Chitral Times

Sep 21, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لوڈ شیڈنگ کے فوائد – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

لوڈ شیڈنگ کے فوائد – محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے عوام آج کل دہرے عذاب میں مبتلا ہین۔ کہیں دن بھر سورج آگ برساتا ہے تو کہیں رات کو شدید حبس کے باعث لوگ پسینے میں شرابور ہیں۔بجلی کی آنکھ مچولی نے گرمی کے ستائے عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کر دیا ہے اور لوگ موسم گرما میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر دہائیاں دے رہے ہیں۔وزارت توانائی کے حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی کا شارٹ فال چھ ہزار 765میگاواٹ ہے۔ اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار 20 ہزار 235 میگاواٹ ہے جبکہ بجلی کی طلب 27 ہزار میگا واٹ ہے۔طلب و رسد میں یہ فرق صارفین کا کچومر نکال کر پورا کیا جارہا ہے۔گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان میں بجلی کی آنکھ مچولی معمول کی بات ہے۔تاہم اس بار جون کے آخری عشرے میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ہیٹ ویو کے دوران درجہ حرارت معمول سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیاہے۔ایک طرف سورج سوا نیزے پر آگیا ہے تو دوسری طرف شہری علاقوں میں چار سے چھ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹوں تک بجلی غائب رہتی ہے۔

 

طویل لوڈ شیڈنگ کے ساتھ کم وولٹیج نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ بجلی آنے کے باوجود نہ اے سی، فریج، فریزر، پانی کے موٹر اور پنکھے چلتے ہیں نہ ہی لائٹیں جلتی ہیں۔بجلی کی بندش پر صارفین پر غم و غصے کا مختلف انداز میں اظہار کر رہےہیں کہیں سڑکیں بلاک کرکے احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف صارفین سوشل میڈیا پر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔سیکریٹری توانائی کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ صرف دو گھنٹے ہے۔ملک بھر میں 80 فیصد فیڈرز پر تین گھنٹے سے کم کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ روزانہ دو گھنٹے کی اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ اگست تک جاری رہے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہمیں سستے ایندھن پر بجلی ملے تو اس لوڈ شیڈنگ کو ایک گھنٹے پر بھی لایا جا سکتا ہے۔ جن علاقوں میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ وہاں بجلی جانے کا دورانیہ چھ سے آٹھ گھنٹے بھی ہے ان میں خیبر پختونخوا اورسندھ کے بعض علاقے شامل ہیں۔

 

پاکستان میں مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 23 ہزار 500 میگاواٹ ہے۔بارشوں کے موسم میں ڈیموں اور جھیلوں میں پانی بھرتا ہے جس سے پانی کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں بہتری آتی ہے۔اورلوڈ شیڈنگ میں کمی متوقع ہے۔حکام نے یہ موقف اپنایا ہے کہ گرمی میں ایئر کنڈیشنز زیادہ چلانے کے باعث بجلی کی طلب میں یکدم اضافہ ہوتا ہے۔سسٹم پر لوڈ پڑنےکی وجہ سے اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا شیڈول مرتب کیا جاتا ہے۔آج سے چھ سات سال پہلے حکومت کی طرف سے یہ دعوی کیاگیا تھا کہ انہوں نے قومی ضروریات سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو۔مگر بجلی کا ڈسٹری بیوشن سسٹم ایک مقررہ حد سے زیادہ لوڈ نہیں اٹھا سکتا۔اگر ہمارے پاس بجلی کی پیداوار تیس ہزار میگاواٹ بھی ہوئی تو ڈسٹری بیوشن سسٹم بیس ہزار کا بوجھ ہی اٹھا سکتا ہے۔ بنیادی ضرورت ڈسٹری بیوشن لائنوں کو بہتر بنانے کی ہے تاکہ وہ طلب کے مطابق بجلی کالوڈ اٹھاسکیں۔لائن لاسز اور بجلی کی چوری بھی ایک لاینحل مسئلہ ہے جس کا حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اب تک کوئی حل تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔جولوگ کنڈے لگا کر مفت بجلی استعمال کرتےہیں یا جن ملازمین اور بڑے افسروں کو مفت بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ان سے مفت بجلی استعمال کرنے کی عیاشی واپس لے لیں۔

 

نادہندہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں، محکموں اور دفاتر کی بجلی منقطع کردیں۔ تو شاید چھ سے اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔کچھ لوگوں نے بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر سوشل میڈیا میں دلچسپ تبصرےبھی کئے ہیں۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں مثبت سوچ اپنانی چاہئے۔ بجلی غائب ہونے کا رونا رونے کےبجائے بار بار بجلی آنے پر خوشی کا اظہار کرنا شروع کریں تو ہماری زندگی آسان ہوسکتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے نقصانات گنوانے کے بجائے ان کے فوائد کا بھی سوچنا چاہئے۔ساری رات بجلی نہ ہونے سے انسان کو شب بیداری کی عادت ہوتی ہے۔ جسم اگر پسینے سے شرابور ہوجائے تو جسم میںموجود اضافی چربی ختم ہوجاتی ہے۔ جو صحت مند زندگی کے لئے ضروری ہے۔


شیئر کریں: