Chitral Times

May 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جولائی میں ہونے والی نیب ترامیم مشکوک ہیں، سپریم کورٹ

Posted on
شیئر کریں:

جولائی میں ہونے والی نیب ترامیم مشکوک ہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ )چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جولائی میں ہونے والی نیب ترامیم مشکوک ہیں۔سپریم کورٹ میں لیگی رہنما جاوید لطیف کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے حکم کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس میں نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے مطلع کرنے کا فیصلہ خلافِ قانون ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جاوید لطیف کا مقدمہ انکوائری کی سطح پر تھا، جس میں گرفتاری نہیں ہوسکتی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 3 جولائی 2023ء کی ترمیم کے بعد انکوائری کے دوران بھی گرفتاری ہو سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نیکہا کہ جولائی میں ہونے والی نیب ترمیم مشکوک ہے۔ 3 جولائی کو کی گئی نیب ترامیم عدالتی فیصلوں کے متصادم ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سوال جواب کے لیے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟۔ نیب قانون 2001ء تک ڈریکونین تھا۔ نیب قانون میں ریمانڈ کا دورانیہ کم کرنے اور ضمانت دینے کی ترامیم اچھی ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب قانون کی تشریح عدالتی فیصلوں اور آئین کے تناظر میں ہی ہوسکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کے خلاف نیب کی اپیل خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کا حکم 3 جولائی کی ترمیم سے پہلے کا ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر رضوان ستی نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا چھوڑیں جی ان باتوں کو۔

 

جج، صحافی اور ہر انسان کو ہی سچ بولنا چاہیے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جج، صحافی اور ہر انسان کو ہی سچ بولنا چاہیے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام قوانین کا مقصد سچ سامنے لانا ہی ہے اور انصاف سچ کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ آنے پر کوئی بھی فریق کہہ سکتا ہے کہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا۔ جھوٹ، سچائی اور رائے میں فرق ہے۔ میں آپ کے سچ سے انکار نہیں کرسکتا، خبر اور رائے میں فرق آپ لوگ بھول جاتے ہیں۔ ایک سچائی ہوتی ہے اور ایک رائے ہوتی ہے۔ رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، سچ سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صحافت میں واقعہ تو کوئی بھی بتا دے گا، ایک ہوتی ہے تحقیق، صحافی رائے کم دے اور تحقیق کرلے اور اگر رائے دے تو بتائے یہ رائے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا میڈیا اب بہتر ہو رہا ہے، دنیا میں اپنی رائے پر مبنی آرٹیکل لکھنے والے صحافی نہیں ہوتے، کیمرہ اٹھانا یا فون اٹھانا یا کسی بھی میڈیا ہاؤس سے منسلک ہو جانا کسی کوصحافی نہیں بنا سکتا، کسی کو بھی رپورٹنگ کے لیے بھیج دیں تو وہ آکر بتا دے گا کہ آج کیا ہوا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ صحافی کی تعریف میں تھوڑا فرق ہوتا ہے، جب رائے دینا ہو تو اس میں آئین و قانون کو دیکھنا ہوتا ہے، خود دیکھ کر رپورٹ کرنا الگ اور سنی سنائی بات آگے پہنچانا الگ بات ہے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم? سے پوچھا گیا کہ مومن جھوٹا ہو سکتا ہے یا نہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ نہیں۔ سچ کی اہمیت اسلام سے پہلے بھی تھی، انجیل میں ہے کہ سچ آزاد کرتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں آزاد صحافت کا ذکر ہے، صحافی کا مطلب ہے جو سچی خبر پہنچائے، صحافی کے پاس سپریم کورٹ اور حکومت سمیت تمام اداروں سے معلومات لینے کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ سچ بتانا صحافی کی ذمے داری ہے، اکثر صحافی سچ اور اپنی رائے کو ایک ساتھ ملا دیتے ہیں، صحافی کو اپنی رائے کی وضاحت کرنی چاہیے، لوگوں کو پتا ہونا چاہیے کہ خبر ہے یا صحافی کی رائے ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ صحافی وہ ہے جو تحقیقات کے بعد خبر دے، کسی کی بتائی ہوئی بات کو بغیر تحقیق آگے نہیں بڑھانا چاہیے، جو عدالت میں موجود ہی نہ ہو اور کسی کی سنی سنائی بات چلا دے تو یہ صحافت نہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78211