Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 69 میگاواٹ لاوی چترال  سمیت پن بجلی کے مزید پانچ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن سے مجموعی طورپر216 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔پیڈو کی سالانہ رپورٹ جاری

Posted on
شیئر کریں:

 69 میگاواٹ لاوی چترال  سمیت پن بجلی کے مزید پانچ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن سے مجموعی طورپر216 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ پیڈو کی سالانہ رپورٹ جاری

 

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کو محکمہ توانائی و برقیات کے ذیلی ادارے پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2022-23 پیش کردی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے پیڈو کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ پیڈو کے تحت زیر تعمیر بجلی گھروں کی تکمیل کو مقررہ وقت میں یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کی انرجی باسکٹ کو مزید وسعت دی جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے پانی و دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں توانائی کے جاری منصوبوں تکمیل سے نہ صرف قومی سطح پر بجلی کے بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کے ساتھ ساتھ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہوگی۔ وہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں پیڈو پالیسی بورڈ کے 13ویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

 

نگران صوبائی وزیر برائے توانائی و برقیات انجینئر احمد جان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زبیر اصغر قریشی، سیکرٹری خزانہ آیاز خان، سیکرٹری قانون شگفتہ نوید، سیکرٹری انرجی تاشفین حیدر، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو انجنیئر نعیم خان اور دیگر بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پیڈو کے کرنٹ بجٹ تخمینہ جات برائے مالی سال2023-24 اور نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2022-23 کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے شرکائکو پیڈو کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پیڈو صوبے میں سستی پن بجلی کی پیداوار کے لئے ہمہ جہت کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ پیڈو کے تحت پیدا ہونے والی بجلی سے اب تک 47 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کی گئی ہے اور کوشش ہے کہ اس آمدن میں مزید اضافہ کر کے صوبے و ملک کی معیشت کو استحکام دیا جائے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پیڈو کے تحت 162 میگاواٹ کی مجموعی استعداد کے حامل پن بجلی کے سات بڑے منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں جن سے سالانہ اربوں روپے آمدن حاصل ہوتی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پن بجلی کے مزید پانچ منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن سے مجموعی طورپر216 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

ان منصوبوں میں 84 میگاواٹ گورکن مٹلتان ہائیڈروپاور پراجیکٹ، 69 میگاواٹ لاوی چترال، 10 میگاواٹ جبوڑی، 40 میگاواٹ کوٹو اور 11 میگاواٹ کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 13.5 میگاواٹ چپڑی چار خیل اور 6.9 میگاواٹ مجاہدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ مزید برآں پیڈونے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 300میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر عملدرآمد شروع کردیا ہے جبکہ 88 میگاواٹ گبرال کالام اور 157 میگاواٹ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر بھی بہت جلد عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایاگیا کہ پیڈو نے ماحولیاتی آلودگی سے پاک توانائی کے پیداواری ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے سول سیکرٹریٹ، وزیراعلیٰ ہاوس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ صوبے کے بندوبستی اضلاع میں8000 سکولوں، 187 بی ایچ یوز اور 4000 مساجد کو بھی سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح ضم اضلاع میں 300 مساجد اور دیگر عبادت گاہوں اور 100 دیہاتوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع میں سکولوں کی سولرائزیشن، بندوبستی اضلاع میں 7000 مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ مزید برآں صوبے کے بندوبستی اضلاع میں 356 منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس فیز ون میں مکمل کر لئے گئے ہیں جبکہ فیز ٹو کے تحت 291 مزید منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے قیام پر کام جاری ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78985