Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے صوبے کے چھ بڑے ہسپتالوں کو کیٹیگری ون لائسنس جاری

Posted on
شیئر کریں:

ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے صوبے کے چھ بڑے ہسپتالوں کو کیٹیگری ون لائسنس جاری

اب تک صوبے میں 14000 ہسپتال رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، 250 ہسپتالوں کو پروویژنل لائسنس جبکہ چھ ہسپتالوں کو فُل لائسنس جاری کئے جاچکے ہیں، کوئی بھی بڑے سے بڑا ہسپتال اب صرف 100 روپے میں ہیلتھ کئیر کمیشن کیساتھ آن لائن رجسٹر ہوسکے گا،

آن لائن رجسٹریشن کی بدولت جنوری 2022 سے رجسٹرڈ ہسپتالوں کی تعداد ساڑھے 7 ہزار سے دوگنی ہوکر ساڑھے 14 ہزار پر پہنچ گئی ہیں، صوبے میں کُل ہسپتالوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے اور جیوٹیگنگ آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہوجائیگی، چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہیلتھ کئیر کمیشن ڈاکٹر ندیم اختر

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) ہیلتھ کئیر کمیشن خیبرپختونخوا کی جانب سے کیٹیگری ون ہسپتال لائسنس حاصل کرنے والے صوبے کے پہلے چھ ہسپتالوں کو لائسنس کے اجرا کے سلسلے میں پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چئرمین ہیلتھ کئیر کمیشن بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر اکرام غنی، ممبرز بورڈ آف گورنرز محمود ہمایوں، ڈاکٹر عالمزیب درانی، نوشین، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ عطاالرحمان، چیف ایگزیکٹیو ہیلتھ کئیر کمیشن ڈاکٹر ندیم اختر، ایڈیشنل ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شاہد یونس، سابق مشیر صحت ڈاکٹر عابد جمیل، چیف ایچ ایس آر یو ڈاکٹر شاہین آفریدی، چیف ایگزیکٹیو صحت کارڈ پلس ڈاکٹر ریاض تنولی و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

 

تقریب سے اپنے خطاب میں چئیرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر اکرام غنی کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کئیر کمیشن نے پشاور کے چھ ایسے ہسپتالوں کو لائسنس جاری کردئیے ہیں جو کیٹگری ون ہسپتال کی معیاری جانچ پر پورا اُترے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، شوکت خانم ہسپتال، آفریدی میڈیکل کمپلیکس، ایم ایم سی جنرل ہسپتال، نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال اور رحمان میڈٰکل انسٹیٹیوٹ شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ایک دن کا سفر نہیں تھا بلکہ پچھلے ایک سال سے ہیلتھ کئیر کمیشن فعالی و بحالی کا سفر طے کررہا ہے۔ صحت کے معیار کو بہتر بنانے اور عطائی ڈاکٹروں کا قلع قمع کرنے کیلئے ہیلتھ کئیر کمیشن کی استعداد کار کو بڑھایا جارہا ہے۔ چیف ایگریکٹیو آفیسر ڈاکٹر ندیم اختر نے تقریب کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک سال میں ہیلتھ کئیر کمیشن کو فعال کرنے کیلئے بورڈ نے کافی محنت کی ہیں۔ قوانین میں ترامیم رولز و ریگولیشن کی تیاری اور لائسنسگ اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ ہم نے رجسٹریشن کے عمل کو ڈیجٹائزڈ کر دیا ہے اب آن لائن رجسٹریشن کیلئے درخواست دی جاسکتی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر ہسپتالوں کو رجسٹریشن سر ٹیفیکیٹ موصول ہوجاتا ہے۔کوئی بھی بڑے سے بڑا ہسپتال اب صرف 100 روپے میں ہیلتھ کئیر کمیشن کیساتھ رجسٹر ہوسکے گا۔

 

ڈاکٹر ندیم کا مزید کہنا تھا کہ آن لائن رجسٹریشن سے جنوری 2022 سے رجسٹرڈ ہسپتالوں کی تعداد ساڑھے 7 ہزار سے دگنا ہوکر ساڑھے 14 ہزار ہو چکی ہے۔ مُخ اس کے علا وہ مختلف مراکز صحت کیلئے سٹینڈرڈز بنائے گئے ہیں جن پر ہسپتالوں کی جانچ پرک ہوتی ہے۔ 100 سے زائد مُختلف مراکز صحت کے عملے کو سٹینڈرڈز پر تربیت فراہم کی گئی۔صوبے میں کُل ہسپتالوں کی تعداد کا اندازہ لگانے اور جیو ٹیگنگ کا عمل آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہوجائیگا۔ عطائی ڈاکٹروں کیخلاف کاروائیوں کی تفصیلات دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کاروائی میں اب تک 7 ہزار سے زائد معائنے کئے جاچکے ہیں۔ ان انسپکشنز کے دوران سات سو زائد غیر قانونی کلینکس کو سیل کیا گیا ہے۔ اب تک صوبے میں 14000 ہسپتال رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں 250 ہسپتالوں کو پروویژنل لائسنس جبکہ چھ ہسپتالوں کو فُل لائسنس جاری کئے جاچکے ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
76079