکز ہونے کی کیا حیثیت رہ جاتی۔ اس کے علاوہ اس پر پوری دنیا میں ہنگامہ ہو گیا ہوتا۔ خاص طور پر سعودی عرب اور وہاں کے حکمرانوں کے مخالفین کی جانب سے اس کا بڑا پروپیگنڈہ کیا جاتا کہ دیکھو خود کو موحد کہنے والے ملک کے سربراہ اور حرمین شریفین کے خادم قبر پر پھول چڑھا رہے ہیں۔ ان کا یہ عمل اچھا بھی تھا اور ضروری بھی تھا۔ اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔

 

اس واقعہ نے ہمیں 1955 میں شاہ سعود کے دورہئ ہند کی یاد دلا دی۔ اس وقت پنڈت جواہر لعل نہرو وزیراعظم اور ڈاکٹر راجندر پرساد صدر تھے۔ دہلی پہنچنے پر شاہ سعود کا شاہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ وہ ہندوستان میں سترہ روز رہے۔ انھوں نے آٹھ شہروں کا دورہ کیا تھا۔ ان شہروں میں بنارس یا وارانسی بھی شامل تھا۔ قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ وارانسی میں ہندو مذہب کے نزدیک مقدس سمجھا جانے والا دریا بہتا ہے اور وہ شہر مندروں اور مورتیوں کا شہر بھی ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے شاہ سعود کے وارانسی دورے کے موقع پر ان کے مذہبی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ان کے قافلے کے راستے میں پڑنے والے مجسموں اور مورتیوں پر پردہ ڈال کر ڈھکوا دیا تھا۔ اس واقعہ کی پوری دنیا میں بڑی شہرت ہوئی تھی۔ اسے وزیر اعظم کی وسیع القلبی سے بھی تعبیر کیا گیا تھا۔ کسی نے نہرو کے اس عمل کی مخالفت نہیں کی تھی۔ کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ انھوں نے ہمارے دھارمک بھاوناؤں کو آہت کر دیا ہے۔ اس وقت بنارس کے معروف شاعر نذیر بنارسی نے ایک شعر کہا تھا جو یوں ہے:

 

ادنیٰ سا غلام ان کا گزرا تھا بنارس سے
منہ اپنا چھپاتے تھے کاشی کے صنم خانے

 

شاہ سعود نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ میں اپنے مسلم بھائیوں کے لیے اطمینان کے ساتھ پوری دنیا سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مقدر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اب نہ نہرو وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی وہ مذہبی رواداری و فراخ دلی ہے۔ اب کسی ایک بت کو بھی نہیں ڈھکا جا سکتا۔ بلکہ اب تو غیر ملکی سربراہوں کے دورے میں بتوں اور مورتیوں کے درشن کرائے جاتے ہیں۔ اب خواہ محمد بن سلمان ہوں یا کسی مسلم ملک کا کوئی اور حکمراں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مقدر محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

 

جب محمد بن سلمان جی ٹوینٹی میں شرکت کے موقع پر ایک تقریب میں پہنچے اور امریکی صدر جو بائڈن نے ان کا ہاتھ تھاما تو وزیر اعظم مودی نے بھی بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ادھر اسٹیٹ وزٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور وزیر اعظم نے ان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کیے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کو محمد بن سلمان کی یہ پذیرائی پسند نہیں آئی۔ وہ اس موقع پر فتنہ پردازی سے باز نہیں آئے۔ مدھیہ پردیش کے ایک بی جے پی لیڈر نے وزیر اعظم مودی کی سونے کی ایک مورتی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں مودی کی سونے کی مورتی بنا کر نصب کی گئی ہے۔ یہ مجسمہ ایک نمائش میں لگا ہوا ہے اور گھوم رہا ہے۔ بی جے پی لیڈر کا دعویٰ ہے کہ ’بہت چرچا میں ہے سعودی عرب میں بنائی ہوئی مودی جی کی سونے کی مورتی کا‘۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ لوگوں کی موم سے مورتی بنتی ہے۔ لیکن مسلم ملک سعودی عرب نے مودی کی سونے کی مورتی بنوا کر لگوا دی اور یہا ں کے دیش دروہیوں کو مرچی لگ رہی ہے۔

 

لیکن ایک یو ٹیوب چینل للن ٹاپ نے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی۔ اس نے فیکٹس چیک کیے تو پتہ چلا کہ یہ سعودی عرب میں نہیں بلکہ ہندوستان میں لگی ہے اور پرانی تصویر ہے۔ دراصل مجسمے کو غور سے دیکھنے پر نظر آئے گا کہ اس پر ایک جگہ ’ویلی بیلی‘ لکھا ہے۔ گوگل پر سرچ کرنے پر پتہ چلا کہ یہ رپورٹ اخبار انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ پر بیس جنوری 2023 کو شائع ہوئی تھی۔ سورت کے ایک صراف نے 156 گرام کی مودی کی سونے کی مورتی بنائی تھی جن کا نام بسنت بوہرا ہے۔ وہ گزشتہ بیس برسوں سے ’ویلی بیلی‘ نام کی ’رادھیکا چینس‘ نامی کمپنی چلا رہے ہیں۔ مورتی کی لمبائی ساڑھے چار انچ اور چوڑائی تین انچ ہے اور یہ اٹھارہ کیرٹ سونے کی ہے۔ دینک بھاسکر نے 14 جنوری کو یہی رپورٹ چھاپی تھی۔ رپورٹ میں لکھا تھا کہ پی ایم مودی کی مورتی کی ویڈیو دو روز قبل ممبئی میں لگنے والی نمائش کی ہے۔ اے بی پی نیوز نے 21 جنوری 2023 کو رپورٹ چھاپی۔ جس میں لکھا تھا کہ بسنت بوہرا نے گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ملی شاندار کامیابی کی خوشی میں یہ مورتی بنائی ہے۔ للن ٹاپ نے بی جے پی لیڈر کے دعوے کی تصدیق کے لیے کمپنی کے مالک بسنت بوہرا سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے بتایا کہ جو دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ انھوں نے نمائش کے بعد یہ مورتی کلا مندر جویلرز کے ملن شاہ کو گیارہ لاکھ روپے میں فروخت کر دی تھی۔

 

بہرحال ہندوستان میں ایسے شرپسندوں کی کمی نہیں ہے جو جھوٹی سچی باتیں پھیلا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان اور سعودی عرب کے رشتوں کی بات ہے تو یہ رشتے تاریخی ہیں اور بڑے گہرے اور دوستانہ ہیں۔ وزیر اعظم مودی اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اقتدار میں آنے کے بعد دو بار 2016 اور2019 میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ سعودی عرب کی حکومت نے مودی کی خدمات کے اعتراف میں ان کو اپنے ملک کا اعلیٰ سول اعزاز دیا ہے۔ وزیر اعظم مودی اور ایم بی ایس کے درمیان ہونے و الے مذاکرات کے موقع پر دونوں ملکوں کے مابین پچاس سے زائد معاہدے کیے گئے۔ ادھر جی ٹوینٹی کے موقع پر ہندوستان، خلیجی ممالک اور یوروپ کے درمیان ایک اقتصادی راہداری قائم کی گئی ہے جس سے دونوں ملکوں میں مزید قربت پیدا ہو جائے گی۔ اس راہداری میں ہندوستان، امریکہ، سعودی عرب، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یوروپی یونین شامل ہیں۔

 

ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان سالانہ تجارت پانچ کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ہندوستان نے سال 2022-23 میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی برآمدات کیں اور سعودی عرب سے تقریباً چار ہزار ڈالر کی درآمد کی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں یہ تجارت دوگنی ہو گئی ہے۔ سعودی عرب میں 700 سے زیادہ ہندوستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جنھوں نے تقریباً 200 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ 1947 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے ملک کے دورے کرتے رہے ہیں۔ شاہ سعود کے دورے کے ایک سال بعد جواہر لعل نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اندرا گاندھی نے بحیثیت وزیر اعظم 1982 میں سعودی عرب کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2006 میں شاہ عبداللہ کے دورہئ ہند سے باہمی تعلقات کو نئی رفتار ملی۔ 2010 میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سعودی عرب گئے۔ 2014 میں اس وقت کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے یہاں کا دورہ کیا۔ محمد بن سلمان نے 2019 میں بھی ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت انھوں نے ملک میں 10 ہزار کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ توقع ہے کہ محمد بن سلمان کے اس دورے سے باہمی تعلقات میں مزید گرمجوشی اور قربت پیدا ہوگی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
79192