Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

توشہ خانہ کیس؛ بادی النظرمیں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا، چیف جسٹس

Posted on
شیئر کریں:

توشہ خانہ کیس؛ بادی النظرمیں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا، چیف جسٹس

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے توشہ خانہ کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ بادی النظرمیں ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں فیصلہ دیا جو درست نہیں تھا اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں خامیاں ہیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کیخلاف عمران خان کی اپیل پر سماعت کی۔وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیے کہ ٹرائل کورٹ نے 3سے4 مرتبہ کیس میں وقفہ کیالیکن ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، پھر سیشن کورٹ نے فیصلہ کردیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ٹرائل کرنے میں اتنی جلدی کیا تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گواہان پیش کرنے کیلئے وقت نہیں دیا گیا، بادی النظرمیں ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں فیصلہ دیا جو درست نہیں تھا، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بادی النظر میں خامیاں ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابھی اس معاملے میں مداخلت نہیں کررہے، کل ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، ہم پرسوں کیس سنیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کارروائی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

 

چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں وکلاء کی ملاقات کرانے کی استدعا منظور، تحریری حکمنامہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی سزا کے خلاف اپیل اور سزا معطلی کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں وکلاء کی ملاقات کرانے کی استدعا بھی منظور کر لی گئی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جیل اتھارٹیز بابر اعوان اور لطیف کھوسہ کو اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دیں، بابر اعوان کو آج ایک سے 3 بجے تک سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ لطیف کھوسہ کی چیئرمین پی ٹی آئی سے 2 بجے ملاقات کرائی جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ سزا معطلی درخواست پر دلائل کے لیے الیکشن کمیشن کے وکیل نے 2 ہفتوں کی مہلت طلب کی، اپیل کنندہ کے وکلاء ے تیاری کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت دینے کی سختی سے مخالفت کی، انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے وکیل کو وقت دیا جاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل اور سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 24 اگست کو ہو گی۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78205