Chitral Times

Sep 22, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مالی سال 2022-23کے دوران صحت کارڈ کے تحت 13 لاکھ 37 ہزار 520 مریضوں کاعلاج معالجہ کیا گیا ہے جس پر33.39 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ نگران وزہراعلی خیبرپختونخوا کو بریفنگ 

Posted on
شیئر کریں:

مالی سال 2022-23کے دوران صحت کارڈ کے تحت 13 لاکھ 37 ہزار 520 مریضوں کاعلاج معالجہ کیا گیا ہے جس پر33.39 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ نگران وزہراعلی خیبرپختونخوا کو بریفنگ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صحت کارڈ پلس سے متعلق ایک اجلاس منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ کو صحت کارڈ سکیم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور صحت کارڈ سکیم کے معاملات کو مزید بہتر اور منظم انداز میں چلانے سے متعلق ا مور پر غور و خوض کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور، سیکرٹری صحت محمود اسلم وزیر،سی ای او صحت کارڈ ڈاکٹر ریاض تنولی اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صحت کارڈ سکیم کے تحت صوبے کی سو فیصد آبادی علاج معالجے کی مفت سہولیات سے مستفید ہو رہی ہے۔جون 2023 ءتک صحت کارڈ پلس کے تحت 9.87 ملین خاندان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ مالی سال 2022-23کے دوران صحت کارڈ کے تحت 13 لاکھ 37 ہزار 520 مریضوںکاعلاج معالجہ کیا گیا ہے جس پر33.39 ارب روپے لاگت آئی ہے ۔جولائی 2022 سے جون 2023 تک صحت کارڈ کے تحت مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور ، پشاور انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی پشاوراور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور بالترتیب پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اسی طرح اجلاس کو مختلف شعبوں میں علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کی شرح کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شعبہ کارڈیالوجی 24.1 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر، گائناکالوجی 13.1 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور جنرل سرجری 12.6 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا ہے دیگر امراض جن کے علاج کیلئے کثرت کے ساتھ ایڈمشن سامنے آئے ہیں ا ±ن میں میڈیکل، کیسز ، نیورو سرجری ، آرتھو پیڈک، یورولوجی، گلے کے امراض ،امراض چشم اور ڈائیلاسسز وغیرہ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد اعظم خان نے صحت کارڈ سکیم کو عوامی فلاح و بہبود کا ایک اچھا پروگرام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پروگرام میں موجود خامیوں کو دور کرکے اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ عوام زیادہ سے زیادہ اس فلاحی منصوبے سے مستفید ہو سکیں۔

 

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم کا ضلع خیبر میں دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت

پشاور( چترال ٹایمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم نے ضلع خیبر میں دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اوردھماکہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ قیام امن کے لیے ہماری پولیس فورس نے قربانیوں کی ایک داستان رقم کی ہے جس پر پوری قوم انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم شہداءکی ان عظیم قربانیوں کی مقروض ہے، ہم ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔


شیئر کریں: