Chitral Times

Sep 21, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

شیئر کریں:

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ)چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہو گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی سزا معطلی درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز میں بیرسٹر علی ظفر نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اْمید ہے کہ آج تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ ہو جائے گا۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی مخالفت کر دی۔وکیل امجد پرویز نے مختلف قوانین اور عدالتی فیصلوں کے حوالے پیش کیے۔الیکشن کمیشن وکیل نے کہا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو بھی پہلے نوٹس کیا جانا ضروری ہے۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ شکایت تو الیکشن کمیشن نے فائل کی تھی ریاست نے نہیں، ٹرائل کورٹ میں آپ نے یہ بات نہیں کی، آپ پہلی بار یہ کہہ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے بھارتی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی کو پرائیویٹ کمپلینٹ میں 2 سال کی سزا ہوئی، راہول گاندھی نے سزا معطلی کی درخواست دائر کی جو خارج کر دی گئی، عدالت نے فیصلہ دیا کہ سزا معطل کرنا کوئی ہارڈ اینڈ فاسٹ رول نہیں، استدعا ہے کہ اسٹیٹ کو نوٹس جاری کیا جائے، اسٹیٹ کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، راہول گاندھی کیس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو سننا ہے یا نہیں، بھارتی قانون میں دفعات ہم سے زیادہ لچکدار ہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے ظہور الہٰی کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں ابھی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر ہی نہیں رہا، پہلے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس کیا جانا لازم ہے، پرائیویٹ کمپلینٹس سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے 5 فیصلے جمع کرا رہا ہوں۔چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، کچھ فیصلوں کے حوالے دینا چاہتا ہوں۔

 

وکیل لطیف کھوسہ نے نواز شریف کی سزا معطلی کا حکم بحال رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایک گھنٹہ اس دن لیا، 2 گھنٹے آج لے گئے۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں کوئی ایسا سیکشن نہیں پڑھوں گا جو نیا ہو، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بھی دو بار یہاں اور ایک بارسپریم کورٹ میں دلائل دے چکے ہیں، انہوں نے الیکشن کمیشن اور سیشن جج کو ولن بنایا ہوا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ابھی وہاں مت جائیں، سزا معطلی پر ہی دلائل جاری رکھیں، جسٹس کھوسہ نے کہا تھا ٹیسٹ میچ کا زمانہ چلا گیا اب ٹی ٹوئنٹی کا دور ہے، لطیف کھوسہ صاحب نے بڑے شائستہ انداز میں کہا کہ مختصر کریں۔وکیل امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کے لیے 3 دن لیے، انہوں نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو مشقِ ستم بنا رکھا ہے۔

 

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، چھوڑ دیں اْس طرف نہ جائیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ انہوں نے 6 نکات اٹھائے مجھے ان کا جواب دینا ہے، انہوں نے بیانیہ بنا دیا ہے کہ یہ کوئی پہلا کیس ہے جس میں ملزم کو حقِ دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کے لیے اجازت نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا، درحقیقت سیکریٹری کمیشن نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ہی شکایت دائر کرنے کی اجازت دی، الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے آفس کو شکایت دائر کرنے کا کہا کسی مخصوص شخص کو نہیں، آپ کی دلیل اپنی جگہ لیکن سیکریٹری کمیشن نے خود کو متعلقہ شخص کیسے سمجھا؟ کمپلینٹ دائرکرنے کے لیے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کیوں کہا؟

 

توشہ خانہ کیس سپریم کورٹ میں کل سماعت کے لیے مقرر

اسلام آ باد(سی ایم لنکس) توشہ خانہ کیس سپریم کورٹ میں کل سماعت کے لیے مقرر ہو گیا، تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا، پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔3 رکنی بینچ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل پر سماعت کرے گا۔

 

چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی اٹک جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل نے چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولیات پر رپورٹ جمع کرائی۔اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں رپورٹ جمع کرائی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جسٹس مظاہر اور جسٹس مندوخیل کے چیمبرز میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 24 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل سہولیات پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔


شیئر کریں: