Chitral Times

May 20, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینیٹ کا 23 واں اجلاس، چیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن کی خصوصی شرکت

شیئر کریں:

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینیٹ کا 23 واں اجلاس، چیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی خصوصی شرکت
سینیٹ اجلاس میں ممبران کا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم وتحقیق کو مزید بہتر بنانے سمیت درپیش مالیاتی چیلنجز سے نکالنے کے لیے بھرپور کردارا دا کرنے کا اعادہ۔
سینیٹ اجلاس میں ممبران کا مالیاتی بحران کے باوجود یونیورسٹی کوبہترین انداز میں چلانے پر وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کے کردارکی تعریف۔

اسلام آباد (چترال ٹایمزرپورٹ) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سینیٹ کا 23 واں اجلاس زیر صدار ت چیئرمین سینٹ ڈاکٹر سید محمد جنید زیدی منعقد ہوا۔ ڈائریکٹرریٹ آف پبلک ریلیشنز کے مطابق اجلاس میں چیئر مین ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر مختار احمد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ان کے ہمراہ وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ سمیت سینیٹ کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیا ل کرتے ہوئے چیئر مین ہائیرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر مختار احمدنے خطے میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش موجودہ مالیاتی چیلنجوں بارے میں اظہار خیال کیا۔انہوں نے کہاکہ ہائیرایجوکیشن کمیشن آفس پاکستان کی مختص رقم 2018 سے پچھلے 5 سالوں سے جمود کا شکار ہے۔ جس کے بدولت پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو مشکل وقت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو یونیورسٹیوں اور ان کے ذیلی کیمپسز کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سب کیمپس ان کی درخواست پر قائم کیے گئے تھے۔

 

انہوں نے غیر ترقیاتی اخراجات اور اضافی الاؤنسز کو معقول بنانے پر بھی زور دیا تاکہ تنخواہوں کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے مطابق بنایا جائے۔ اس سے قبل چیئرمین سینیٹ ڈاکٹر سید محمد جنید زیدی نے چیئر مین ایچ ای سی کو خوش آمدید کہا اور یونیورسٹی کو درپیش مالیاتی چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام ممبران کے تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں وائس چانسلر KIUپروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے اپنی قلیل المدتی وطویل المدتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہگلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ مشترکہ طور مختلف تعلیم وتحقیقی امور پر کام کو تیز کر دیا گیا ہے اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نیقراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو تین سطحوں پر مکمل سپورٹ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وائس چانسلر نے کہاکہ ان تین سطحوں میں حکومت گلگت بلتستان قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو ٹریننگ ریسرچ اور کنسلٹنسی میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ پروجیکٹس میں شامل کرے گی۔ انڈومنٹ فنڈ کو مضبوط بنانے کے لیے ہر سال خصوصی گرانٹ دے گا اورگلگت بلتستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ سے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ضرورت مند اور ہونہار طلباء کو وظائف مختص کرے گا۔ چیئرمین ایچ ای سی،چیئرمین سینیٹ و دیگر ممبران نے وائس چانسلر کے پیش کردہ بہترین منصوبے کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام فیکلٹی مینجمنٹ اور عملے کو وائس چانسلر کے وڑن کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یونیورسٹی گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔

 

اجلاس میں چیئرمین سینیٹ نے مشورہ دیا کہ قراقرم انٹرنیشنل کی بہترین کارکردگی اور مالی استحکام پیدا کرنے پر غور کرنے کے لیے تمام قانونی اداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ اور یہ بھی طے پایا کہ اگلا اجلاس قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہوگا اور اجلاس میں یونیورسٹی کا بجٹ اور جامعہ کو استحکام بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیاجائے گا۔اجلاس میں کہاگیاکہ 10 ستمبر کو یونیورسٹی میں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے اجلاس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس لیے سینیٹ کا اجلاس ستمبر،اکتوبر میں شیڈول کیا جا ئے گا۔ اجلاس میں ہائیرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جامعہ میں اساتذہ کی تعداد بڑھانے پر روشنی ڈالی گئی تاکہ ماہرین تعلیم کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ جس پر وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی نے وضاحت کی کہ جامعہ میں موجودہ خالی اسامیوں کو استعمال کیا گیا ہے او ر نئے اسامیوں کی تخلیق پر پابندی کی وجہ سے 2018 سے کوئی نئی اسامی تخلیق نہیں کیا گیا ہے۔ جس پر اجلاس میں یونیورسٹی سینئر ڈین ڈاکٹر خلیل احمد کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جو شعبہ جات کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی اسامیوں کی تخلیق کا جائزہ لیں۔جس کے بعد ان اسامیوں سے متعلق وفاقی محکمہ خزانہ سے این او سی لیا جایگا۔

 

اجلاس میں سینیٹ کے ممبران نے یونیورسٹی کے معیار اور مالیات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز اور سفارشات بھی پیش کیں۔ چیئر میں سینیٹ نے ممبران کے تجاویز کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ KIU سینیٹ ایک اعلیٰ ادارہ ہے اور پالیسی اور وڑن پر منحصر معاملات پر غور کیا جانا چاہیے جس سے یونیورسٹی کو بہترین کارکردگی کے بنیاد پر ملک کے ٹاپ ٹین میں شامل کروایا جا سکے۔ انہوں نے ان مقاصد کے حصول کے لیے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کوہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔اجلاس میں سینیٹ ممبر عائشہ خورشید نے کہاکہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے امیج اور مالیات کو بہتر بنانے کے لیے جامعہ کے سابق طلباء کے وسائل کو متحرک کیاجاناچاہیے۔ اجلاس میں سینیٹ کے ممبرو سیکرٹری ہائر ایجوکیشن گلگت بلتستان احسان علی نے بھی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی بہتری کے لیے اپنی تجاویز دیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی درخواست پر قائم کیے گئے ذیلی کیمپسز کے حوالے سے خصوصی حوالوں کے ساتھ جی بی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس میں سینیٹ ممبران ڈاکٹر صادق حسین اور ڈاکٹر شمیشم آرا شمس نے فیکلٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے فیکلٹی کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ جس میں فیکلٹی کے کیریئر کی ترقی پر توجہ کے بارے میں بتایا۔ اپنے اختتامی کلمات میں چیئر سینیٹ اوردیگر سینیٹ کے ممبران نے ملک میں موجودہ مالیاتی بحران میں یونیورسٹی کو مشکل ترین وقت سے نکالنے کے لیے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے بہترین کارکردگی کے حصول کے لیے اچھی بین الاقوامی اور قومی فیکلٹی کو ترغیب دینے اور برقرار رکھنے پر زور دیا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
78462