Chitral Times

May 28, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اب بھی وقت ہے – از: کلثوم رضا

شیئر کریں:

اب بھی وقت ہے – از: کلثوم رضا

موج بڑھے یا اندھی آئے دیا جلائے رکھنا یے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو اخر اپنا ہے۔۔۔

سوشل میڈیا ہر خبر کو جلد بلکہ بہت جلد اپنے صارفین تک پہنچاتی ہے۔ سچ ہو چاہے جھوٹ ۔۔۔جتنی خیر پھیلائی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ شر پھیلایا جا تا یے۔۔۔
کبھی کوئی کہتا ہے کہ “علامہ محمد اقبال پاکستان بنانے کے خلاف تھے” ،کوئی کہتا ہے کہ “قائد اعظم محمد علی جناح اس ملک کو ایک سیکولر ملک بنایا تھا،بعد میں مذہب کے ٹھیکیداروں نے اسے اسلامی بنانے کی کوششیں کیں”۔

کوئی کہتا یے کہ “پاکستان بنانے میں جتنی قربانیوں کا ذکر ہے اس سے کہیں ذیادہ ناروا سلوک پاکستان حاصل کرنے والوں نے ہندوؤں ،سیکھوں اور یہاں سے جانے والے انگریزوں کے ساتھ کیا”۔

اور کوئی کہتا ہے کہ “پاکستان بنانے والوں نے اسے اپنے چند مقاصد کے لیے بنائے تھے۔اس میں پاکستانی عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔یہ صرف سیاسی تجارت ہے”۔اور تو اور اب سکولوں میں بھی معاشرتی علوم کا پریڈ استاد بچوں اور بچیوں کو یہ پڑھانے میں گزارتا ہے کہ “جو اس کتاب میں لکھا گیا ہے اور پڑھایا جاتا رہا ہے سب جھوٹ ہے۔نہ ہی پاکستان کبھی اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا نہ ہے ۔یہ ایک سیکولر ملک تھا اور ریے گا۔۔”
خدا ناخواستہ ۔۔
جانے یہ کون لوگ ہیں
” جو ہم ہی میں رہ کر ہمارے گھر کو جلا رہے ہیں۔۔”
جو ہماری نسلوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔انہیں اپنے وطن سے بیزار کر رہے ہیں ,اذاد ملک اور اذادی سے لا تعلق بنا رہے ہیں۔

پچھلے سال میں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سٹیٹس لگائی جس میں “کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ تھا تو فوراً ایک صاحب نے مسیج کیا “کیوں اسے مصیبت میں ڈال رہی ہو اس سے اچھا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ مل جائے دو وقت کی روٹی اسے اسانی سے مل جائے گی”۔

اب دو روز پہلے کسی نے سٹیٹس لگایا کہ “اب بھی وقت ہے ملک کو گوروں کے حوالے کرتے ہیں”۔میں نے کہا کہ “یہ کیا۔۔ پھر سے غلامی کی تدبیریں”؟۔تو کہا کہ “اب ہم کون سے آزاد ہیں ،اس سے تو بہتر ہو گی گوروں کی غلامی “۔
یہ سب نا امیدی کون پھیلا رہا ہے؟

کل ہی میرا بیٹا کہہ رہا تھا کہ فیس بک پر دیکھایا گیا ہے کہ واہگہ بارڈر فلیگ مارچ دیکھنے پاکستانی نہیں جاتے اور بھارت سے بہت سارے لوگ آتے ہیں ۔
اس یوم آزادی کے موقع پر ایسے دلخراش واقعات اور پیغامات ملتی ہیں کہ الامان ۔
زرا سوچیں یہ سب قوم کا حوصلہ پست کرنے اور عوام میں ناامیدی پھیلانے کی سازشیں ہو سکتی ہیں۔ایسے میں تصویر کا ایک رخ دیکھ کر اسی پر اکتفاء نہیں کرنی چاہیئے بلکہ دونوں رخ اپنے آنکھوں سے دیکھ لینی چاہیئے ۔

حالات چاہے جیسے بھی ہوں مگر ہم نے اپنی آزادی کے دن کو آزاد قوموں کی طرح اپنے اسلامی اقدار کے مطابق شکرانے کے نوافل پڑھ کر منانی چاہیئے ۔
ازادی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر کوئی جاکے کشمیریوں اور فلسطینیوں سے پوچھے،بنگال کے بے بس بہاریوں سے پوچھے ،جا کے شامیوں سے پوچھے،اور کوئی جا کے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے پوچھے کہ آزادی کیا شے ہے؟
یہ سب ہماری ذہنی غلامی کا نتیجہ ہے جو خوف اور ناامیدی کو اپنے اوپر مسلط کر رہے ہیں ۔مسلمان کبھی نا امید اور بزدل نہیں ہوتا۔۔ہر رات کے بعد سویرا ہے یہ میرے آللہ کا فرمان ہے۔

 

کبھی مایوس مت ہونا
اندھیرا کتنا گہرا ہو
سحر کی راہ میں حائل
کبھی بھی ہو نہیں سکتا
سویرا ہو کے رہتا ہے
کبھی مایوس مت ہونا،

 

میں تو کہتی ہوں
” اب بھی وقت ہے” مایوسی اور ناامیدی سے نکل جائیں۔
ابھی بھی وقت ہے ملک کو گوروں کے حوالے کرنے کے بجائے ان کے دئے ہوئے کلچر سے آزادی حاصل کر لیں ۔
“اب بھی وقت ہے”اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتے ہوئے مضبوط قوت ارادی سے قرآن پاک کو رہنما بنا لیں۔
“اب بھی وقت ہے”اس ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے،اپنی پہچان اور روشن مستقبل کے لیے زمام کار صالحین کے ہاتھ میں دے کر صالحیت کی ترویج کے لیے کوشاں ہو جایئیے ۔پھر دیکھیں یہ سازشیں ،یہ مایوسیاں کیسے اپ سے دور بھاگیں گی۔۔
چلو

 

اِک نظم لکھیں
اے اَرضِ وطن آ تیرے لیے اِک نظم لکھیں
تِتلی کے پَروں سے رَنگ چنیں
اِن سازوں سے آہنگ چنیں
جو رُوح میں بجتے رہتے ہیں
اور خواب بُنیں ان پھولوں کے
جو تیری مہک سے وابستہ
ہر آنکھ میں سجتے رہتے ہیں
ہر عکس ہو جس میں لاثانی
ہم ایسا اِک اَرژنگ چُنیں
اور نظم لکھیں…!
وہ نظم کہ جس کے حرفوں جیسے،
حرف کسی ابجد میں نہیں
وہ رنگ اتاریں لفظوں میں،
جو قوسِ قزح کی زد میں نہیں
اور جس کی ہر اک سطر میں،
خوشبو ایسی لہریں لیتی ہو،
جو وہم و گماں کی حد میں نہیں
اور جب یہ سب انہونی باتیں،
ان دیکھی، ان چھوئی چیزیں
اک دوجے میں مل جائیں تو نظم بنے
اے ارض وطن وہ نظم بنے،
جو اپنی صِفَت میں کامل ہو
جو تیرے روپ کے شایاں ہو،
اور میرے ہنر کا حاصل ہو!
اے ارضِ وطن اے ارضِ اماں
تو شاد رہے، آباد رہے
میں تیرا تھا، میں تیرا ہوں
بس اتنا تجھ کو یاد رہے
‘اس کشت ہنر میں جو کچھ ہے’
کب میرا ہے!
سب تجھ سے ہے، سب تیرا ہے
یہ حرف و سخن، یہ لوح و قلم
سب اڑتی دھول مسافت کی
سب جوگی والا پھیرا ہے
سب تجھ سے ہے، سب تیرا ہے
سب تیرا ہے
…امجد اسلام امجد
پاکستان پائندہ باد


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
77832