Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لٹنے والے سنار کی غیر سیاسی کہانی – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

لٹنے والے سنار کی غیر سیاسی کہانی – محمد شریف شکیب

سیاست اور سیاسی باتوں سے لوگوں کا دل بھر گیا ہے۔ آج ہم اپنے قارئین کو ایک کہانی سناتے ہیں۔ کہانی حقیقت پر مبنی ہے یہ مکمل طور پر غیر سیاسی ہے اگر کسی کو اس کہانی کا پس منظر سیاسی لگے تو یہ محض اتفاق ہوگا۔ایک شہر میں نہایت چالاک ،شاطر اور ماہر چور رہتا تھا اس نے چوری کی خاطر،مہنگا لباس زیب تن کرکے نہایت معزز دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر داخل ہوا۔سنار نے جب اپنی دکان میں رئیس شیخ کو دیکھاتو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں۔اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔اسے بڑی عزت سے کرسی پر لاکر بٹھا دیا۔شیخ کے بہروپ میں چور نے سنار سے کہاآپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

 

سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیااور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کی درخواست کی۔سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا۔اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم و فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے،کثرت علم ،دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب۔میں معافی کا طلبگار ہوں میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں۔اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔

شیخ نے سنار سے کہا۔ کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جس کا تم نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیااسے بوسہ دیا۔آنکھوں سے لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھاتو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گر گیا۔موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیخ اور اس کی ساتھی لڑکی نے سنار کی دکان کو لوٹا اور وہاں سے رفو چکر ہوگئے۔جب سونار کوہوش آیا تواس نے دیکھا کہ وہ لٹ چکا ہے۔اس واقعے کو چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔سنار نے کہا۔کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کی واردات کی تھی ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس طرح دکان میں داخل ہوا بعد میں میری مددگار لڑکی آئی اس نے دکاندار سے فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔

پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا،شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔سوشل میڈیا پر یہ کہانی پڑھ کر لوگوں نے خواہ مخواہ اسے سیاسی رنگ دینا شروع کیا ۔کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے۔ہر چند سال بعد چور بھیس بدل کر ہمارے پاس آتے ہیں۔نادیدہ قوتیں پھر سب کچھ دہرانے کا کہہ کر الیکشن کرواتی ہیں اور چور ووٹ ووٹ کھیل کر عوام کو پھر سے چونا لگا کر اپنے ساتھیوں سمیت پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ہر دفعہ ایک نیا منظر، نیا لباس، نیا بہروپ ، نئی شکل اور نیا حربہ ازمایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سادہ لوح عوام دھوکہ کھا کر اعتبار کرلیتے ہیں اورآخر میں ساتھیوں اور ھمدردوں سمیت نکلتا وہی چور ہے۔قارئین کرام کو اگر یہ غیر سیاسی کہانی پسند آجائے تو اگلی بار کوئی نئی غیر سیاسی کہانی لےکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
77801