Chitral Times

Dec 3, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش ۔ ماتھے کا داغ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on
شیئر کریں:

بزمِ درویش ۔ ماتھے کا داغ ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پانچ سال کے طویل انتظار کے بعد آج جب سلطان پٹھان میرے سامنے آیا تو میں خوشی سے اچھل ہی پڑا۔چند آنے والوں کے درمیان جب میری نظر سلطان پر پڑی تو میں خوشگوار حیرت کے ساتھ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا قریب جاکر دیکھا تو یقین ہوا کہ یہ سلطان ہی ہے پہلے سے تھوڑا موٹا ہو گیا تھا گردشِ ایام نے اس کی صحت پر مثبت اثرات ڈالے تھے میں گرم جوشی سے بغل گیر ہو گیا تو وہ بولا سر میں پانچ سال بعد پاکستان آیا ہوں پہلے آتا تو ضرور آتا ایک تو آپ سے ملنے کو بہت دل تھا دوسرا مجھے پتہ تھا آپ کو بھی انتظار ہو گا آپ جاننا چاہتے ہو نگے کہ میں اپنی بات اور وعدے پر قائم ہوں یا میرا وہ جذبہ وقتی تھا جو وقت کی تند و تیز لہروں میں بہہ گیا ہے سر آپ کو خوشی ہو گی کہ میں اپنے وعدے پر پہلے سے زیادہ قائم ہوں بلکہ آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں کہ آپ نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی دی ہے میں ایک کامیاب بھرپور خوشگوار زندگی گزاررہا ہوں

 

اِس میں خدا کی خاص مہربانی اور آپ کی کوشش کا بھی بھر پور حصہ ہے سلطان بہت خوش تھا خوشی طمانیت اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی میرے لیے گفٹ بھی لے کر آیا تھا بولا سر یہ آپ کے لیے لایا ہوں آپ لوگوں سے مل لیں پھر آپ کو سارے حالات بتاتا ہوں یہ کہہ کر سامنے جا کر بینچ پر بیٹھ گیا اور میں ملاقاتیوں کی طرف بڑھ گیا اب میں لوگوں سے مل رہا تھا لیکن میری نظر مسلسل سلطان کا طواف کر رہی تھیں ایک سوال جو کانٹے کی طرح میرے دل و دماغ میں چبھ رہا تھا آج اس کا جواب مل گیا تھا مجھے پانچ سال پہلے کا سلطان یاد آگیا جو چند ماہ سے میرے پاس آرہا تھا سلطان دنیا میں اکیلا تھا لا وارث تھا بچپن میں نے کسی نے پیدا کر کے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا کسی نے اٹھا کر یتیم خانے میں جمع کر وا دیا بچپن سے جوانی کے مراحل طے کر تے ہوئے تعلیم بھی حاصل کرگیا بچپن میں ہی کسی نے یتیم خانے سے لے لیا اوراپنی اولاد کی طرح تعلیم و تربیت پر توجہ دی جوان ہوا تو یکے بعد دیگرے والدین اِس بے رحم دنیا میں چھوڑ کر اگلے جہاں کو سدھار گئے وراثت میں گھر ملا جس کا ایک پورشن کرائے پر دے کر زندگی کے دن گزارنے لگا تعلیم مکمل کی تو گھر بسانے کا خیال آیا تو والدین کے رشتہ داروں سے رجوع کیا جو سلطان کی حقیقت جانتے تھے سب نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا بلکہ ظالم رشتہ داروں نے تو مکان میں اپنے حصے کا مطالبہ کر دیا

 

وہ تو بھلا ہو والدین کا جو اپنی زندگی میں ہی مکان سلطان کے نام کر گئے تھے ورنہ رشتہ داروں نے سلطان کو گھر سے نکال کر قبضہ کر کے اِس سے آخری سہارا بھی چھین لینا تھا رشتہ داروں کے سلوک سے سلطان بہت دل برداشتہ ہوا ان سے میل ملاپ بند کر دیا اب اِس تلاش میں تھا کہ شادی کر کے اپنا گھر بسالے لیکن جہاں بھی رشتے کے لیے جاتا جب لوگوں کو حقیقت کا پتہ چلتا تو لوگ انکار کر دیتے جب انکار اور دھتکار کا سلسلہ درازہوا تو شادی کے لیے بابوں بزرگوں کے پاس جانا شروع کر دیا اِس بھاگ دوڑ میں کسی نے میرا ذکر کیا تو میرے پاس آگیا شروع میں تواصل بات نہیں بتائی لیکن چند ملاقاتوں کے بعد مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے ایک دن اپنی زندگی کے تلخ سچ کا میرے سامنے اقرار کیا بچوں کی طرح بلکتے ہوا کہا سر آپ کے شفیق روئیے نے مجھے یہ حوصلہ دیا کہ آپ کو سچ بتا ں ورنہ حوصلہ نہیں پڑتا کسی کے سامنے اپنا پیٹ ننگا کروں یہ بھی میں اِس لیے بتا رہا ہوں جو آپ بار بار کہتے ہیں کہ تم خوبصورت جوان پڑھے لکھے ہو پھر بھی لوگ تم کو رشتہ کیوں نہیں دیتے تو سر جب میرے آگے پیچھے کوئی نہیں والدین کا پتہ نہیں تو آپ ہی بتائیں کون مجھے اپنی فرزندی میں لے گا

 

سر میں لاوارث تنہا ہوں آپ کی دعاں سے ہی یہ ممکن ہے ورنہ میں تو بھاگ بھاگ کر تھک گیا سلطان کا غم جان کر میں بھی دکھی ہو گیا اب میری محبت اِس سے بڑھ گئی اور میرا مشن تھا کہ کسی طرح سلطان کی شادی ہو جائے انہی دنوں میرے پاس ایک بیوہ عورت اپنی جوان بیٹی کے ساتھ آتی تھی کہ اِس کی شادی نہیں ہو تی میں اس کو ذکر اذکار روحانی علاج کر تا رہا چھ ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا میں حیران تھا کہ پڑھی لکھی جوان خوبصورت لڑکی ہے پھر رشتہ کیوں نہیں ہو رہا اِس جوان لڑکی کا رشتہ ہو نا بھی میرے لیے الجھن بن کر رہ گیا تھا کیونکہ اِس لڑکی میں تمام خوبیاں موجود تھیں جو کسی بھی مرد کا خواب ہو سکتا ہے لیکن صورت سیرت کے باوجود رشتہ نہیں ہو رہا تھا میں نے دو تین بار اچھے لڑکوں کا حوالہ دیا اور کہا آپ اپنا ایڈریس بتائیں یا اپنا موبائل نمبر تک لوگ آپ سے رابطہ کر سکیں تو لڑکی کی ماں ٹال مٹول کر جاتی بس ہر بار یہی کہتی پروفیسر صاحب آپ دعا کریں ایک دو رشتوں کی بات چل رہی ہے لیکن میں جب اس کے گھر کا پتہ پو چھتا تو انکار کر دیتی یہ بات مجھے الجھن میں ڈال دیتی کہ کیوں ایسا کر رہی ہے جب کافی مہینے گزر گئے تو ایک دن میں نے اچھی طرح تفصیل سے بات کی کہ آپ کو کوئی مسئلہ ہے آپ مجھے اپنا پتہ کیوں نہیں بتاتیں یا لوگوں کو اپنے محلے میں کیوں نہیں بلا تیں تو پہلے تو ماں نے ماضی کی طرح ٹال مٹول سے کام لیا لیکن پھر لڑکی بول پڑی اماں آپ پروفیسر صاحب کو سچ بتائیں گی یا میں بتا دوں

 

یہ سن کر ماں رونے لگی اور چلی گئی اگلی بار آئی تو بیٹی نے چپکے سے مجھے ایک خط پکڑا دیا ان کے جانے کے بعد میں نے پڑھا تو حقیقت سامنے آگئی سر یہ میری ماں نہیں خالہ ہیں میرے والدین بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے پھر میری خالہ نے مجھے پالا ہے میں جوان ہوئی تو محلے کے بد معاش لڑکے نے مجھے اغوا کر کے ایک مہینہ اپنے پاس رکھا میری عزت سے کھیلا آخر کار بڑی کوششوں سے پولیس کی مدد سے میں واپس آئی بد معاش جیل چلا گیا میں محلے میں مشہور ہو گئی کہ میں داغی لڑکی ہوں میرے ماتھے پر داغ لگ چکا تھا میں نیم پاگل تھی اب سارے محلے اور رشتہ دارجانتے ہیں کہ مجھے اغوا کیا گیا تھا اِس لیے اب کوئی میرا رشتہ نہیں لیتا کہ یہ کنواری لڑکی نہیں ہے میرے بارے میں بہت بکواس کی جاتی ہے میں محلے میں بد نام ہوں اِس وجہ سے خالہ کسی کو گھر نہیں بلاتیں خط غم ظلم و ستم سے بھرا ہوا تھا اب کوئی اِس سے رشتہ کر نے کو تیار نہ تھا میں نے یہ ساری باے سلطان کو بتائی تو حیران کن طور پر سلطان فوری مان گیا خالہ بھی مان گیا دونوں کی شادی ہو گئی لیکن ظالم معاشرہ اب بھی بکواس کر تا تھا سلطان بہت خوش تھا لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر مکان بیچ کر میرے پاس آیا سر میں پاکستان چھوڑ کر مڈل ایسٹ جا رہا ہوں میں نے جاتے ہوے اِس سے وعدہ لیا تھا کبھی بیوی کو طعنہ نہیں مارنا اور خوش رہنا مجھے اِس سوال کا انتظار تھا آج سلطان سامنے آیا تو بو لا سر میں بہت خوش ہوں تین بچے ہیں مجھے میری بیوی کے بدلے میں ستر حوریں بھی ملیں تو نہ لوں میری زندگی جنت میری بیوی ہے سلطان واپس جانے لگا تو اس کا ماتھا چوما کر بولا تم نے ایک معصوم کا داغ دھو یا جو تمہارے ماتھے پر کردار کا روشن چاند بن کر چمک رہا ہے آپ جیسے لوگوں سے ہی یہ بانجھ معاشرہ قائم ہے۔


شیئر کریں: