Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا صحت کارڈ پلس منصوبے کےتحت  63فیصد مریضوں نے نجی،37 فیصد نے سرکاری اسپتالوں سے علاج کروایا، 10 فیصد شہری صحت کارڈ کی سہولت سے تاحال محروم، سروے رپورٹ جاری

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا صحت کارڈ پلس منصوبے کےتحت  63فیصد مریضوں نے نجی،37 فیصد نے سرکاری اسپتالوں سے علاج کروایا، 10 فیصد شہری صحت کارڈ کی سہولت سے تاحال محروم، سروے رپورٹ جاری

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا صحت کارڈ پلس منصوبے کے سروے کے حوالے سے پیرکے روز پشاور کے مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں محکمہ صحت کے افسران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ کے تحت 63فیصد مریضوں نے نجی،37 فیصد نے سرکاری اسپتالوں سے علاج کروایا۔65 جبکہ فیصد مریضوں نے ضلعی،35 فیصد نے بڑے اسپتالوں سے علاج کرایا، اسی طرح 63 فیصد مریض مقامی اسپتال میں علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔تیس فیصد دیگر اضلاع، 6.2 فیصد لوگوں نے دیگر صوبوں کے اسپتالوں سے علاج کرایا۔ سروے رپورٹ کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ 10 فیصد شہری صحت کارڈ کی سہولت سے تاحال محروم ہیں،علاج سے محروم 44 فیصد شہریوں کو ڈومیسائل یا شہریت کے مسائل درپیش ہے، سروے میں بتایا گیا کہ 84 فیصد شہریوں نے علاج میں او پی ڈی شامل کرنے کی تجویز دی یے،

 

سروے رپورٹ میں اخراجات کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک مریض کے علاج پر اوسطاً 31ہزار 395 روپے خرچہ آتا ہے،اخراجات نجی اسپتالوں کے مقابلے میں 20سے 40فیصد مہنگے ہیں، سروے میں سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صحت کارڈ پلس پالیسی بورڈ میں شہریوں کو شامل کیا جائے اورتکنیکی خامیوں کو دور کرکے دورافتادہ علاقوں میں اسپتالوں کی استعداد کار بہتر بنائی جائے بعد ازاں نگران وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صحت ریاض انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی مسائل مسائل کے باوجودصحت کار ڈ بند نہیں ہوگا،انھوں نے کہا کہ لیٹرز اتے ہیں، تو پیمنٹ کرتے ہیں، انشورنس کمپنی کو کہا کہ ائندہ لیٹرز نہ بھیجا کریں، اس سے ٹرسٹ خراب ہوتا ہے، ریاض انور نے مزید کہا کہ سسٹم میں خرابیوں کو دور کر رہے ہیں جبکہ صحت کار ڈ کے حوالے سے انکوائری جاری ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
75311