Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غیر فعال بلدیاتی اداروں کابجٹ – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

غیر فعال بلدیاتی اداروں کابجٹ – محمد شریف شکیب

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق لوکل کونسل بورڈ نے تحصیل انتظامیہ سے نئے مالی سال کی بجٹ تفصیلات طلب کی ہیں۔19دسمبر2021کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بعد منتخب بلدیاتی نمائندے تاحال ترقیاتی فنڈز، اعزازیے، دفترات اور دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔ سابقہ منتخب حکومت کی طرح موجودہ نگراں حکومت نے بھی منتخب بلدیاتی اداروں سے منہ موڑ رکھا ہے۔صوبائی بجٹ میں گذشتہ تین سالوں سے بلدیات کے لئے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے منتخب نمائندے ہاتھ پرہاتھ دھرےبیٹھے ہیں۔وہ اپنے ووٹروں کے ساتھ آنکھیں نہیں ملاسکتے ۔

 

انہیں شدید عوامی دباو کاسامنا ہے۔اس صورتحال میں بلدیاتی چیئرمینوں اور ممبران نے مستعفی ہونے پر غور شروع کردیا ہے۔ہمارے ہاں منتخب جمہوری حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اپنا حریف سمجھتی ہیں۔ حالانکہ جمہوری معاشروں میں بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز بلدیات سے کرتے ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر قومی ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔ قومی وسائل کی تقسیم کا فارمولہ اتفاق رائے سے طے پانے کے باوجود نہ وفاق صوبوں کو ان کا جائز حق دینے پرآمادہ ہے نہ ہی صوبائی حکومتیں بلدیات کو ان کے حصے کےاختیارات اور وسائل فراہم کرتے ہیں۔ وفاق کے زیر انتظام سات قبائلی ایجنسیوں کے خیبر پختونخوا میں انصمام کے بعد صوبے پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ یہ طے پایا تھا کہ آئندہ دس سال تک تمام صوبے این ایف سی میں ملنے والے اپنے فنڈ کا تین فیصد ضم اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لئے مختص کریں گے۔ مگر گذشتہ تین سالوں سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے ضم اضلاع کے فنڈ میں ایک پائی بھی نہیں دی۔

 

صوبائی حکومت کو اپنے لگےبندے فنڈ سے ضم اضلاع کی ستر اسی لاکھ آبادی کا خرچہ بھی اٹھانا پڑرہا ہے۔ اسی کو بنیاد بناکر صوبائی حکومت نے گذشتہ تین سالوں میں بلدیاتی اداروں کوفنڈز نہیں دیئے۔ نومنتخب بلدیاتی اداروں کی چار سالہ آئینی مدت پوری ہونے میں ابھی ایک سال کا عرصہ رہ گیا اور اب تک کی کارکردگی صفر ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لئے سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ کا ایک بھی امیدوار سامنے نہیں آئےگا اور نہ ہی عوام بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سےنکلیں گے۔بلدیاتی ادارے غیر فعال ہونے کا سب سےزیادہ نقصان عوام کا ہورہا ہے۔ گلیوں کی فرش بندی، نالیوں کی تعمیر، صفائی ستھرائی، نہر کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، گیس اور بجلی کے مسائل سے لےکر شادی بیاہ، اموات اور پیدائش کے اندراج تک سارا کام بلدیاتی نمائندوں کا ہے گذشتہ ساڑھے تین سالوں سے یہ سارےکام معطل ہیں۔

 

چونکہ ان تمام کاموں کا تعلق متوسط اور نچلےدرجے کے شہریوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ارباب اختیار و اقتدار کو پروا نہیں ہوتی۔ کیونکہ ہمارے ملک میں نچلا طبقہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔جب تک وہ اپنی اہمیت جتانے کے لئے خم ٹھونک کر میدان میں نہیں نکلتا۔ ارباب اختیار کو بھی اندازہ تھا کہ پیٹ بھرا ہوگا تو یہ لوگ باہر نکل کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرسکتے ہین اس لئے انہوں نے مہنگائی کی شرح اتنی بڑھادی ہے کہ پیٹ بھرنا عام آدمی کے لئے خواب بن گیا ہے۔ اور وہ احتجاج کرنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے کہ اس کے بعد والدین،بیوی بچوں اور زیرکفالت افراد کا کیا بنےگا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
77630