Chitral Times

Sep 22, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امریکی میڈیا میں چیئرمین پی ٹی آئی حکومت سے متعلق سائفر لیک

شیئر کریں:

امریکی میڈیا میں چیئرمین پی ٹی آئی حکومت سے متعلق سائفر لیک

واشنگٹن(چترال ٹایمزرپورٹ) امریکی میڈیا نے چیئرمین پی ٹی آئی حکومت سے متعلق مشہور زمانہ سائفر کو افشا کردیا۔امریکی ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ نے سائفر کے متن کو شائع کرتے ہوئے خبر میں لکھا کہ اس سائفر سے چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے کے پیچھے امریکی دباؤ کارفرما نظر آتا ہے کیونکہ امریکی سفارت کار نے یہ بیان دیا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو سب کچھ معاف کردیا جائے گا۔دی انٹرسیپٹ کے مطابق امریکی دفتر خارجہ نے روس یوکرائن جنگ کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے کی حمایت کی تھی۔رپورٹ کے مطابق یوکرائن پر حملے کے بعد وزیراعظم کی جانب سے روس کا دورہ کرنے پر امریکا ناراض ہوگیا تھا۔ سائفر سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ امریکا نے چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے پر تعلقات میں بہتری کا وعدہ کیا اور نہ ہٹانے پر تنہا کرنے کی دھمکی دی۔امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید نے اسلام آباد میں دفتر خارجہ کو سفارتی مراسلہ ارسال کیا تھا، جس کے بارے میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس میں ان کی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا ذکر ہے۔امریکی ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ نے مبینہ سائفر کے مندرجات شائع کردیے کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے بھی شرکت کی۔ڈونلڈ لو نے کہا کہ یہاں امریکا اور یورپ کے لوگ یوکرائن جنگ میں پاکستان کے اتنا زیادہ غیرجانبدارانہ مؤقف اختیار کرنے پر شدید پریشان ہیں یہاں تک کہ ہمیں تو یہ غیر جانبدارانہ مؤقف بھی نہیں لگتا۔ڈونلڈ لو نے یوکرائن جنگ میں وزیراعظم عمران خان کی پالیسی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی امریکی قومی سلامتی کونسل میں خفیہ بات چیت ہوئی ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح طور پر وزیراعظم کی پالیسی نظر آرہی ہے۔ملاقات میں موجود پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے امریکی حکام کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن پر پاکستان کا مؤقف حکومتی اداروں کے درمیان مکمل مشاورت کے بعد ہی طے پایا ہے۔ڈونلڈ لو نے واضح طور پر امریکا کے شدید ردعمل کی وجہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو امریکا سب کچھ معاف کردے گا کیونکہ ہمارے خیال میں دورہ روس خاص طور پر وزیراعظم کا فیصلہ ہی لگتا ہے، وگرنہ آگے چلنا مشکل ہوگا۔سائفر کے مطابق ڈونلڈ لو نے کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو مغربی اتحادیوں کی جانب سے پاکستان کو تنہا کردیا جائے گا اور یورپ میں بھی ایسا ہی سلوک ہوگا، تو امریکا اور یورپ کی ناراضگی مول لے کر کیا عمران خان وزیراعظم رہ پائیں گے۔

 

پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی کا الزام غلط ہے، امریکا

واشنگٹن(سی ایم لنکس) امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی کا الزام درست نہیں۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے میڈیا بریفنگ میں امریکی ویب سائٹ پر سامنے آنے والے سائفرکے متن سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس دستاویز کے مصدقہ ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم اگر اس میں رپورٹ کی گئی تمام باتیں درست ہیں تب بھی یہ کہیں سے ظاہر نہیں ہوتا کہ امریکا نے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ پاکستان میں قیادت کس کے پاس ہونا چاہیے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے امریکی سفارت کار کے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔میتھیو ملر نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ نجی اور سرکاری سطح پر عمران خان کی کچھ پالیسیوں اور روس کے یوکرین پر حملے کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن جیسا کہ اس وقت امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر کہہ چکے ہیں کہ یہ الزامات درست نہیں کہ امریکا نے ملک کی قیادت کے حوالے سے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی کی اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے حوالے سے اپنے خدشے کا اظہار کر رہی ہے نہ کہ وہ اس بارے میں اپنی ترجیح بیان کر رہی ہے کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے۔ آیا یہ دانستہ کوشش تھی یا نہیں اس بارے میں وہ تبصرہ نہیں کر سکتے۔ کسی کی نیت پر بات نہیں کی جاسکتی لیکن لیکن میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے۔مارچ 2022 میں امریکا میں پاکستان کے سفیر کی جانب سے بھیجے گئے سائفر کی تحریر کے بارے میں انٹرسیپٹ نامی امریکی نیوز ویب سائٹ پر ایک خبر شائع کی گئی ہے جس میں اس سفارتی مراسلے کا مبینہ متن شامل ہے جسے اسد مجید نے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسط اور جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے ہونے والی گفتگو کے بعد تحریر کیا تھا۔

منظر عام پر آئے سائفر کی تصدیق کرکے عمران خان کے خلاف کارروائی کی جائے، رانا ثنا

اسلام آباد( چترال ٹایمزرپورٹ) سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عالمی میڈیا پر منظر عام پر آئے امریکی سائفر کی تصدیق کی جائے اور سائفر کے معاملے میں عمران خان قصور وار نکلے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اپنے بیان میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ نے امریکی سائفر کے معاملے پر کہا ہے کہ عالمی میڈیا پر سامنے آنے والے امریکی سائفر کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی جائیں۔انہوں ں ے کہا کہ یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سائفر کی کاپی چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھی جو انہوں نے واپس بھی نہیں کی اور اس سے متعلق عمران خان کی یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان سے وہ سائفر کی کاپی کہیں گم ہوگئی ہے۔رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی اس سلسلے میں قصور وار ثابت ہوتے ہیں تو ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔


شیئر کریں: