Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ نگرانوں پر نگرانی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

داد بیداد ۔ نگرانوں پر نگرانی ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اسمبلیوں کی تحلیل کا کا م مکمل ہونے کے بعد چند دنوں میں نگران حکومتیں آنے والی ہیں یہ بہت خو ش آئیند بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے نگران حکو متوں میں سیا ست دانوں اور سیا سی تقاریر جھاڑ کر تا لیاں بجوا نے والوں کی شمو لیت پر پا بندی لگا ئی ہے اس حکم کے تحت نگران حکو متوں میں پڑھے لکھے، تجربہ کار اور اچھی شہرت کے ریٹائرڈ افیسر وں کے علا وہ صحا فی، وکلا اور سول سو سائیٹی کے نیک نا م لو گ آئینگے کم از کم تین مہینوں کے لئے عوام کو صاف ستھری حکومت ملے گی یہاں تک ”سب اچھا“ ہے آگے ایک خدشہ جنم لے رہا ہے خد شہ یہ ہے کہ اگر سابقہ حکومتوں کی دیکھا دیکھی نگران حکومتوں میں بھی 60وزراء اور 40معا ونین خصو صی بھر تی کئے گئے

 

تو صاف ستھری انتظا میہ کا خواب چکنا چور ہو جا ئیگا ووٹ کے بعد ہمارے ہاں سیا ست دانوں کی جو حکومت آتی ہے اس کی دو بڑی مجبو ریاں ہو تی ہیں پہلی مجبوری یہ ہو تی ہے کہ جن لو گوں نے الیکشن میں دو چار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی ان کو اپنا سرمایہ بمعہ منا فع واپس لینے کے لئے وزارتیں دینے کی ضرورت ہوتی ہے دوسری مجبوری یہ ہے کہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو وزارت دیکر آنے والے الیکشن کے لئے دس بارہ ارب روپے جمع کرنے کا موقع دینا ہوتا ہے دونوں مجبوریاں ایسی ہیں کہ وزیر یا معاون خصو صی بھر تی کئے بغیر سرکاری خزانے سے پیسہ نکالنا ممکن نہیں اس وجہ سے 96بندوں کی کا بینہ وجود میں آتی ہے قوم اور ملک کا بیڑہ غرق ہوجا تا ہے نگران حکومت میں اگر بے داغ ما ضی اور اجلے دامن والے لو گ آگئے تو ایسی کوئی مجبوری نہیں ہو گی اس لئے منا سب اور معقول تجویز یہ ہے کہ وفاقی کا بینہ کا حجم 12وزیروں سے زیا دہ نہ ہو، صو بائی کا بینہ میں و زیروں کی زیا دہ سے زیا دہ تعداد 15ہونی چاہئیے یہ گڈ گورننس اور اچھی نظم و نسق یا نقائص سے پا ک انتظا میہ کے لئے لا زم ہے ہمارے سیاست دانوں نے وزیر وں اور معا ونین خصو صی کی بھر تی کے لئے وفاقی وزارتوں اور صو بائی سطح کے محکموں میں توڑ پھوڑ کر کے ایک وزارت یا محکمے کو تین یا چار وزارتوں یا محکموں میں تقسیم کر دیا ہے دوسرے ملکوں کے لو گ خبروں میں ہمارے وزیروں کے محکمے دیکھ کر حیراں ہوجا تے ہیں غیر ملکی اخبار نویس ہمارا مذاق اڑا تے ہیں

 

جب وہ دیکھتے ہیں کہ قانون کا الگ وزیر ہے پارلیمانی امور کا الگ وزیر ہے انسا نی حقوق کا الگ وزیر ہے اسی طرح صو بائی سطح پر آکر ما حولیات کا الگ وزیر ہے جنگلات کا الگ وزیر ہے، جنگلی حیات کا وزیر کوئی اور ہے مزید ستم ظریفی دیکھئے فشریز یعنی ما ہی پروری کا وزیر کوئی اور ہے اس حساب سے پھر معاونین خصو صی بھر تی کئے گئے ہیں یہ لوگ کسی کام میں خصو صی معاونت کرتے ہیں؟ یہ بات اب تک سر بستہ بلکہ سر بمہر قسم کا راز ہے فرنیچر، دفاتر، سٹیشنری اور گاڑیوں کی مد میں مقروض قوم کے خا لی خزانے سے جو فضول اخراجات ہوتے ہیں ان کا رونا ہم نہیں روتے جس چیز کا رونا ہم روتے ہیں وہ دفتری نظام کی تبا ہی اور نظم ونسق کی بر بادی ہے

 

چند سال پہلے فشریز کے وزیر نے دفتر میں آکر اپنے سکرٹری سے کہا قائد اعظم کی تصویر اتار کر میری تصویر لگاؤ اب اس محکمے کا وزیر میں ہوں، یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ جنگلی حیات کے وزیر کو مارخور وں کے جنگل کی سیر کرائی گئی تو اس نے فائر کر کے تین مار خور مار گرائے جب واچر نے کہا سر یہ غلط کام ہوا تو اُس نے کہا کیوں کیا غلط ہوا، میں اس محکمے کا وزیر ہوں یہ میرا حق ہے میرا پکا اختیار ہے دوسرے افیسران نے مدا خلت کر کے واچر کو چپ کرایا اور بعد میں اُسے نو کری سے معطل کر کے گھر بھیجدیا ایسی مثا لوں کی کوئی کمی نہیں اس لئے منا سب بات یہ ہے کہ نگرانوں پر بھی نگران بٹھا یا جا ئے اور نگران کا بینہ کو مختصر کر کے وزا رتوں اور محکموں پر ایک بار پھر عدالتی قدغن لگا کر ان کو 1985ء سے پہلی والی سطح پر لایا جا ئے تا کہ آنے والے لو گ ان کی توڑ پھوڑ نہ کر سکیں اور آئیندہ کے لئے کا بینہ کا حجم 12یا 15وزیر وں سے زیا دہ نہ ہو


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
77798