Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کریں گے، صحافیوں اور فنکاروں کے لئے صحت کارڈ کا اجرا خوش آئند ہے، وزیراعظم

Posted on
شیئر کریں:

عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کریں گے، صحافیوں اور فنکاروں کے لئے صحت کارڈ کا اجرا خوش آئند ہے، وزیراعظم

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صحت اور تعلیم کی سہولت کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کریں گے، غریب آدمی کو علاج کی بہترین سہولت ملنی چاہیے، موجودہ حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہود کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں، صحافیوں اور فنکاروں کے لئے صحت کارڈ کا اجرا خوش آئند ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت اطلاعات اور سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے اشتراک سے صحافیوں، میڈیا ورکرز اورفنکاروں کیلئے صحت کارڈ کے اجراء سے متعلق معاہدے پردستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے معیشت و توانائی بلال اظہر کیانی، سیکرٹری اطلاعات و نشریات سہیل علی خان، چیئرمین سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن شعب جاوید حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہاکہ صحافیوں اور فنکاروں کیلئے صحت کارڈ کا اجراء خوش ا?ئند ہے، اس کے لئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کا کلیدی کردار ہے۔ فنکارملک کا نام روشن کرتے ہیں

 

،صحافیوں اور فنکاروں کی صحت کے حوالے سے اقدامات کا فقدان تھا،صحافی بعض اوقات انتہائی نامساعد حالات میں کام کرتے ہیں، موجودہ حکومت نے صحافیوں کی فلاح وبہبود کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کی سربراہی میں پنجاب میں عوام کیلئے صحت کارڈ کا اجراء کیا گیا تھا، ہیلتھ انشورنس کارڈ غریب عوام اور پسے ہوئے طبقات کے لئے نواز شریف کا بہت بڑاتحفہ تھا اور وہ پروگرام صرف اور صرف کروڑوں غریب لوگوں کے لئے تھا جو رزق حلال کماتیلیکن اپنی علاج کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھے۔ انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے جس ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا اس سے اگر وہ پرائیویٹ ہسپتالوں کے ذریعے نہ چلایا جاتا تو مجھے اس پر اعتراض نہ ہوتا۔ ا س بات کا خیال کئے بغیر کون حق د ار ہے کون حق دار نہیں اس پروگرام کا ناجائز استعمال کیاگیا اور عوام کے محدود وسائل کا ناجائز استعمال کیا گیا۔ گزشتہ حکومت نے اس منصوبے کو بھی نوازنے کا ذریعہ بنادیا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلوا سکتیہیں وہ مہنگے سے مہنگا علاج بھی کروا سکتے ہیں ان کے لئے علاج کے اخراجات برداشت کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ خود بیرون ملک زیرعلاج رہے ہیں اور ان کے علاج پر اس وقت 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ غریب آدمی کیسے علاج کے بھاری ا خراجات برداشت کر سکتے ہیں۔ ہم نے لاہور میں کڈنی اور لیور انسٹیٹیوٹ بنایا۔ وہاں پر جگر اور گردے کی ایک ہزار پیوند کاری ہو چکی ہے اور غریب مریضوں کو وہا ں مفت علاج ہوتاہے جبکہ سابق ثروت افراد سے علاج کے اخراجات لئے جاتیہیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ یہی خدمت خلق اور انسانیت کی خدمت کا تقاضا ہے۔ پی کے ایل آئی کا جو حشر کیا گیا اب اس کے لئے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ پنجاب میں ہسپتالوں میں ہم نے اعلیٰ معیار کی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور اربو ں روپے کی ادویات فراہم کی گئیں۔ جعلی ادویات کا 2016 میں خاتمہ کر دیا تھا۔ ہم نے ہسپتالوں میں 10 روپے کی فیس بھی ختم کر دی تھی لیکن سابق حکومت نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا۔ ہمارے دور میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو بھی بہتر بنایا گیا۔مریضوں کے لئے ان کے قریب ترین علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ ہر ضلع میں سی ٹی سکین کی سہولت دی۔ ہماری حکومت نے ہسپتالوں کو پیسے نہیں دیئے، شفاف بولی کرائی اور ان بولیوں کے ذریعے دنیا کی مایہ ناز کمپنیوں کو لایا گیا اور انہیں پابند بنایا کہ وہ خودجدید مشینیں نصب کر کیچلائیں گی۔صحت اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر بدقسمتی سے صحت کے نظام کو تباہ کردیا گیا اور علاج معالجے کے لئے مریضوں سے پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صحت کارڈ کے اجرا پر انشورنس کمپنیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سرکاری ادارہ ہے، پنجاب میں ہم نے صحت کارڈ کا جس طرح اجراء کیا تھا، علاج کیمناسب واجبات وصول کئے جائیں اور بہترین خدمات فراہم کی جائیں، غریب ا?دمی کوعلاج کی بہترین سہولیات ملنی چاہئیں اورچھوٹی بیماریوں کے ساتھ بڑی بیماریوں کے علاج کو بھی یقینی بنانا چاہئے، اسی طرح قائداعظم کے خواب کی تعبیرممکن ہوسکے گی۔

 

صدر مملکت نے 3 ترمیمی بلوں کی منظوری دے دی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 3 بلوں کی منظوری دے دی۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد (ترمیمی) بل 2023 کی منظوری دی۔ بل کا مقصد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد 2013 میں ترمیم کرنا ہے۔صدر مملکت نے پٹرولیم (ترمیمی) بل 2023 کی بھی منظوری دی۔ اس بل کا مقصد پٹرولیم ایکٹ 1934 میں ترمیم کرنا ہے۔ صدر عارف علوی نے پاکستان نرسنگ کونسل (ترمیمی) بل 2023 کی بھی منظوری دی۔ بل کا مقصد پاکستان نرسنگ کونسل ایکٹ 1973 میں ترمیم کرنا ہے۔ صدر مملکت نے بلوں کی منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی۔

 

لیپ ٹاپ اور قرضہ سکیم سے ہونہار غریب طلبا وطالبات فائدہ اٹھائیں گے، دوبارہ منتخب ہوئے تو نوجوانوں کے لئے مختص رقم مزید بڑھائیں گے،وزیراعظم کا ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کو عظیم تر اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیپ ٹاپ اور قرضہ سکیم سے ہونہار غریب طلبا وطالبات فائدہ اٹھائیں گے، یوتھ پروگرام کے ذریعے اب تک 30 ارب روپے تقسیم کئیجا چکے ہیں، پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کے لئے 5 ارب روپے مختص کئے ہیں، دوبارہ منتخب ہوئے تو نوجوانوں کے لئے مختص رقم مزید بڑھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتیہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کو برق رفتاری سے پورے ملک میں پھیلا رہے ہیں۔ میں نے پشاور، کراچی، لاہور،گوادر کیدورے کئے ہیں، پورے ملک کے ہونہار طلبا و طالبات کو میرٹ پر لیپ ٹاپ دیئے جا رہیہیں۔ یوتھ پروگرام سے کاروبار، زراعت اور ایس ایم ایز کے لئے قرضوں کی مد میں اب تک 30 ارب روپے بینکوں کے ذریعے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ یوتھ سپورٹس پروگرام کے لئے بجٹ میں 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آئی ٹی پروگرام، فری لانسرز، فنی تربیت اور دیگر شعبوں کے لئے مجموعی طور پر بجٹ میں 80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

 

 

نوجوانوں کو کاروبار کے لئے قرضے کی مد میں 5 ارب روپے کی رقم رکھی ہے۔ وظائف کے لئے بھی 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2008 میں پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ ہم نے قائم کیا تھا اور 10 سال میں ہونہار طلبا و طالبات میں 22 ارب روپے کے وظائف تقسیم کئے جن سے 4 لاکھ سے زائد ہونہار طلبا وطالبات مستفید ہوئے۔ اب وفاق کی سطح پر پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا گیا جس کے لئے 5 ارب روپے رکھے ہیں اور یہ رقم ہونہار طلبا و طالبات میں تقسیم کی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ میرا بس چلے تو 5 ارب روپے کی یہ رقم بڑھا کر 500 ارب روپے کر دوں۔ نوجوان اس پورٹل کے ذریعے اپنے آپ کو رجسٹرڈ کرا سکتیہیں۔ لیپ ٹاپ سکیم سرکاری تعلیمی اداروں کے غریب طلبا و طالبات کے لئے ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کے لئے نہیں کیونکہ وہ بھاری فیس ادا کر سکتیہیں تو لیپ ٹاپ بھی خرید سکتے ہیں۔ لیپ ٹاپ اور قرضہ سکیم سے غریب طلبا و طالبات مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ منتخب ہوئے تو نوجوانوں کے لئے مختص رقم میں اضافہ کریں گے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔ ہم مل کر ملک کوعظیم بنائیں گے۔نوجوانوں سے بھی امید ہے کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ جیسے ہی وزیراعظم نے نوجوانوں کے نمائندوں سے جذبات کا اظہار کرنے کو کہا، یوتھ پارلیمنٹ کے عبدالحکیم اور پاکستان یوتھ کونسل کے محمد شہزاد نے 15 ماہ کی مدت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے پر وزیراعظم کی قیادت کو سراہا۔انہوں نے معاشرے میں پولرائزیشن کو فروغ دینے کی کوششوں کے خلاف بات کی اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں۔دونوں نوجوان رہنماؤں نے وزیراعظم کو ملک کی ترقی میں اپنے کردار کی یقین دہانی کرائی اور قوم کی تعمیر کے کسی بھی مقصد میں حکومت کی مکمل حمایت کا عزم کیا۔

 

تقریب سے خطاب کرتیہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے امور نوجوانان شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اربوں روپے فراہم کئے گئے ہیں۔تاریخ میں نوجوانوں کے لئے پہلی بار یوتھ سپورٹس فیسٹیول منعقد کئے گئے۔ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ہیں۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے بھی 5 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے حکومتی اقدامات سے متعلق پورٹل کاا جرا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس سے نوجوانوں کو بہت فائدہ ہو گا۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ سی پیک نواز شریف اور چین کے صدر شی جن پنگ کا مشترکہ وڑن تھا۔ نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ملک سے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنائے بغیر ترقی ممکن نہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
77510