Chitral Times

Sep 22, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مدت پوری ہونے میں 4 دن باقی، صدر علوی عہدہ چھوڑ دینگے یا ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے

شیئر کریں:

مدت پوری ہونے میں 4 دن باقی، صدر علوی عہدہ چھوڑ دینگے یا ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ )صدر عارف علوی کی مدت میں صرف 4 دن رہ گئے ہیں تاہم انہوں نے ابھی تک یہ ارادہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ عہدہ چھوڑ دینگے یا ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔موجودہ حالات میں صدر کے اپنے عہدے کی معیاد سے آگے کام کرتے رہنے کا سوال ایسا معاملہ ہے جو طے شدہ ہے اور ا ئین میں ایسی کوئی بات درج نہیں جس کی تشریح کرتے ہوئے صدر کو معیاد مکمل کرنے کے بعد عہدے سے ہٹانے پر مجبور کیا جا سکے۔اگر صدر اپنی مدت پوری ہونے پر از خود عہدہ چھوڑ دیتے ہیں تو ایسی صورت میں آئین میں ان کے متبادل کیلئے واضح بات موجود ہے۔ اب تک صدر نے اپنا ارادہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں گے یا کام کرتے رہیں گے۔صدر علوی کی پانچ سالہ مدت ملازمت 9 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 44(1) کے مطابق، صدر عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے لیکر پانچ سال کی مدت کیلئے عہدے پر کام کرتے رہیں گے اور مدت ختم ہونے کے بعد جب تک ان کے جانشین کا انتخاب نہ ہو جائے اس وقت تک وہ اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔

 

نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ، میری ریٹائرمنٹ سے قبل سنائیں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسے چیف جسٹس نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل سنانے کا اعلان کر دیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ نے نیب ترامیم کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔چیف جسٹس نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں، ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکارڈ پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟جسٹس منصور نے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہے،اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کیخلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پرسزائیں موجود ہیں۔جسٹس منصور نے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اورعوامی عہدیداروں کیخلاف بھی موجود ہیں، کیا کرپٹ آرمی افسرکا عوام سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسرفوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہوتونیب قانون کی زد میں آتا ہے۔جسٹس منصور نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو کہہ سکتی ہے کہ آپ نے چالاکی اوربدنیتی پر مبنی قانون بنایا؟ سپریم کورٹ کے پاس اگر پارلیمنٹ کی قانون سازی چھیڑنے کا اختیار نہیں تو اس کے ساتھ چلنا ہو گا، اس پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ پارلیمنٹ کو سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں، پارلیمنٹ ماضی سے اطلاق کا قانون بنا کرجرم ختم نہیں کر سکتی، ایسے تو 1985 میں سزا پانے والا مجرم آکرکہے گا،میری سزا نہیں رہی اور دوبارہ ٹرائل کرو۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب قانون کو واضح ہونا چاہیے تھا، جب قانون واضح نہ ہو تو اس کا حل کیا ہوتا ہے؟ کیا مبہم قانون قائم رہ سکتا ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب سوموٹو نہیں لیتے۔بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث اور وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرلیے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میری ریٹائرمنٹ قریب ہے اور ریٹائرمنٹ سے قبل نیب ترامیم کیس کا فیصلہ سنائیں گے۔


شیئر کریں: