Chitral Times

Apr 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط8) – پروفیسر اسرارالدین

Posted on
شیئر کریں:

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط8)۔۔۔پروفیسر اسرارالدین
موڑکہو (جاری)

6 ۔زوندران گرام کے قبیلے
پچھلی قسط میں تریچ وادی میں زوندران گرام کے قبیلہ ماژے کا ذکر ہوا تھا۔اب باقی کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

زونے یا زوند قبیلہ:

مقامی روایات کے مطابق زونے یہاں کا قدیم ترین قبیلہ ہے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس بستی کانام بھی انہی کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔شاہ حسین گہتوی زوند نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔(دیکھئے اوراق گلگت وچترال(2023)۔ صفحات182تا195)۔ یہاں اس کا خلاصہ دیا جاتا ہے۔

”تریچ بالا علاقہ مورکہوکی یہ بستی ایک قدیم قبیلہ زون دران سے منسوب زوندران گرام کہلاتا ہے۔عہد قدیم میں زوندرے قبیلہ کے دومشہور سرداران علاقہ زون دران گرام اور وری مون تریچ کے مقامات پرآباد تھے۔برگوبیگ زون دران گرام کے مقام پرآباد تھا اور ڑوقوتولی وری مون کی بستی واہ کوٹ میں رہاش رکھتا تھا۔

”قدیم روایات کے مطابق زوندرے سردار برگوبیگ گلگت کے بھرگو(برگو) سے آیا تھا۔برگوبیگ کابیٹا زون تھا۔جوتراخانی دور کا ایک بڑا زمیندار تھا۔تراخانی حکمرانوں نے زون کومرکزی موڑکھو کے وریجون کے مقام میں بھی اراضیات دئیے تھے۔زون کی نسل اپنے دادا زون ابن برگوبیگ سے منسوب زونے کہلانے لگے۔جو رونو زوندرے کی ایک ذیلی شاخ ہے۔(اس سلسلے میں گہتوی نے راجہ حسین علی خان مقپون کی کتاب تاریخ اقوام دردستان وبلور ستان کاحوالہ بھی دیا ہے)۔

”زون کے بیٹے کانام زاہر(ظاہر) بیگ اور اسکے بیٹے کانام شاہ موش تھا۔جس سے تین بیٹے علی مالک،شاہ ولی،محتہ عاشور تھے۔علی مالک اور شاہ ولی اپنے قدیم مسکن زون دران گرام میں آباد رہے۔ان کی نسل بھی یہی آباد ہے۔محتہ عاشور موڑکہو کے گہت اور وریجون میں آباد ہوئے“۔

قوبیلے:
یہ یہاں کے قدیمی باشندے بتائے جاتے ہیں۔ان کے داداکانام داشمن قوبیل مشہور ہے۔یہ موژگول اور کھوت میں بھی آباد ہیں اور تورکہو کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلے ہیں۔

شاڑیکے:
یہ کسی زمانے میں بدخشان سے براستہ یارخون آکے یہاں آباد ہوئے۔دوسری جگہوں میں بھی ان کی شاخ آباد ہے۔

باٹے:
یہ بھی قدیمی باشندے ہیں۔کلاش دور سے ان کا تعلق ہے۔

سادات:
زوندران گرام کے ساتھ ایک ذیلی گاؤ ں لشٹ وہت(لش وہت) میں ایک سادات خاندان آباد ہیں بدخشان سے آئے تھے۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والا خلیفہ بلبل جان اہم شخصیت گذرے ہیں۔ان کے بیٹے مولائی جان نے1950کی دہائی میں کوہ پیمائی میں نام پیدا کیا تھا۔وہ تریچمیر چوٹی (1952)اور سراغرار چوٹی(1959)کی مہمات میں شامل تھے اور بیرونی مہم جوؤں کے ہمراہ کافی بلندی تک جانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 1965میں ہوائی حادثے میں وفات پاگئے۔

کٹورے:
یہ موڑکہو سے کٹور دور میں یہاں آکے آباد ہوئے۔

داشمنے:
یہ بھی موڑکہو سے کٹوردور میں یہاں آکے آباد ہوئے۔

زوندرے:
یہ مستوج سے سیرانگے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور غالباً کٹورے دور میں وہاں سے یہاں آباد ہوئے۔

اتم بیگے (یاحاتم بیگے):
نئی تاریخ چترال غلام مرتضیٰ صفحہ 323) کے مطابق یہ قوم حاتم بیگ اول ابن گرک علی کی جانب منسوب ہے۔گرک علی رئیسہ عہد میں اتالیق کامنصب رکھتا تھا۔شاہ کٹور نے بادشاہت پر قبضہ حاصل کیا توان کو قتل کرواڈالا۔لیکن بعد میں ان کے بیٹے حاتم بیگ کو دلاسادیکے اپنے ساتھ ملایا اور اپنی بیٹی کی شادی بھی ان سے کردی۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ اصلیت میں موڑکہو میں سکونت رکھتے تھے۔وہاں سے ان کی بعض شاخیں یہاں اور دوسرے علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔

یاغیئے اور بولے:
یہ بھی قدیم اور اہم قبیلے ہیں۔
7 ۔لون کوہ(موڑ تریچ)۔
یہاں کے ذیلی دیہات مندرجہ ذیل ہیں۔

لون گول،لشٹ لون کوہ،لون کوہ،ڈوک،سوروہرت،ویمژد،ورژنو،لولیمی،دہ،ٹھونک،پوھت،پاسنگ، میرغش۔

قبیلے(بہ مطابق دیہات).
لون گول:پنین شوئے۔خواجہ،خبیرے۔

پنین شوئے:
یہ ورشگوم سے رئیس دور میں آئے۔وہاں یہ مہتری کے دعویدارتھے۔چنانچہ لوگوں کی مخالفت سے ان لوگوں کے اباو ہاجداد وہاں سے چھوڑ کریہاں آنے پرمجبور ہوگئے۔یہ چار بھائی تھے جن میں تین یہاں آئے اور ایک تورکہو شاگرام جاکر آباد ہوا۔

خیبرے:
یہ واخان سے کٹور دور میں آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔

خواجہ:
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ خیبر(عرب) سے آئے تھے اور ہحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔مقامی روایات کے مطابق شروع سے یہ باٹولان دہ (کشم) میں آئے تھے۔وہاں پر ان کے بڑے نے مہتری کا اعلان کیا تھا۔یہ چترال میں رئیس کا دور تھا۔اور وہ چونکہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے تھے اسلئے انہوں نے اس خاندان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو قتل کرایا۔مگران میں سے ایک عورت جو حاملہ تھی وہ بچ گئی تھی۔اس عورت کاتعلق ماژے قوم سے تھا۔یہ چھپ چھپاکے تریچ اپنے میکے آئی۔جہاں اس کا ایک لڑکا پیدا ہوا۔یہ لڑکا بعد میں بہت بہادر ہوا اور رئیس حکمرانوں کامنظور نظر ٹھہرا۔لہذاتریچ میں ان کو جاگریں عطاکی گئی۔اسکی اولاد اب خواجہ کہلاتی ہے۔جوکہ چترال کے مختلف حصوں مثلاً تریچ،کشم،سوسوم،جنجریت،سویر اور شیشی کوہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔کٹور دور میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والا فضل خان شمشیرزنی اوربہادری میں بے نظیر تھا اور ان کی اولاد میں سے بعض اہم افراد شاہی دربار میں معتبر ہوئے۔(غلام مرتضیٰ 334)۔اعلیٰ حضرت محمد شجاع الملک اور ان کے بیٹوں کے دور میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والا میرغیاث الدین ریاست کی وزارت تجارت کے عہدے پر متمکن رہا۔اس حیثیت سے1938ء میں ریاست کی طرف سے ایک تجارتی وفد کے اہم رکن کے طورپر امیرکابل سے ملاقات کے لئے بھی گئے تھے۔1956ء میں ریٹائر ہوئے۔راقم کی ذاتی معلومات کے مطابق آپ نے جنگلات،آب کاری اور دیگر تجارتی امور میں ایسے اصلاحات متعارف کرائے جسکی وجہ سے چترال کی ریاست کی آمدنی کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ان کابڑا لڑکا میر حسام الدین چترال مسلم لیگ کے بانی ارکان میں تھے۔

لون کوہ ڈوک:
شیرکھانے:مقامی روایات کے مطابق یہ قوم کٹور وں کے دور میں ورشگوم سے چمرکن کے میران دہ آئے تھے وہاں سے بعد میں لون کوہ ڈوک آکر آباد ہوئے تھے۔شہزادہ تنویر الملک نے موڑکہو کے سہرت اور گہت کے درمیان ایک وسیع ٹیلے کے نام کا ذکر کیا ہے۔جسے شیر کھن کے ٹیلے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ”روایت مشہور ہے کہ یہاں پر ایک کلاش سردار شیر کھن کا قلعہ تھا۔ان کا بڑا بھائی میر کھن موضع عشریت سے دروش کی جانب ایک پہاڑی پر آباد تھے۔اپنے ناموں کی مناسبت سے موڑکہو کامقام شیرکھن اور عشریت کے نزدیک پہاڑی مقام میرکھنی کے نام سے مشہور ہوئے“۔ اگرچہ قیاس کیاجاسکتا ہے کہ شیرکھنے قبیلے کا اس شیرکھن سردار سے تعلق ہوسکتا ہے۔لیکن حتمی طورپر کچھ کہنا مشکل ہے۔

داشمنے:
یہ موڑکہو سے کٹور دور میں یہاں آکر آباد ہوئے۔

گوژالے:
یہ کٹور دور میں ورشگوم سے آئے تھے۔زیادہ تریہ لوگ مداک میں آباد ہیں۔کچھ لوگ یہاں آکر آباد ہوگئے۔

طاشے:
یہ قدیم سے یہاں آباد ہیں۔صحیح دور کا پتہ نہی۔

لشٹ لون کوہ
رضاخیل:
یہ کٹور دور میں موڑکہو سے یہاں آکرآباد ہوئے۔

خواجہ:
یہ تریچ سے یہاں آکر آباد ہوئے۔

سوروھرت:
داشمنے: یہ کٹور دور میں موڑکہو سے یہاں آئے۔
ماژے: یہ تریچ سے یہاں آئے۔ رضا: یہ موڑکہو سے یہاں منتقل ہوئے۔

ورژنو:
پنین شوئے: یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔
اشوربیگے: یہ شوئے کی قوم ہے جس کاذکر ہوگا۔

لولیمی:
خواجہ: یہ تریچ سے یہاں آئے۔

کلاشان دہ(یادہ)
خواجہ : یہ تریچ سے یہاں آئے۔

شوٗے: یہ خراسان سے کٹور کے دور میں آئے۔پہلے موڑکہو کے کوشٹ(گولدور) میں آئے تھے۔ان کا جدامجد اھہنگر تھا۔اور وہاں سے اسی مناسبت سے ان کو لایا گیا تھا۔اس نے آکر سہرت اور کشم میں سیسہ دریافت کیا اور اسکے پگھلانے اور اس ے چیزیں بنانے کاکام شروع کیا۔بعد میں یہ خود بھی سہرت منتقل ہوا۔پھروہاں سے یہاں آیا۔

کتانے: یہ اپنے کوقدیمی باشندے تصور کرتے ہیں۔
اتم بیگے:(حاتم بیگے): یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔

ٹھونک:
کتانے: یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔

پاسنگ:
داشمنے: یہ موڑکہو سے کٹور دور میں آئے۔
شیریکے: ورشگوم سے کٹور دور میں آئے۔

خواجہ: تریچ سے آئے۔
طاشے: یہ قدیمی لوگ ہیں۔

یاغشئے: یہ ماژے کی شاخ ہیں میرغش:
خواجہ: یہ تریچ سے آئے۔

پوھت:
خواجہ: یہ تریچ سے یہاں آئے۔
موسنگھے: یہ تورکہو سے کسی وقت یہاں منتقل ہوئے تھے۔کشم سے تعلق رکھنے والے شکریہ نویسوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کشم باکے کی ایک شاخ ہے۔ ان کے جد امجد کا نام مرد سنگ یا موسنگ تھا۔

چغیرے: قدیمی باشندے۔
خیبرے: واخان سے کٹور دور میں یہاں وارد ہوئے۔

 

موڑکہو(از نشکو مداک تابمباغ)

یہ سارا علاقہ دریاے تورکھو کے مغرب میں تریچ آن کے ساتھ تکیہ لگایا ہوا ایک خطہ ہے۔ایسا لگتا ہے تریچ آن نے گویا موڑکہو کے دیہات میں بعض کو اپنی پیٹھ پر،بعض کو اپنے کندھے پراور بعض کو اپنے سینے پراٹھایا ہوا ہے۔تریچ آن کاسلسلہ تریچ میرکی چوٹی سے شمال مشرق کی طرف پھیلاہوا ہے۔بندوگول تک یہ وادی تریچ اور برم کے درمیان فصیل کا کام دیتاہے۔یہاں سے آگے تریچ آن کے نام سے سوروخت تک چلاجاتاہے۔اور چمورسال چوٹی پرختم ہوجاتا ہے۔جسکی اونچائی4248میٹر(13927فٹ)ہے۔ان دوچوٹیوں کے علاوہ تریچمیر مشرقی(6792میٹر)۔تریچمیر شمالی(7056میٹر) اہم چوٹیاں ہیں جنکو بالترتیب ناروے کی ٹیم نے1964میں اور آسٹرین کی ٹیم نے1965میں سرکئے تھے۔باقی چوٹیوں کے نام بندوگول چوٹی نمبر 1 (6500میٹر)۔بندوگول چوٹی نمبر2(6216میٹر). لونوزوم نمبر1(6020میٹر)، بے نام چوٹی نمبر1(5805میٹر)، بے نام چوٹی نمبر2(5300میٹر)،کوشٹ زوم(4731میٹر) نوغور زوم(4518میٹر)اورچمورسال
(4248میٹر)ہیں۔تریچ آن کازیادہ ترحصہ ایک سطح مرتفع جیسا ہے۔اسکے اوپردیہات کی چراگاہیں ہیں۔اس کوشمال مشرق کی طرف تریچ نالے نے اور جنوب کی طرف موڑکہو دریا نے گھیرا ہوا ہے۔اس سلسلے کے شروع میں دونالے برم نالہ اور بندو گول نالہ جنوب کی طرف بہتے ہیں اور سیدھے دریا مستوج میں شامل ہوجاتے ہیں۔اتہرک گلیشئر اوربرم گلیشئر اسکے نواح میں اہم گلیشئر ہیں۔کوشٹ گول بھی اسی سلسلے سے نکلتا ہے اور یہ دریائے تورکہو میں شامل ہوجاتا ہے۔تریچ آن موڑکہو کے دیہات کو اپنے دامن میں جگہ دینے کے ساتھ اس علاقے کے لئے پانی سٹور کرنے کا بھی اہم قدرتی ذریعہ ہے۔یہ علاقہ جوپانی کی کمیابی کے لئے مشہور ہے۔کوچشموں کے ذریعے جوبھی تھوڑا بہت پانی میسر ہے وہ اسکی مرہون منت ہے۔ریاستی دور کے آخری زمانے میں محکمہ تعمیرات کے ایک افسر شیربرار حکیم محمدنے ایک سکیم تیار کی تھی جسکے مطابق شوگرام سے نہر تریچ آن کے گردا گرد تعمیر کرکے کوشٹ تک لانے کی سکیم تھی۔لیکن اس پرعمل نہ ہوسکا۔اب اسکے نیچے سے سرنگ بناکے وہاں سے پانی اس طرف منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔جو اگر مکمل ہوا تو موڑکھو کی معیشت میں انقلابی تبدیلی آسکیگی۔

منتخب دیہات اور قبیلے

(1) مداک:
تما م مداک پہاڑ کےڈھلوان پرواقع ہے۔صرف اس کا ذیلی گاؤں شوت کسی قدر ہموار جگے پرہے۔اسکے باقی ذیلی دیہات کے نام : موڑین،نوغوردور،سوچھال،مداک لشٹ ۔سوچھال اور مداک لشٹ چراگاہ ہیں۔جو پہاڑ کے اوپر واقع ہیں۔گرمیوں میں لوگ مال مویشیوں کے ساتھ یہاں شفٹ ہوجاتے ہیں۔لوگوں کا گذارہ چشموں کے پانی سے ہے۔تاریخی روایات کے مطابق اس علاقے میں سب سے پہلے مداک کے لوگ سنی مسلمان ہوئے تھے۔کہاجاتا ہے کہ پہلے پہلے جب مسلمانوں نے بالائی چترال پر قبضہ کیاتھا۔تو ان میں سے بعض مجاہدین یہاں آئے تھے۔اور یہاں کے لوگوں کو مسلمان بنایا تھا۔کہاجاتا ہے بعد میں ان لوگوں کو مذہب سے برگشتہ کرنے کی بعض لوگوں نے کوشش کی تھی۔لیکن کافی تشدد کے باوجود بھی یہ لوگ دین اسلام پرڈٹے رہے۔

یہ لوگ چترال میں واحد مٹی کے برتن والے لوگ رہے ہیں۔لگتا ہے کہ اس علاقے میں قدیم زمانے کے مٹی کے برتن بنانے والی روایت کے یہ امین رہے ہیں۔
یہاں مندرجہ ذیل قبائل یہاں آباد ہیں۔

اتم بیگے(حاتم بیگے)۔موسنگھے،پتارئیے،گوژالے،شاہ منگے،لولئے،بیگالے،خوشے،بڈونگے،شانگے۔
اتم بیگے(حاتم بیگے)

یہ کشم سے یہاں آکر آباد ہوئے۔قدیمی لوگ ہیں،سہرت میں بھی ہیں۔

موسنگھے:
غالبا”کشم سے کسی زمانے میں یہاں آئے۔
پتارئیے: قدیمی باشندے۔

گوژالے: کسی زمانے میں ورشگوم سے آئے۔تریچ میں بھی ہیں۔

محنت گار: قدیمی قوم۔

لولئے : قدیمی باشندے۔
شاہ منگے :یہ قدیمی باشندے ہیں۔اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے استاد حمید اللہ المعروف مداکچی استاد پچھلی صدی کے وسط کی ایک معروف شخصیت تھے۔آپ بچپن میں پشاور گئے تھے اور وہیں پرکسی سکول میں تعلیم حاصل کی اور پشاور شہر کے تالاب والی مسجد کے علاقے میں ایک سکول میں استاد لگ گئے تھے۔محمدناصر الملک اپنی شہزادگی کے زمانے سے ان کو جانتے تھے۔جب اُنہوں نے چترال میں سکول قائم کیا۔توان کو وہاں ہیڈماسٹر مقرر کیا۔آپ کے زمانے میں سکول کومڈل کادرجہ نصیب ہوا۔ہزہائی نس محمد ناصر الملک ان کی بہت عزت افزائی فرماتے تھے۔ان کو شاہ ڈوک میں اپنی ذاتی جائیداد سے زمین بھی عطا کی تھی۔حمید اللہ مرحوم1944تک چترال سکول کاہیڈماسٹر رہے۔اسکے بعد ان کے شاگرد محمد جناب شاہ مرحوم ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔استاد حمید اللہ کوان کے ایک نا خلف بھتیجے نے1953میں ذاتی غرض کے لئے شہید کردیا تھا (بحوالہ راقم کی کتاب سرمحمد ناصر الملک صفحہ378-377)۔مداک سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخصیت کاذکر بھی بے محل نہ ہوگا۔
مداک ملا: آپ کا تعلق بھی مداک سے تھا۔اسلئے اسی مناسبت سے معروف تھے۔آپ نے پشاور سے تحصیل علم کیا تھا اور بہادر کلی پشاور کے حضرت عبدالرحمن علیہ رحمتہ سے بیعت تھے۔اور زہدوعلم وعمل سے متصف تھے۔شاہی درباروں سے دور رہتے تھے۔تاریخ چترال (غلام مرتضیٰ) کے مطابق کسی کاجائز کام ہوتا تو سفارشات کا انبار اعلیٰ ٰحضرت شجاع الملک کوپیش کرتے۔اور پندو تصایح سے بھی نوازتے تھے۔آپ بمبوریت میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔آخر میں پشاور میں وفات پائی۔تو ناصرالملک نے جوان کے بڑے عقیدت مند تھے۔ان کا جنازہ چترال پہنچانے کا بندوبست کرایا اور بمبوریت میں دفن ہوئے۔

بیگالے :یہ قوم چترال کی قدیم ترین قوموں میں شمار ہوتی ہے۔نئی تاریخ کے مطابق(صفحہ 330)یہ نام میرزا بیگال نامی ایک معزز شخصیت سے منسوب ہے۔جن کا پردادا جلگاس کافر کی اولاد سے تھا۔اور رئیسہ دور میں چند قلعوں کامالک تھا۔ان میں سے میرزا بیگال کی شاہی خاندان میں رسائی ہوئی اور بحیثیت ایک اہم اہل کار کے اس نے ریاست کے لئے کئی اہم حصہ انجام دئیے۔بتایا جاتا ہے کہ کوچ کے چنار بھی اُنہوں نے لگائے تھے۔جو قلعے کے گرد باغ کا حصہ تھے۔شاہ ڈوک کی نہربھی انہی کی زیر نگرانی میں تعمیر ہوئی تھی۔مداک لشٹ کوبھی اسی نے آباد کیا تھا(بحوالہ
تنویرالملک)اور ان کے گاؤں کی مناسبت اس کانام مداک لشٹ رکھاگیاتھا۔لون گہکیر کی نہر بھی ان کے ہاتھ تعمیر ہوئی تھی۔اور اس کے سلسلے میں جوقواعد اس نے وضع کئے تھے۔ان پراب تک عمل ہوتا ہے۔البتہ اس قوم کی اصلیت کے بارے کنفیوژن ہے۔ریشن میں بتایا گیا تھا۔یہ لوگ ہاشم بیگم کے ساتھ یاسین سے آئے تھے۔اخونزادہ(صفحہ335)ان کوعرب شہزادے کی اولاد بتاتے ہیں اور رئیس دور سے تعلق بتاتے ہیں۔تنویرالملک نے بیگال کوامان الملک کا ایک کارندہ ظاہرکیا ہے۔

خوشے:
یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔
بڈونگے:
یہ قدیم وقت سے تعلق رکھنے والے قبیلہ ہے۔جوکسی زمانے میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔

(2) نشکو:
مداک کے قریب نشکو آباد ہے۔یہ بھی پہاڑ کے ڈھلوان کے ساتھ آباد ہے۔اسمیں مندرجہ قبائل آباد ہیں۔
دشمنے : یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔
نسکتک :یہ قدیم قوم مڑپ میں بھی ہیں۔
ڈوٹے : قدیم قوم۔
بندالے :قدیم قوم۔
کتانے : قدیمی قوم۔تریچ میں بھی موجود ہیں۔

(3) کشم۔
ایک وسیع قریہ جومندرجہ ذیل دیہات پرمشتمل ہے۔پست خورا،گوشین،سوراغ،چھنی،باٹولاندہ،دستون،بہرچین،تھوسون،گاچھتر،گاڑوسوم،کڑوم دور،کھونیسں،اتروئ،پختوری اور ایک چھوٹا گاؤں کلاشان دہ۔

اسکے دیہات پہاڑ کے ڈھلوان کے ساتھ دریا تورکہو کے کنارے سے جو سطح سمندر سے2050میٹر بلند ہے۔سے3660میٹر کی بلندی تک واقع ہیں۔اسکے درمیان میں ایک نالہ شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے۔جو اسکو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔اس نالے کے دائیں طرف یعنی مشرقی حصے کو پختوری اور بائیں طرف نچھاغ یعنی مغربی حصے کو نچھاغ کہتے ہیں۔بلندی کے حساب دونوں حصوں کو مزید دودوحصوں یعنی بالا پختوری اور زیرین پختوری اور بالائی نچھاغ اور زیریں نچھاغ نام دئیے ہیں۔
کشم پر تحقیقی بہت کام ہوا ہے ایک محقق (ڈاکٹر ظہیراحمد)نے اس پرمقالہ برائے ایم فل ڈگری بھی لکھا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر فیضی صاحب کے مطابق اس قریہ کابانی کشم باکے نام کا ایک شخص تھا جس نے1360ء میں اسکو آباد کیا تھا۔لیکن دوسرے محققین اور مقامی روایات کے حوالے سے بتاتا ہے کہ کشم باکے کے نام پراگرچہ کشم کانام پڑگیا ہے لیکن یہ قریہ پہلے سے آباد تھا۔کیونکہ ساتویں اور اٹھویں صدی کے درمیان جب یہ علاقے چینوں کے ماتحت تھے۔اسوقت اُنہوں نے پانی کے استعمال کے جو قواعد چھوڑے تھے وہ تاحال لاگو ہیں اور مقامی لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ روایت کرتے ہیں کہ یہ چینی دور کے یادگار ہیں۔
ویسے تو موڑکہو کاتمام زیربحث علاقہ پانی کے حوالے سے پیاسا (تھروشنی) ہے لیکن کشم اس لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔پھر بھی اپنے محدود پانی کے وسائل کو استعمال کرنے کا ان لوگوں نے ڈھنگ سیکھ لیا ہے جو صدیوں سے یہاں چل رہا ہے۔علم جغرافیہ میں مطابقت پذیری(Adaptability)ایک اہم موضوع ہے۔اس میں انسان اور اسکے قدرتی اور ثقافتی ماحول کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔اور یہ دیکھاجاتا ہے کہ کسطرح کس انداز میں انسان نے اپنے ماحول کو استعمال میں لاکے اپنے لئے جینے کا سامان پیدا کرلیا ہے۔اس لحاظ سے مطالعہ کرنے کے لئے تمام چترال ایک اہم لیباریٹری ہے۔اور یہاں کشم کے استعمال آب کے نظام کا مطالعہ بھی دلچسپ رہے گا۔
کشم میں استعمال آب کانظام :(بحوالہ ڈاکٹر ظہیر احمد)

(1) تمام علاقہ دوحصوں میں تقسیم ہے یعنی پختوری اور نچھاغ۔ان دوحصوں کو مزید دودوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔یعنی بالائی پختوری اور زیرین پختوری۔بالائی نچھاغ اور زیرین نچھاغ۔
(2)پانی کے ذرائع دونالے اور ایک چشمہ۔
(الف)کیانی بوم نالے کا چشمہ
(ب)تریچ آن نالے کا چشمہ
(ج)گرام ژوئے چشمہ۔

(الف)کیانی بوم نالے کا چشمہ3305میٹر کی بلندی پر پوٹونیو زوم (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔جوتریچ آن پر واقع ہے۔اس میں پانی کی مقدار 6کیوسک (2خورا روغ یعنی دوچکی چلانے کے قابل پانی)ہے۔(کیانی بوم)اب کیا کروں)کی وجہ تسمیہ یوں بتاتے ہیں۔کہ اس کاپانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے پُرانے زمانے میں ایک مسافر پیاس کے مارے ایک سانس میں اس کا بہت سارا پانی پی گیا تھا۔پھر ٹھنڈکی وجہ سے مرنے لگا اور بے اختیار چیختارہا۔کیانی بوم،کیانی بوم(یعنی اب کیا کروں)۔آخر کارمرگیا)
(ب) تریچ آن چشمے کانالہ: اس کا منبع(Source) تریچ آن کے اوپر 4190 میٹر کی بلندی پر فاضل اب (Watershed)کی دوسری طرف ہے۔سردی کی وجہ سے یہ کئی مہینے منجمد رہتا ہے۔1930ء میں وہاں سے نہر نکال کر اس چشمے کوکشم کی طرف بہایا تھا۔اسکی مقدار 3کیوسک(یعنی ایک خوراروغ)ہے۔
(ج) گرام ژوے چشمہ۔یہ جشمہ تقریبا”دس ہزار فٹ کی اونچائی پر نکلتاہے۔ اسکی مقدار 1/2 کیوسک ہے۔ یہ مکمل طور پر۔ اشرف بابا نامی ایک خاندان کے تصرف میں ہے۔
اگرچہ انکا حصہ باقی پانی کے سسٹم میں بھی ہے۔

استعمال آب کا نظام۔
ان اول الزکر رواں نالوں کوتمام کشم والے استعمال کرتے ہیں۔استعمال آب میں دوباتوں کاخیال رکھا گیا ہے۔

الف: استعمال کنندگان کا استحقاق۔

ب:موسمی حالات کے مطابق پانی میں کمی بیشی کی وجہ سے استعمال کی ترتیب جوکہ مندرجہ ذیل ہے۔
جنوری تا مارچ: ھاتی سسٹم یعنی کھلا استعمال۔

اپریل جون:نیاتوغ(اوچھیوغ)قبیلوں کے مطابق تقسیم۔
جولائی دسمبر:سوروغ(انفرادی باری کے قواعد کے مطابق پانی کی بہم یابی)
ج:یومیہ حساب سے تقسیم۔

مارچ تاجون: بالائی حصے دن کے وقت
زیرین حصے رات کے وقت۔

وسط جولائی تاوسط ستمبر:رات دن کے تمام اوقات بالائی حصوں کے لئے(البتہ 8دن کے وقفے کے بعد زیرین علاقوں کے لئے48گھنٹوں کے مقررہ وقت کے لئے پانی کی بہم رسانی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

(چ)نروال سسٹم:
تختی میں سوراخ کونروال کہاجاتا ہے۔سب سے پہلے نالے کے پانی کودوحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایک حصہ پختوری کااور دوسرا حصہ نچھاغ کاہوتا ہے۔یہ سسٹم چینوں کانافذکردہ ہے۔اور تقریباً14,13سوسالوں سے رائج ہے۔پہلے دونوں حصوں کویکسان مقدار میں پانی فراہم کرنے کے لئے نالے میں دوسوراخ کردہ پتھر لگائے جاتے تھے۔1930ء میں ایک ترکھان نے اس جگے ایک چھوٹا ساحوض بنایا۔اسکے نکاسی کی جگہ ایک تختی میں دوبرابرسائز کے سوراخ بنائے۔جہاں سے پانی دونوں حصوں کوجاتا ہے۔آگے جاکے ہرحصے کے خاندان درخاندان پانی کاتقسیم درتقسیم جاری رہتا ہے۔یہاں تک کہ بعض خاندانوں کے حصے میں چاہتوغ یاجیرانوغ(یعنی چندقطرے)آجاتے ہیں اسطرح ان لوگوں نے نہ صرف اپنے محدود وسائل کو استعمال کرنے کا طریقہ نکالا۔بلکہ ان پر قناعت کرنا بھی سیکھا۔

کشم کے قبائل:
کشم میں مندرجہ ذیل قبائل آباد ہیں:

بوشے،داشمنے،بہرچون تک(اتم بیگے)سنگالے،موسنگھے،باٹویے۔ روشتےٹھولے،مانائیے،بیگانے،ڈولے(یاگاچھتریک)،شیغنئے،چاپانے،
خوشے،ڑاغے وغیرہ(ان پر آئیندہ قسط میں بحث کی جائے گی۔
(باقی آئیندہ)

terich upper chitral


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
76107