Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط7) ۔ پروفیسر اسرار الدین

Posted on
شیئر کریں:

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط7) ۔ پروفیسر اسرار الدین

موڑکھو:
دریائے تورکھوکے مغربی کنارے پروادی تریچ سے وادی اویر تک بلند ترین کوہساروں اور گہری وادیوں کی سرزمین موڑکھو تاریخی،جغرافیائی اورثقافتی لحاظ سے اہم خطہ رہا ہے۔جو انتظامی طورپر تحصیل ہے۔اور ضلع بالائی (اپر) چترال کا حصہ ہے۔شہزادہ تنویر الملک موڑکھو خاص کوکشم رشت سے موژگول تک آٹھ میل کے علاقے سے منسوب کرتے ہیں۔البتہ جغرافیائی طورپر ایک دریا کے طاس کے حدود کے اندر جو علاقہ ہوتاہے وہ ایک خطہ کہلاتا ہے۔اس لحاظ سے تریچ وادی سے کوشٹ تک کا علاقہ موڑکھو کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔بہرحال ہم انتظامی لحاظ سے جوموڑکھو کاعلاقہ ہے یہاں اس سے بحث کرینگے۔
موڑکھوکے اہم دیہات کے نام یہ ہیں۔

لشٹدہ،شاگروم،نراز،راغ،لاجوردی،زوندرانگرام،سیم تچ،لونکوہ،
اونچ،سوروخت،درولشٹ،نشکو، مداک،کشم،دراسن،سہرت،۔ واریجون،،اوتھول،نوگرام،زاینی،موژگول،موردیر،گہت،کوشٹ،۔ بمباغ،درونگاغ،گوہکیر،لون،شوگرام،برم،ریری،پارپش،شونگوش
(اویر)۔

موڑکھو کے مخصوص دیہات کا ذکر کرنے سے پہلے یہاں کی بعض خصوصیات کا ذکر ضروری ہے۔مثلاً
1۔کوہسار اور توہمات۔(2)روایات:
1 ۔کوہسار اور توہمات:

شومبرگ نامی ایک انگریز سیاح نے1930کے عشرے میں چترال کا سفر کیا تھا۔موڑکھو کے پہاڑوں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں!(ترجمہ) ”اس علاقے میں کئی متاثرکن بلند پہاڑو ں کا سلسلہ ہے جو اپنے گلیشروں،برف پوش پہاڑوں اور اونچی چوٹیوں کی وجہ سے تمام ہندوکش کی شان ہیں۔دنیا میں ایسے مقامات بہت کم ہونگے جہاں اتنی مختصر جگے میں اس قدرعالی شان نظارے کسی کو حاصل ہوسکیں“۔۔ یہاں پرچند چوٹیوں کے نام یہ ہیں۔

تریچمیر(7708میٹر)،استورو نعل(نال(7344میٹر)،نوشاق (7497 میٹر)اورسراغرار(7354میٹر)۔ ا ن کے علاوہ کئی اور چوٹیاں ہیں۔5300میٹر سے اوپر اس علاقے میں کل 39چوٹیاں ہیں۔جوذیل گروپ میں منقسم ہیں۔
+5300میٹر والی چوٹیاں: ایک
+5700میٹر والی چوٹیاں: ایک
+6000میٹر والی چوٹیاں: 16(سولہ)
+6500میٹر والی چوٹیاں: 3(تین)
+7000میٹر والی چوٹیاں: 8(آٹھ)
+7400میٹر والی چوٹیاں: 10(دس)
ٹوٹل: 39۔

ان میں سے بلکہ تمام ہندوکش سلسلے میں تریچمیر سب سے اونچی چوٹی ہے۔پہلی دفعہ اس چوٹی کو1952میں پرفیسر نائیس(Neice) کی سرکردگی میں ناروے کی ٹیم نےسرکی تھی۔تریچ میرکو نہ صرف ہندوکش بلکہ تمام چترال کی شان تصور کی جاتی ہے۔وادی چترال کے اکثر حصوں سے اس کا خوب صورت نظارہ دلوں کو راحت پہنچاتی ہے۔پُرانے زمانے میں اس کے ساتھ منسوب پریوں کی کہانیاں چترال کے لوک روایات کااہم حصہ ہیں۔ایک انگریز مہم جو اور سرویئرکپٹن ڈی ایم برن نے1929ء میں ان علاقوں کی سروے کے دوران تریچ میر کے گردونواح میں کام کیا تھا اور مہم جوئی بھی کی تھی۔اس نے مقامی گائیڈ کے حوالے سے ان پہاڑوں خاص طورپر تریچ میر کے بارے لوگوں کی توہمات کاذکر کیا تھا۔جوہمالین جرنل جلد2سال1930میں چھپی ہیں۔ان کاخلاصہ یہاں پیش کیاجاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

تمام پہاڑوں کے لوگوں کی مانند چترال کے لوگ بھی مختلف قسم کے توہمات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ان کے خیال میں یہ پہاڑجنوں اورپریوں کے مسکن ہیں۔اور گلیشئر خطرناک قسم کے نہنگوں کی رہائش گاہ ہیں اورتریچ میر خاص طورپرپریوں کامسکن ہے۔تریچ میر میں ایک جگے پرسنگ مرمر سے بناہوا جھیل ہے جسمیں پریاں نہاتی ہیں۔اس جھیل کے قریب کوئی جانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ورنہ اسکی موت یقینی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
terichmir lake scratch

یہ بھی لوگوں میں مشہور ہے کہ کسی زمانے میں ایک شہزادی کوجن اُٹھاکے لے گئے تھے۔جو بعد میں بڑی ہوکے بھی ان کے ساتھ تریچ میر میں محل میں رہتی تھی اور لوگوں نے اسکو گھوڑے کی سواری کرتے ہوئے بھی دیکھا۔شاہی خاندان میں خوشی اور غمی کے دوران یہ شہزادی اپنی سہلیوں کے ساتھ ان میں شریک رہتی تھی۔کہاجاتا ہے کہ اس شہزادی کے ماں باپ چارسوسال پہلے وفات پاچکے تھے لیکن یہ خود ابھی تک زندہ ہے۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ پریاں جنگوں کے دوران چترال کے بادشاہوں کی مدد کے لئے آتی ہیں۔ہرقلعے میں ڈھول لگے ہوتے ہیں۔ایسے مواقع پران ڈھولوں کو پٹتے ہیں تاکہ لوگوں کواطلاع ہوجائے اور ژانگ وار ساز بجاتے ہیں۔“

ان لوگوں کے خیال میں مارخور پریوں کی بکریاں ہیں جن کی پری چرواہے حفاظت کرتی ہیں۔کہاجاتا ہے کہ گلیشروں کے اندر بڑے بڑے نہنگ ہوتے ہیں۔جن کے سرگھوڑوں کے اور جن کی لمبائی 20فٹ ہوتی ہے ان کے منہ سے آگ برستی ہے۔گلیشر کے اندر بڑے بڑے مینڈک بھی ہوتے ہیں۔لوگوں میں یہ بھی توہم عام ہے کہ کھنڈر جگے جنوں کے مسکن ہوتے ہیں۔وہ اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔کبھی کتے کی شکل اختیار کرتی ہیں اور کبھی گائے کی اور لوگ ایسی جگوں سے ڈرتے ہیں۔ان کے علاوہ مختلف جن پریوں کے اقسام ہیں جنکے نام یہ ہیں:

خانگی،جشتان،خاپھسی،۔ پھیروٹھس،چومورڈیکی،دیو،برزانگی،نہنگ وغیرہ۔ (2)تاریخی ورثے:شہزادہ تنورالملک نے اپنی کتاب ”موڑکھو“میں کئی قلعوں اور پُرانی کھنڈرات کاذکر کیا ہے۔یہاں صرف ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تاکہ طوالت سے بچا جائے۔

(1) گوران شوغور قلعہ: یہ بہمن کوہستان کاقلعہ بتایا جاتا ہے۔مارخور کے سینگوں کو پائپ بناکے یہاں کے لئے اس زمانے میں پانی لایا گیاتھا۔یہ مژگول کے قریب تھا۔
(2)نوغورزوم قلعہ:جو سومالک کا قلعہ تھا۔
(3)کروئی سونو نوغور سہرت۔
(4)پلمات کھنڈرات۔
(5)لاچین بیگ کے قلعے کے کھنڈرات۔
(6)سان ڈوکو نوغور سہرت۔
(7)رئیس شاہ اکبر کے قلعے کے اثاریات(سہرت استاری)۔
(8)عالم کہن قلعہ کوشٹ۔
(9)شیرکھن قلعہ(سہرت اور گہت کے درمیان)۔کلاشی دورکاقلعہ۔
(10)دراسن قلعہ شاہ کٹور ثانی(1782ء) کی یادگار۔
(11)خراسان قلعہ کشم۔اندازلگایاجاتاہے کہ یہ بہمن کوہستانی کے دور کی یادگار ہے۔یہ اسی زمانے میں ابزرویشن پوسٹ ہوا کرتا تھا۔
(12)کلاش اثاریات،کلاش دورسے تعلق رکھنے والے بے شمار آثاریات موڑکھو کے مختلف دیہات مثلاً تریچ،سہرت،گہت،وریجون،کشم،کوشٹ،لون وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔مثلاًباشالینی،مالوش،بیٹان سڑہ،یپاراوک چشمہ،گاڑاکوشیں (یعنی گاڑاک کا باغ)شینگر پوشال(کسی کلاش رئیس کے مویشیوں کاباڑہ)۔ان آثاریات کے علاوہ کلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی قبیلے بھی موجود ہیں۔شیرکھن کے قلعے کا پہلے ذکر ہوا ہے۔جوکلاش سردار کا قلعہ تھا۔

(13)کوشٹ میں ایک مقام ہے اس کا نام بت تھا(اب یہ نام بدل دیاگیا ہے)لگتا ہے کہ پُرانے زمانے میں یہاں کوئی بت خانہ ہوگا۔
اس کا تعلق کالاش دور سے ہوگایا (راقم (اسرار الدین)کے خیال میں یہ ہندو یا بدھ مت کے زمانے کی کوئی نشانی ہوگی،چاہئیے کہ اس جگے کی کھدائی کی جائے تاکہ مزید معلومات حاصل ہوسکیں)۔بحوالہ کتاب موڑکھو از شہزادہ تنویرالملک۔صفحات8تا14)۔
(3) روایات: موڑکھو کاعلاقہ مختلف قسم کے روایات کاخزانہ ہے کچھ کا قبیلوں کے تذکرے میں حوالہ دیاجائے گا یہاں صرف ”کھوبوخت“کاذکر کیا جاتاہے۔
کھو بوخت ۔شہزادہ تنویرالملک نے(موڑکھو صفحہ2تا3)میں اس کا ذکریوں کیا ہے۔”کھوبوہت سے مراد وہ پتھر جہاں کھوار زبان کی ابتدا ہوئی۔اس پتھر سے کچھ فاصلے پرایک چھوٹا چشمہ بھی موجودہے۔۔۔روایت مشہور ہے کہ موڑکھو میں انسانی آبادی کی ابتداکے وقت ایک فقیر کا گذر اس علاقے سے ہوا توانہوں نے چشمے اور پتھر کودیکھ کراس جگہ اقامت اختیار کی۔فقیر چشمے سے وضو کرتے پتھر کے اوپر نمازپڑھتے اور پتھر کے نیچے (جہاں غار تھا)اقامت اختیار کی۔کچھ عرصے کے بعدمزید چھ فقیر اس علاقے میں واردہوئے۔انہوں نے پہلے والے فقیر کی اقامت میں اس پتھر پرنماز اداکی۔کچھ عرصہ بعد وہ سب شمال کی طرف کہیں چلے گئے۔اس واقعے کے بعد مختلف ملکوں اور علاقوں سے آنے والے افراد اس علاقے میں بودوباش اختیار کرتے گئے جس سے یہاں آبادی کی طرح پڑی مختلف اقوام کی تہذیب وتمدن اور زبان کے اختلاط اور آپسمیں میل جول سے ایک نئی تہذیب اور زبان کھوار نے جنم لیا۔اس زبان کے بولنے والے کھو کہلائے۔تاہم یہ روایت تاریخی طورپر درست نہیں کیونکہ موڑکھو میں انسانی آبادی کے آثار اس علاقے میں اسلام کی آمد سے صدیوں پُرانے ہیں“۔

اخوانزادہ نے کھوبوخت کے بارے میں یوں لکھا ہے۔”رئیس خاندان کادارالحکومت دراسن میں تھا۔شاہ رئیس (اکبررئیس) نے تمام بالائی چترال کی مختلف زبان بولنے والی اقوام کو شاہی قلعہ میں مدعو کیا۔ اور تمام اقوام کی نمایندہ ایک شوریٰ تشکیل دی گئی۔شوریٰ کی پہلی میٹنگ ایک بڑے پتھر پرمنعقد ہوئی۔پھر متفقہ طورپر اہلیان چترال کی مختلف زبانوں کی آمیزش سے ایک نئی زبان وجود میں لائی گئی اور اس علاقے کی نسبت سے زبان کانام کوہ وار (یعنی پہاڑوں کے درمیان رہنے والوں کی زبان)رکھاگیا۔تحصیل موڑکھو علاقہ سہت میں جس پتھر پر یہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی۔اسے اب کھوار بوخت کہتے ہیں۔

”چترال میں کوہ وار زبان رائج ہونے سے قبل یہاں کوہ قوم یاکھو قوم کا وجود ہی نہیں تھا۔جب کھوار زبان وجود میں آئی توکھوقوم بھی وجود میں آئی۔“(تاریخ تعارف اقوام چترال۔از اخونزادہ۔صفحات18-17)۔اس روایت سے اسلئے اتفاق کرنامشکل لگتا ہے۔دنیامیں جتنی زبانیں ہیں۔کوئی زبان بھی اس طرح ملک کا دستور یا آئین تشکیل دینے کی مانند کسی مجلس شوریٰ کے ذریعے وجود میں نہیں آئی۔لے دے کے اسپرانٹو نام کی ایک زبان پولینڈ کے شہر وارسا میں ایک شخص نے تشکیل دی تھی۔یہ 1887ء کاسال تھا۔اس کا یہ خیال تھا کہ بہت زیادہ زبانوں کی وجہ سے قوموں کا ایک دوسرے سے رابطہ مشکل ہوجاتا ہے۔اسلئے زبانوں کے اختلاط سے ایک بین الاقوامی زبان تشکیل دی جائے۔چنانچہ اس نے یورپ میں بولنے والی زبانوں کے اختلاط سے اسپرانٹونام کی زبان بنائی۔لیکن اب تقریباًڈیرھ سوسال گذرنے کے بعد اسکی کوئی خاص پزیرائی نہیں ہوئی۔اتنا عرصہ گذرنے کے بعد کہیں جڑنہ پکڑ سکی۔اور کئی ملکوں کو ملاکے بھی اس کے بولنے والے دولاکھ سے کم ہیں۔زبانوں کی ارتقائی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی زبان کی ارتقاء ایک طویل عمل کے نتیجے میں ممکن ہوجاتا ہے۔اس طرح یقینا کھوار کے ساتھ ہوا ہوگا۔ماہرین لسانیات اسکو قدیمی(Archaic)زبان تصور کرتے ہیں۔سنسکرت،غالچہ زبانیں،فارسی اور برشسکی کے پراثرات واضح ہیں۔حال ہی میں محمدالیاس خواجہ نے اس پرترکی زبان کے اثرات پربحث کی ہے۔جوقابل تعریف ہے(دیکھئے اس کامضمون Influence of Turkish on Khowar)۔وقت کے ساتھ سائنسی انداز میں تحقیق کرنے پر آگے مزید حقائق سامنے آتے رہنگے اور ہمیں ان خود ساختہ روایات سے چھٹکارا مل جائے گا۔بہرحال کھو بوخت کے بارے اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی زمانے میں کھوریاست اور غیرکھوریاست کے درمیان حد بندی ہوگا۔(اس امر پر کئ دوسرے سکالرز بھی میرے ساتھ متفق ہیں )اسلئے اسکی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا

۔بعض حضرات نے کھوہ یعنی غار کی مناسبت سے یہ تھیوری بنائی ہے کہ کھو لوگ قدیم زمانے میں غاروں میں رہتے تھے اسلئے ان کانام کھو پڑگیا ہوگا۔ثبوت کے طورپر یہ بھی کہتے ہیں کہ چینی زبان میں کھو غار کو کہتے ہیں۔حالانکہ کھولفظ چینی زبان میں تین طرح سے لکھا جاتا ہے جنکے معنی اجازت دینا،وعدہ کرنا اورکسی کی تعریف کرنی ہے۔ کھو کے بارے میں ایک نئی تھیوری:
ڈاکٹر سپنسر ویلز(Spencer Wells) نے کئ ملکوں کے لوگونکےDNAsکامطالعہ کرکے ان کے بارے میں اہم انکشافات کئے ہیں۔ان میں چترالی بھی شامل ہیں۔یہ معلومات امریکن محقق اسماعیل سلون(جس نے کھوار انگلش ڈکشنری بھی لکھی ہے)نے میرے ساتھ شئیر کی تھی۔ان کے مطابق ڈاکٹر سپنسر نے ایک نقشہ بنایا ہے جس میں 50ہزار سال پہلے سے افریقہ کے مشرقی ساحل سے تمام لوگوں کا جد امجد (جسکا نام اس نے M168رکھا ہے) چلتا ہے اور بحرقلزم کوپار کرکے یمن پہنچ جاتا ہے اب اس کانام M89 ہو جاتاہے۔یہ جزیرہ نماعرب کوپار کرکے عراق پہنچ جاتا ہے یہاں اس کانام بدل کےM9بن جاتا ہے۔یہ قبیلہM9ایران اور افغانستان کوپارکرکے مختلف اطراف کی طرف شاخیں نکالتا ہے۔ایک شاخ شمال کی طرف کو چترال کی طرف جاتی ہے۔پھریہ شاخ وہاں سےM45قبیلے کی شکل اختیار کرکے تاجکستان چلی جاتی ہے۔اسکے بعد پہلےM173بعدمیں M343بن جن کے انگلستان پہنچ جاتا ہے۔یہ بھی نشاندہی کی ہے۔جنوبی یورپ اور مشرقی یورپ کے باسیM343نہیں ہیں۔یہ لوگ بہت بعدمیں کہیں دوسری جگہ سے آئے ہیں۔اور ترکی سے ہوکے یونان،بلغاریہ،جارجیا اور کوہ قاف کے نواحی علاقوں میں آباد ہوئے۔

اس سلسلے میں ایک قباحت وقت کا تعین کرنا ہے۔کیا یہ لوگ برفانی دور(جو15 ہزار سال پہلے تک رہا ہے)سے پہلے یہاں منتقل ہوئے یابعد میں ۔ یورپ میں M343سے آنے سے پہلے نیندرتھالز نامی لوگ رہتے تھے۔ایسا لگتا ہے یاتو یہ لوگ ختم ہوگئے تھے یاM343والوں نے ان کو ختم کیا“ڈاکٹر سپنسر کی اس تحقیق کی بنیاد پراسماعیل سلون یہ تھیوری پیش کرتا ہے۔

”کہ یورپ کے موجودہ لوگ15ہزار سال پہلے جبکہ برفانی دور ختم ہورہا تھا پہنچ گئے ہوں گے۔یعنی پہلا موجودہ یورپین وہاں پہنچ گیاہوا۔یہ وہ زمانہ تھاجب ان لوگوں کی ایک شاخ چین جاپان سے ہوتے ہوئے ایلاسکا(امریکہ)پہنچ گئی تھی۔اس زمانے میں تمام دنیا میں برفانی دور کا اختتام ہورہاتھا۔اس سے مزید یہ لگتاہے کہ یہ چترالی اورنورستانی لوگ(بشمول کلاش)ان آریاوں سے نہیں تھے۔اور افغانستان کوپارکرکے ہندوستان تک پھیل گئے تھے۔بلکہ چترال کے(قدیمی لوگ)15000سالوں سے یہاں آباد تھے۔یہ اس قبیلے کے پسماندہ لوگ تھے۔جوپامیر کوبروغیل درے سے پارکرکے(M45)کی شکل میں شمال کی طرف چلا گیا تھا۔سلون کے مطابق چترالیوں کو اس زمرے میں فٹ کرنے کے لئے ذیل وجوھات ہیں:

1۔ یہ لوگ شکل وشباہت میں یورپین لوگوں کی طرح ہیں۔
2۔ اسلام آنے سے پہلے ان کے جومذاہب تھے وہ یورپ لوگوں کے پُرانےمذاہب جیسے تھے۔اورکلاش اب تک اسی مذہب پرہیں۔
3۔ چترالیوں کی زبان کھوارکوماہرلسانیات زبانوں کی انڈویورپین زبانوں میں سب سے قدیم زبان تصور کرتے ہیں۔
4۔ بروغیل کا درہ چترال سے وسطی ایشیا ء داخل ہونے کا دروازہ ہے جس سے اس زمانے میں اس کی شاخ وسطی ایشیاء میں داخل ہوئی ہوگی اوروہاں سے آگے تک چلی گئی ہوگی۔(ڈاکٹر سپنرو غر کے نقشے کا حوالہ ویب سائٹhttps//www5_nationalgeographic.com/genographic/atlas.html)
راقم ناچیز کایہ خیال ہے کہ اپرچترال کاعلاقہ تاشاشہ گلشیالوجسٹس (Glaculogists)کے اندازوں کے مطابق تقریباًدس ہزار سال پہلے تک گلیشئر سے بھراہواتھا۔اسلئے اگرM45قبیلہ یہاں سے گذرکے وسطی ایشیاء گیاہوگا۔تووہ جنوبی چترال میں سے ہوکے لنکوہ کے راستے دوراہ درے سے وہاں داخل ہواہوگا اور اسکے جو پسماندہ لوگ ہوں گے وہ جنوبی چترال سے کنڑ کے علاقوں تک آباد ہوئے ہوں گے۔

وادی تریچ:
مقامی روایات کے مطابق رئیس دور میں زوندران گرام اور لون کوہ آباد تھے۔باقی تمام حصہ جنگلات سے بھرا تھا۔اسکے بعد جوں جوں نئے لوگ آتے رہے۔تریچ وادی کے دیگردیہات آباد ہوتے رہے۔اس وقت تریچ وادی کے ذیلی نالے روش گول اور ادرین گول سے درے بدخشان کی طرف کھلتے تھے اور یہاں سے بدخشی لوگ گھوڑوں پر آیاکرتے تھے۔اور یہاں ان سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔اس وقت کے کھنڈرات جگہ جگہ موجودہیں۔یہ درے غالباً سترویں صدی میں بند ہوئے۔وہ اس طرح کہ ان بدخشی لوگوں سے حفاظت کرنیکی خاطر جواکثر گھوڑوں پرآجاتے اور یہاں سے مال مویشیوں کواُٹھاکرلے جاتے تھے۔لوگوں نے مصنوعی گلیشئر پلانٹ (Plant)کرنے کی ترکیب کی۔بتایاجاتا ہے کہ ایک مقامی خاتون نے جسکا نام عاقل جمال تھا نے اس زمانے میں تجویز کی تھی کہ ان دروں میں مصنوعی گلیشئرلگالیں۔اس نے اس کا طریقہ بھی بتایا تھا۔(یہاں آگے اسکا طریقہ بتایا جاتا ہے)چنانچہ اس عمل کوکرنے سے یہ درے بند ہوگئے۔البتہ کہاجاتا ہے کہ پید ل کیلئے اب بھی کھلے ہوتے ہیں۔اس طرف سے واخان میں داخل ہوجاتے ہیں۔البتہ استعمال زیادہ نہیں۔
مصنوعی گلیشئر(شایوز)لگانے کی روایت اور اس کا طریقہ۔

(نوٹ)یہ مضمون ڈکٹر الینہ بشیر نے مرحوم مولا نگاہ کی مددسے لکھا ہے۔اوریہ2008میں جرنل آف ایشین سویلایزیشن میں چھپاتھا)

(ترجمہ)مصنوعی گلیشئر بنانے کاطریقہ چترال میں قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا طریقہ یوں ہے کہ دومختلف پہاڑوں سے ایک بالکل صاف شفاف منجمد شدہ نیلی برف اور دوسرا سفید مٹی میں آلودہ منجمد برف لائ جاتی ہیں۔ان دوقسم کی برفوں کودوبڑے بڑے مٹی کے برتنوں میں بھردی جاتی ہے۔اور ان کو جہاں گلیشئر لگانا ہے وہاں بڑا خندق کھودکے ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس طرح لگاتےہیں کہ ایک برتن خندق کے ایک سرے پراور دوسرا دوسرے سرے پرہوتے ہیں۔،ان دوقسم کے منجمد برفوں تک ہوا پہنچنے کے لئے ایک شگاف بنائی جاتی ہے۔اسطرح ترتیب دینے کے بعد بھوسہ،گھوڑے کی لید اور نمک لاکے برف کے ساتھ ملاکے اور ان دوگھڑوں کے درمیان خالی جگے کوبھردی جاتی ہے اور پھرا س بھوسہ،لید اورنمک ملی برف کوپاؤں سے خوب پامال کردی جاتی ہے۔اسکے بعد کافی ساری برف اسمیں ڈال کے چھوڑدی جاتی ہے۔اور خزان میں جب یہ سارا عمل انجام دیا جاتاہے۔ اسکے بعد موسم سرما میں دونوں مٹی برتنوں والی منجمد برف اُبھرنا شروع ہوجاتی ہیں۔اورایکدوسرے کی طرف بڑھنے لگتی ہیں۔یہاں تک ایک سال گذرنے کے بعد ان کی مقدار دوگنی ہوجاتی ہے۔بلکہ اس مقدار سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔اسکے بعد سال گذرنے کے ساتھ اورسردیوں میں برف باری کے ساتھ)وہ بڑھتی جاتی ہیں۔اور ایک سال مزید گذرنے کے بعد اورسردیوں میں برف باری کے بعد برتنوں والی برف مزید دوگنی ہوتی ہے۔اس طرح دوگنی ہوتی ہوئی5سال گذرنے کے بعددوبرتنوں کے درمیان والی برف بھی منجمدہوجاتی ہے اور اسطرح یہ تمام برف ایک ساتھ مل جاتی ہیں۔اپس میں ملنے کے بعد یہ برف زمین کے اندر اپنے لئے جگہ بنانے لگتی ہے۔اوررفتہ رفتہ ایک سوفٹ تک گہری چلی جاتی ہے۔اسکے بعد یہ منجمد برف دوبارہ ابھر کے اوپر آجاتی ہے اور اوپر موجود تمام برف کو اپنے ساتھ منجمد کرلیتی ہے اور رنگ صاف شفاف اور نیلا ہوجاتا ہے۔یہ اسطرح تمام منجمد برف گلشئیرکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
دیہات اورقبیلے (بحوالہ شاہ حسین گہتکی)
تریچ کے دیہات ذیل پرمشتمل ہیں۔

شوچ،وریمون،شاگروم،بولموشے،پارسنگھ،اوچ،زوندران گرام،موڑڈہ،کلاشان دور،لولیمی،لون کوہ،ومثرد،سوروخت۔ وغیرہ۔
سوچ:
قوبیلے،واخان،غوڑولے اور صبورے ماژے کی شاخ۔
شوچ غاڑ،
چرونے کشم سے۔
وریمون:
شاہ بازے،دروازے،فاضلے،یہ ماژے کی شاخیں ہیں۔
شاگروم:
شان ڈوئے،بولے،گوژالے،بول موشے ۔یہ قدیم زمانے سے آباد قبیلے ہیں۔جبکہ کلب حسینے ماژے کی شاخ ہیں۔
پارسنگھ:
خوجہ(سومالکی قبیلہ)تھاشے اور جمیلے ،شیریکے قدیم قبیلہ۔ میرغش:
اوچ اور خبیرے واخان سے،موسنگھے گلگت سے،چیغبرے ہنزہ سے،گوژالے گوجال گلگت سے اور پولادے،شوٹے اور کتانے قدیم قبیلے،باوڑے ورشگوم سے،حقونےورشگوم،ڈاڑلے،سوقلے،کتنے،بندالے نسکتک قدیم قبیلے۔
زوندران گرام۔

زوندران گرام کے وجہ تسمیہ کے بارے شاہ حسین گہتوی زوند نے اپنی حال ہی میں شایع شدہ کتاب اوراق گلگت و چترال صفحہ183میں لکھتے ہیں کہ ” عہد قدیم میں گرام بستیوں کے ناموں کا حصہ بنتے تھے۔ جو سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب گاؤں یا بستی ہے۔ زوندران گرام کا مطلب زون کی بستی ہے۔ ضلع اپرچترال کا زون دران گرام اور علاقہ گلگت کا کرایہ گرام ایک قبیلہ سے منسوب نام ہیں۔ علاقہ تریچ بالا کے تین مقامات کے ناموں کے ساتھ لفظ گرام استعمال شدہ ہے۔ یعنی زون دران گرام ،زور گرام اور سری گرام ۔”

راقم کی سروے کے مطابق مقامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ واریمون،زوندران گرام اور لون کوہ رئیس کے دور سے آباد تھے۔یہاں ماژے،داشمنے،اتام بیگے،رضا،قوبیلے،شاڑیکے،زونے،باٹے،بولے،کٹورے اور زوندرے آباد ہیں۔
ماژے ۔
رئیس دور میں یارکند سے آئے تھے۔وہاں سے پہلے ورشگوم،بعد میں لنکوہ اسکے بعد بعض چترال،وہاں سے موڑکھو پھروہاں سے تریچ آکر آباد ہوئے،ان میں بعض اب بھی کوراغ،ریشن اور لنکوہ میں آباد ہیں۔ماژے نام کے بارے یہ روایت ہے کہ ان کے جدامجد کانام ماج تھا۔جس سے ماج قوم بنی۔جوماژے کہلائی۔اخوانزادہ کے مطابق (صفحہ360)ماژے کا جد امجدایک رئیس شہزادی،شہزادی مختوم کابیٹا تھا۔شروع سے شہزادی مختوم کامسکن زوندران گرام تھا۔یہیں سے اسکی کئی شاخیں تریچ وادی کے کئی دیہات میں پھیلیں۔یہاں سے باہرکوراغ،زئیت،ریشن اور لنکو میں یہ قوم آباد ہے۔“

چترال خاص اوچشٹ قرئیے کے ساتھ مختون آباد کاگاؤں واقع ہے۔اسے اس شہزادی سے منسوب کرتے ہیں۔نئی تاریخ چترال کے مطابق (صفحہ 38)۔شاہ نادر رئیس(1320تا 1341)پہلے رئیس حکمران تھے۔جس نے جنوبی چترال میں کلاشوں سے حکومت چھینی تھی۔اور یہاں تک اپنی سلطنت وسیع کی تھی۔اس نے اوچشٹ میں بالاحصار جوکلاشوں کا قلعہ تھا کو مسمار کیا تھا۔ایسا لگتا ہے اسکے بعد ان رئیس حکمرانوں میں سے کسی نے اپنی اس شہزادی مختون کی مناسبت سے اس گاؤں کانام مختون آباد رکھدیاہوگا۔ماژے قوم کا رئیس خاندان کے دورمیں بہت اثررسوخ رہاتھا۔کیونکہ نئی تاریخ چترال(صفحہ38)کے مطابق اسی قوم کے ایک شخص کی مدد سے تورکھوموڑکھو کے علاقے کے حکمران یارخان کوٹھکانے لگایا تھا۔اورتورکھوموڑکھو کے علاقوں کو رئیسوں کی سلطنت میں شامل کیا گیا تھا۔گذشتہ صدی میں اس سے دو شخصیات خاص طورپر ممتاز رہے جن کاذکر یہاں بجاہوگا۔

مولانا فضل الرحمان (المعروف پھگڑے بوتیرو)مرحوم علم وعمل کے حوالے سے آپ نہ صرف اس قوم کے بلکہ تمام چترال کے لئے ایک قابل قدر ہستی تھے۔ان کے آباواجداد چارپشتوں سے تریچ سے دروش منتقل ہوگئے تھے اور اُنہوں نے1924ء میں تحصیل علم سے فارغ ہوکر جب چترال آئے تو ہزہائی نس محمد شجاع الملک نے ان کومیزان شروع کے ساتھ شاہی مسجد میں شاہی مدرسے میں استاد مقررکیا۔بعد میں جب چترال سکاؤٹس قائم ہواتو 1942ء میں ہزہائی نس محمد ناصرالملک نے ان کو بہ حیثیت خطیب اور پیش امام دروش چھاونی میں مقرر کیا۔ساتھ ساتھ وہ دروش ہائی سکول میں بہ حیثیت معلم دنیات بھی خدمات انجام دیتے رہے۔یہاں سے بعد میں دارالعلوم ربانیہ دروش میں مہتمم اور مدرس رہے اور تاوفات(1983ء) یہاں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔آج چترال کے اکثر علمائے کرام آپ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ علمی استفادہ کردہ ہیں۔(حوالہ غلام فمرتضیٰ صفحہ396اوراخونزادہ362-360)۔

محمد جناب شاہ مرحوم:
چترال کی عصری تعلیم میں ترقی کے حوالے سے اگر مستقبل کامورخ کچھ لکھے گا۔تویقینامحمد جناب شاہ صاحب مرحوم کاذکر زرین الفاظ سے کرے گا۔آج چترال میں جتنے بھی عصری تعلیم سے مستفیض لوگ ہیں۔بالواسطہ یابلاواسطہ طورپر وہ سب آپ کے مرہون منت ہیں۔آپ کا تعلق بھی ماژے خاندان سے تھا۔آپ کے والد محمد عارف شاہ جنگ بریکوٹ میں شہید ہوئے تھے۔یہ اس وقت یہ ایک نومولود بچے تھے۔لیکن بعد میں ان کی والدہ کی ہمت اور بزرگوں کی شفقت سے ان کوپشاور بھیجا گیا۔جہاں وہ اپنی خدا داد لیاقت اور محنت و شفقت سے سکول میں اعلےٰ کردگی کامظاہرہ کرتا رہا۔جسکے نتیجے میں آپ کو اسلامیہ کالج میں داخلہ ملا۔بی اے اعلےٰ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد آپ کی رائل انڈین ایرفورس میں بطورپائلٹ سلیکشن بھی ہوگئی تھی۔لیکن چونکہ ہزہائی نس محمد ناصر الملک چترال کے سکول کوقائم کرکے ان کے انتظار میں تھے کہ وہ اگر سکول کا انتظام چلا دے گا۔اسلئے ان کو پائلٹ بننے کی اجازت نہ دی گئی اور بی ایڈ پاس کرکے چترال آئے۔اس وقت ناصر الملک وفات پاگئے تھے لیکن ان کے بھائی ہزہائی نس محمد مظفر الملک نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ان کی خوب قدر افزائی کی اس طرح وہ سکول کے سربراہ بنے فاور رات دن اسکی ترقی کی کوشش کرتے۔ان کے زمانے میں ان کے تعاون سے پاکستان بننے کے بعد میراعجم خان اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے1951ء میں مڈل سکول کوہائی کادرجہ دیا۔1953میں جب انتظامی طورپر چترال میں نئی تنظیم ہوئی توآپ کو وزیرتعلیم مقرر کردیا گیا۔اور ریٹائیرمنٹ تک اس عہدے پرفرائض سرانجام دیتے رہے۔اور تمام چترال میں ہائی مڈل اور پرائیمری سکولوں کا جھال پھیلادیا۔اسکے لئے ان کوسالانہ تمام چترال کا پیدل دورہ کرنا پڑتا تھا۔اس طرح انہوں نے چترال کو تعلیمی طورپر ایک محفوظ اور مستحکم تعلیمی بنیاد فراہم کی۔اس کے لئے وہ ہمیشہ یادرکھے جائینگے۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کی پزیرائی کے طورپر تمغہ خدمت کا میڈل ان کوعطا کیا۔

یقینا ایرفورس کی ملازمت سے ان کو ذاتی طورپر فوائد حاصل ہوسکتے تھے۔لیکن قدرت نے ان سے قومی تعمیر کا جو کام لینا تھا۔اس سے انہوں نے تاریخ میں اپنے لئے جومقام بنایاوہ دوسری طرح حاصل کرنا شاید مشکل تھا(حوالہ راقم کی کتاب محمد ناصر الملک صفحہ776_375)۔(موڑکھو جاری باقی ایندہ)


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
75537