Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صاحب گفتار ۔ تحریر: میر سیما آ مان 

Posted on
شیئر کریں:

صاحب گفتار ۔ تحریر: میر سیما آ مان

 

دنیا بھر کے دانشور کم گوئی کو سمجھ داری تصور کرتے ہیں لیکن عورتوں کی منطق ہر بات میں الگ ہے۔ہمارے ہاں خواتین کی محفل میں بغیر سوچے سمجھے بے تکا بولنے والی ہی سمجھدار بلکہ صاحب گفتار کہلاتی ہے ۔۔ اور خاموش رہنے والی کو کمزور یہاں تک کہ جاہل ناسمجھ اور بے وقوف  تصور کیا جاتا ہے ۔۔ سوال یہ ہے کہ خود کو صاحب گفتار سمجھنے والے واقعی صاحب گفتار ہیں بھی یا نہیں ۔۔۔

 

گفتگو کا  سلیقہ ذیادہ یا کم بولنے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ آپکے الفاظ  اور طر یقہ  گفتگو سے تعلق رکھتا ہے میرے نزدیک کسی بھی محفل کے تہذیب یافتہ ہونے کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر تین چار لوگ بیٹھے ہیں تو تیسرا شخص آپکی محفل میں خود کو بے کار تصور نہ کرے ۔۔ یہ آپکے صاحب گفتار ہونے کے ساتھ ساتھ تمیز دار ہونے کی بھی سب سے بڑی دلیل ہوگی۔ لیکن ہماری محفلوں میں ہوتا کیا ہے کہ اول تو کوئی سننے والا نہیں ہر کوئی صرف اپنی سنانے کا نہایت شوقین دوم اگر سنتے بھی ہیں تو صرف اپنے ہی جیسے کسی دوسرے کو ۔۔وہ تیسرا بندہ جو انکی سوچ سے میچ نہیں رکھتا وہ ان محفلوں میں صرف ایک لسنر کے حساب سے موجود ہوتا ہے ۔۔ اور یہ بات احادیث سے بھی ثابت ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب تین لوگ کسی جگہ اکھٹے بیٹھے ہوں تو دو لوگ آ پس میں کھسر پھسر نہ کریں اس سے تیسرے شخص کی دل شکنی ہوگی ۔۔اسی طرح رسول پاک سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ جہنم میں لے جانے والی چیز کیا ہوگی تو آ پ نے فرما یا ذبان۔۔اسی طرح کہیں احادیث سے یہ حوالہ ملتا ہے کہ مومن کی زبان ذیادہ لعن طعن کرنے والی نہیں ہوسکتی۔۔یوں غیبت چغل خوری بہتان تراشی جیسے بد زبانی کی تمام قسموں کے بارے میں اسلام باقاعدہ تعلیم دیتا ہے

 

۔مگر ہم ان تمام باتوں سے آزاد ہو کر صرف بے تکا بولنے کو  ہی اپنا فن سمجھتے ہیں۔۔ چاہے ہمارا بولنا کسی کی دل آزاری کا باعث ہی کیوں نہ ہو ۔۔ لہذا بحثیت مسلمان جب کبھی صاحب گفتاری کا شوق چڑھے تو اتنا ضرور خیال کریں کہ کہیں آپکی زبان بد زبانی کے زمرے میں تو نہیں آ رہی۔دوسری اور آ خری بات وہ جو کسی نے کہا  ہے کہ آپکے الفاظ آپ کو کسی کے دل میں اتار بھی سکتے ہیں اور دل سے نکال بھی سکتے ہیں۔ لہذا  کوشش کریں کہ کم بولیں لیکن اچھا بولیں اور صرف بے تکا بولتے رہنے کو اپنا ہنر مت سمجھیں بلکہ کوشش رکھیں کہ آپکی زبان ہمیشہ حق کا ساتھ دینے والا ہو۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
75739