Chitral Times

Apr 13, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط6) – پروفیسر اسرار الدین

شیئر کریں:

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط6) – پروفیسر اسرار الدین

وادی تورکھو(جاری)

کھوت کے قبائل
قریہ کھوت میں مندرجہ قبائل اہم ہیں۔
خوشے: یہ قبیلہ رئیس خاندان کے اولین دور میں چترال وارد ہوئے تھے۔اس سے پہلے بعض روایات کے مطابق شرق اوسط یعنی عرب علاقوں سے مسلمان فوجوں کے ساتھ وسطی ایشیاء آئے تھے۔اور کاشغرمیں قیام پذیر ہوئے تھے۔اسکے بعد اس خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک رئیس جسکا نام توران شاہ تھا۔وہ چترال آئے اور واپس چلے گئے اور بلخ میں وفات پائی۔ان کے تین بیٹے داستان شاہ،بوستان شاہ اور آستان شاہ واپس چترال آکر آباد ہوئے۔چونکہ یہ خاندان وسطی ایشیاء میں اہم مرتبے کے مالک تھے۔اسلئے چترال کے رئیس بادشاہ نے بوستان شاہ کوعلاقہ تورکھو،دستان شاہ کی اولاد کو ڑاسپور تابشقار اور استان شاہ کوموڑکھو میں جاگریں عطاکیں۔اس طرح یہ لوگ چترالکے مختلف حصوں میں بس گئے۔اور ان کی اولادکٹور خاندان کے تمام دور اقتدار میں بھی معتبر رہے۔اسی خاندان کے میر خوش کاپہلے ذکرہوا ہے جسکا نام روایات میں شاہ خوش امد بیگ آیا ہے۔نے بائیکے قبیلے کے بڑوں کے تعاون سے راژوئے(نہر) کی تعمیر کی تھی۔(حوالہ اخونزادہ۔اقوام چترال۔صفحہ 185تا192)۔۔

خوشے کے بارے میں حال ہی میں تاریخ کاشغری کے حوالے سے پروفیسر ممتاز حسین نے یہ معلومات بہم پہنچای ہے۔
“تاریخ کاشغری کے مطابق میر عبد ا للہ خان نے شاہ بابر ریئس کے زمانے میں بولور پر حملہ کیا گیا تھا۔اور میر خوش کو یہاں کا قاضی مقرر کیا گیا تھا۔ یہ 1660ء کاواقعہ تھا۔”

بائیکے: مقامی روایات کے مطابق یہ قبیلہ یارخون سے آکر یہاں آباد ہوا۔یہ رئیس کی بیٹی کی اولاد میں سے ہیں اور رئیس خاندان کے آخری دور میں اس قوم کی دادی یہاں آکر آباد ہوگئی تھی۔یہ قوم ریچ،اوژنو،واسچ،شوت خار میں بھی آباد ہیں اور زیادہ تریہ لوگ کھوت میں ہیں۔اخونزدہ کے مطابق ان لوگوں کا اصلی تعلق آرمینیا سے تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد اس قبیلے کے ایک بزرگ جسکانام سید عیسےٰ تھا۔پہلے بدخشان اسکے بعد چترال وارد ہوئے۔اس بزرگ جس نے راہ طریقت اختیار کی تھی اور اسی حوالے سے رئیس حکمران کے دربار میں رسائی حاصل کی۔بادشاہ نے ان کی صفات سے متاثر ہوکر اپنی بیٹی کی شادی ان سے کرلی۔بزرگ خودتو واپس کہیں چلاگیا البتہ اسکی بیوی جوشہزادی تھی اور حاملہ بھی تھی۔اپنے سوتیلے بیٹے کیساتھ تورکہو آئی۔جہاں اس وقت خوشے قبیلے کا اقتدار تھا۔اور ان کے جد امجد خوش بابا جو رئیس حکمران کی طرف سے اس علاقے میں ان کے نائب تھے نے اس شہزادی کو بہت زیادہ عزت وتکریم کے ساتھ خوش آمدید کہا۔اور ان کویہاں بسالیا بعد میں اس خاتون کاجولڑکا پیدا ہوا۔جسکا نام بائیک رکھا گیا۔آگے چل کر اسکی اولاد بائیکے کہلائی۔اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی مشاہیر گذرے ہیں جومختلف رئیس اور کٹورحکمرانوں کے ادوار میں مشہور ومعروف رہے اور صاحب اقتدار رے۔ان میں غازی محمد عیسےٰ کاذکر پہلے گذرچکا ہے۔

لالیکے : یہ رئیس دور سے تعلق رکھتے ہیں اور نہایت قدیمی باشندے ہیں اور غالباً بدخشان سے آئے تھے۔داشمنے اور زوندرے بالترتیب کٹور دور میں موڑکھو مستوج سے یہاں آکر آباد ہوئے۔
قوزیئے: یہ بشقار سے کٹور اول کے دور میں آئے تھے۔
ساڑھے: یہ بھی قدیم باشندے ہیں ان کے اصل وطن کاپتہ نہیں۔
ڈنزے: یہ بائیکے قوم کی دادی شہزادی کے ساتھ یارخون سے آئے تھے۔
دارغیر: یہ ورشگوم سے کٹور کے دور میں آئے تھے ۔

جیسا کہ ظاہر ہے خوشے اوربائیکے کے بعد یہ باقی قبائل راژوئے کی تعمیر کے بعد وقتاً فوقتاً آکرآباد ہوتے رہے۔راژوئے سے پہلے صرف چشموں کے ذریعے کچھ تھوڑی بہت آبادیاں تھیں۔لیکن اس نہرکی تعمیر کے بعد کھوت لشٹ آباد ہوا اور پوچونگ تک آبادیاں وجود میں آئیں۔مختلف لوگ آتے رہے اورتمام کھوت قریہ آباد ہوا۔بتایا جاتا ہے کھوت میں رئیس دور کے قطعے کے کھنڈرات اور دیگر کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔پروفیسر ممتاز حسین کی تحقیق کے مطابق کھوت لفظ کوٹ سے نکلا ہے جو داردی زبان میں قلعہ بند علاقے کو کہتے ہیں“ چونکہ کھوت گرداگرد پہاڑوں میں گھرا ہوا قلعہ بند علاقہ ہے ۔اس لیے کوٹ یا کھوت نام موزوں لگتاہے۔ البتہ اس نام پر کچھ اور مقامات بھی جگہ جگہ پاے جاتے ہیں۔ مثلا” درکھوت، رباط کھوت وغیرہ۔

4۔مڑپ:
رائین کے پاس مڑپ نالہ دریا ئے تورکھو کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اس نالے کے ساتھ9800فٹ کی بلندی پرکئی چھوٹے موٹے دیہات ہیں۔جومل کے مڑپ کہلاتے ہیں۔دیہات کے نام اودیر،شوت اور مڑپ ہیں۔ان دیہات میں آباد قبائل کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
اودیر میں سمالےشائے پہ ،بولے،ناسکی تک آباد ہیں۔

شوت میں شادیے، موچیے، ساکے،،ماہ والے،خوشے اور ماہ توئے آباد ہیں۔
مڑپ میں شواہ چک، باڑیے، موٹھئیے،راغزک،باشئیے،سنگالے،ناسکی تک،شادئیے آباد ہیں۔
یہ تمام قبائل قدیم زمانے سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ناسکی تک اور راغزک کسی زمانے میں سری قل سے آکر یہاں بس گئے تھے۔خوشے رائین(تورکہو) اورسنگالے موڑکھو سے آئے تھے۔باقی خاندانوں کے وطن اصلی کے بارے میں معلوم نہ ہوسکا۔قوم شادیہ اور قوم باشے کے کئی افراد ریاستی حکمرانوں کے دربار میں رسوخ والے رہے ہیں۔

5۔ شاگرام اورشوت خار:
دریائے تورکہو کے دائیں کنارے پر ایک کھلے مقام پر یہ دو قرئیے سات ساتھ واقع ہیں۔شاگرام تمام علاقے میں اہم ترین مقام رہا ہے۔اور تحصیل ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ریاست کے زمانے میں صوبہ تورکہو کا صدر مقام تھا۔اسکی اونچائی8520فٹ ہے۔اس میں مندرجہ قبیلے آباد ہیں۔

خوشے،پنین سوئے ، سنگالے ،رضا،بائیکے،کٹورے،خوشوقتے،پٹانی،موسنگھے،شغنیے، اخونزادگان،رئیسے۔ان قبائل میں رضا،کٹورے،سنگالے اور خوشوقتے موڑکھو سے یہاں کٹور دور میں آکر آباد ہوتے رہے۔خوشے اور بائیکے کھوت سے یہاں کسی وقت آئے۔پٹانی مختلف ادوار میں مختلف جگہوں سے یہاں آئے۔رئیسے کا تعلق غالباً رئیس خاندان والوں سے ہوگا۔جورئیس دور سے یہاں آباد ہوئے ہونگے۔پنین شوے بھی قدیمی قوم ہے۔اخونزادہ کے مطابق اس قوم کے جد اعلیٰ کانام پنین شاہ تھا۔اسی سے ان کا یہ نام پڑگیا۔یہ قوم عہد رئیسہ میں چترال میں واردہوئی تھی۔اس قوم کی شاخ گلگت میں بھی آباد ہیں۔جہاں غوڑے باشرے نام سے مشہور ہیں۔مہترامان الملک کی رضاعت اس خاندان میں ہوئی تھی۔“(اخوانزادہ صفحہ273)۔موسنگھے قوم بھی قدیم زمانے سے باعزت قوم طورپر مشہور ہے۔پروفیسر ممتاز حسین کی تحقیق کے مطابق کوہستانیوں میں ایک روایت مشہور ہے۔کہ کسی زمانے میں وہاں کے ایک چیف موسنگوردادا اپنی قوم کے ساتھ وہاں سے چھوڑ کرچترال میں آباد ہوگیا تھا۔غالباً یہی لوگ موسنگھے ہوں گے۔“

شغنیئے چترال کے مختلف حصوں سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں اخونزادگان نام سے چترال کے مختلف علاقوں میں ایک اہم طبقہ مشہور ہے۔یہ لوگ اگرچہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان سب میں قدرمشترک یہ ہے کہ سب علمی خاندان ہیں اور کسی زمانے میں بدخشان یا وسطی ایشیاء کے ممالک سے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں چترال آئے ہوں گے اور مختلف مقامات پر آباد ہوئے ہیں۔تورکہو کے اخونزادگان کابھی تعلق اسی طبقے سے ہوگا۔
شاگرام قریہ لگتا ہے یہ چترال کے قدیمی دیہات سے ایک ہوگا۔جواسکے نام سے ظاہر ہے جوکہ ہندی نام ہے۔مزید اس کے بعض قبیلے بھی قدیم دور سے تعلق رکھتے ہیں۔شوت خار کا وجہ تسمیہ معلوم نہ ہوسکا۔

6۔رائین:
شاگرام سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر جنوب کی طرف دریائے تورکھو کے دائیں کنارے پر یہ خوبصورت گاؤں آباد ہے۔جسکو مڑپ(یاراین) نالہ سیراب کرتا ہے۔یہ ایک نہایت قدیم گاؤں ہے اس کانام رائن ہندی نام لگتا۔ھندی میں را ئن چھوٹے شہزادے کو کہتے ہیں ۔ اسکی خوبصورتی کی وجہ سے غالباً اس کایہ نام پڑگیا ہوگا۔یہاں پُرانے زمانے کا بہت بڑے پتھر پر ایک نقش ہے۔اس نقش کی رف سکیچ(Sketech)(جوایک مقامی شخصیت محمد ھاشم نے بنائی ہے) یہاں دی جاتی ہے۔ اس پتھر کومقامی طورپر قلمدار بوتینی بوخت کہتے ہیں۔جسکا مطلب پتھر کے ساتھ باندھاہوا دیو،لوک روایت یہ ہے کہ کسی زمانے میں اس علاقے میں ایک خطرناک دیورہتا تھا۔جس سے لوگوں کو خطرہ رہتا تھا۔اسی دوران ایک بزرگ کایہاں سے گذر ہوا۔تواس نے دعا کے زور سے اس دیوپر قابو پالیا اور اسکو اس پتھر کے ساتھ باندھ لیا۔اس پتھر پرلکیروں کے جو نقوش ہیں لوگ سمجھتے تھےکہ یہ رسیوں کے نشان ہیں جن سے دیو کو باندھا ہوا ہے۔

 

بہرحال اب یہ حقیقت کھل گئی ہے کہ یہ بدھ مت کے زمانے کاآثار قدیمہ ہے جس میں ایک Stupaکی شکل ہے جو گنبد نما تعمیر ہوتی ہے جو بدھوں کے متبرک مقام کی نشانی ہوتی ہے۔اسمیں خروشی حروف میں کوئی پیغام ہے۔جوتقریباً ان پیغامات سے مشابہہ ہے جو چرن اور پختوری دینی کتبوں کے بارے ہم نے ذکر کیا تھا۔ راقم کوپتہ نہیں چل سکا کہ اب تک اس کتبے پرکندہ عبارت کوکسی نے پڑھنے (Decipher) کی کوشش کی ہے کہ نہیں بہرحال یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ گاؤں قدیم سے آباد ہے۔بتایا جاتا ہے کہ رائین میں تین مزید پُرانے قلعوں کے آثار بھی موجود ہیں۔رائین میں خوشے،زوندرے،داشمنے،قمبارے اور وخیکے قبائل آباد ہیں۔مقامی روایات کے مطابق خوشے کھوت کے بچان سے رئیس کے دور میں یہاں آئے۔قمبارے ریچ سے یہاں آئے(رئیس کے دور میں)،داشمنے موڑکھو سے رئیس کے زمانے میں یہاں آئے تھے۔وخیکے وخان سے اسی زمانے میں یہاں واردہوئے تھے۔اور زوندرے،شاہ گوشے اور شیرے مستوج سے قدیم زمانے میں یہاں آئے تھے۔زوندرے (سیرانگے) پروفیسر شفیق احمد کے مطابق پرکوسب مستوج سے آئے تھے۔اس قبیلے کابڑا محمد طیب بیگ اپنی ماں کے ساتھ کمسنی میں ہجرت کرکے رائین میں آکر آباد ہواتھا۔ان کے تین بیٹے امون بیگ،امیربیگ اور حیدری بیگ تھے جنکی اولاد رائین میں آباد ہیں۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی معتبر اشخاص بعد میں مشہور ہوئے جن میں سے قاضی محمد جہاں خان(رائین قاضی) میرزا عافیت خان اور حوالدار میجر جوش خان(غازی جہاد کشمیر)خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔میرزا عافیت خان ان اصحاب میں سے ہیں جو مہترشیر افضل کے ساتھ مدراس میں قید رہے تھے

 

* *** سکچ

chitraltimes torkhow sckech
قلمدار بوتینی بوخت کارف سکچ(وانچائی 18فٹ چوڑائی 9فٹ)(ڈرائینگ از قلم محمد ھاشم ایڈوکیٹ رائین)

7۔ورکھپ:
رائین سے تقریباً تین میل جنوب کی طرف دریائے تورکھوکے دائیں کنارے پر ورکھپ نالہ اور دریاکے اتصال پرواقع ہے۔کافی وسیع اور زرخیز مقام ہے اور یہ بھی قدیم دیہات میں سے ایک ہے اس کے نام کا وجہ تسمیہ معلوم نہیں ہوسکا۔اسمیں ذیل چھوٹے دیہات شامل ہیں۔
ژنڈروڑِ۔ دہ(خاص)۔تورخوشان دہ،موڑخوشاندہ،وارزودہ،موژدہ،قراچھیان دہ،ڑوٹیان دہ،بلایمان دہ،آنیسر۔یہاں کے قبائل خوشے،ڈوٹیے،سرانگے،پیارے،لولے،ملائیمے،بہارے پرمشتمل ہیں۔مقامی روایات کے مطابق خوشے کھوت سے،سرانگے مستوج سے کسی زمانے میں آئے تھے۔باقی کے بارے معلوم نہ ہوسکا،

8۔استارو:
یہ علاقہ تورکھو کےجنوب سے آتے ہوئے پہلاگاؤں اور شمال کی طرف سے آتے ہوئے آخری گاؤں ہے۔دریا کے دائیں طرف واقع ہے۔اسمیں تین چھوٹے دیہات ہیں جن کے نام لشٹ استارو،گول دور اور نودراغ۔
یہاں کے قبیلے بیگالے،زوندرے،خوشے،حاتم بیگے،شاہبازے، شغنیے، شوراے، سیدان ہیں۔
بیگالے ۔قدیمی ورشگوم سے آئے ہیں۔سنا ہے کہ وہاں سے سیدھے یہاں آئے تھے اور اسکا جو میدانی حصہ تھا اس کے لئے نہر نکال کرآباد کیا تھا۔استارو کا جوحصہ غیرآباد تھا اور وہاں بس گئے تھے۔

شاہ نوے۔ ان کا اصل تعلق لون موڑکھو سے ہے وہاں سے کس زمانے یہاں منتقل ہوگئے تھے۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئ علماء مشہور و معروف رہے ہیں ۔

شغنیے: یہ شغنان بدخشان سے آکے پہلے چترال کے کسی اور حصے میں آباد ہوئے تھے۔بعد میں ان کی ایک شاخ یہاں آکرآباد ہوئی تھی۔
شورائیے: یہ بھی یہاں کے نہایت قدیمی باشندے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے کوبوم کی کہتے ہیں۔ان کے مطابق اس گاؤں کے بعض حصوں کو انہوں نے پہلے سے آباد کیا تھا۔ اور باقی قبیلے ان کے بعد آتے رہے۔

حاتم بیگے:یہ نام جبورے نام سے بھی مشہورہے مقامی ایک شخصیت انجینئر محمد یونس اس قبیلے کے بارے یوں لکھتے ہیں۔”جبورے پورے قبیلے کانام نہیں بلکہ یہ اس قبیلے کی اور تورکہو کی ایک مشہور شخصیت عبدالجبار(ولد غفار بیگ) کے نام سے منسوب ایک ذیلی شاخ ہے۔اس قبیلے کا جد امجد حسن بیگ جو سلیم بیگ کی اولاد میں سے تھا۔موڑکھو سے استارو آکر آباد ہوئے تھے۔اس نے جو شجرہ بھیجا ہے اسکے مطابق عبدالجبار دسویں پشت پر آتے ہیں اور حسن بیگ 14ویں پشت پر۔اسکے مطابق حسن بیگ موڑکھو سے یہاں آکر نالے کے قریب ایک غیر آباد جگے کو آباد کرکے یہاں بس گئے تھے“ اس شجرہ کے مطابق حسن بیگ کی یہاں آمد تقریباً500سال پہلے لگتا ہے۔

اہم شخصیات۔یہاں اس گاؤں سے تعلق رکھنے والی تین اہم شخصیات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کیونکہ یہ ایسی شخصیات ہیں جوگذشتہ صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں جب کہ بہت زیادہ مشکل حالات تھے۔ہندوستان میں جاکر تعلیم حاصل کی اور واپس چترال آکے یہاں کے لوگوں کی رہنمائی کی۔یہ شخصیات مولانا حضرت الدین مرحوم،مولانا محمد وزیر مرحوم اوراستاد غلام محمد مرحوم تھے۔
مولانا حضرت الدین مرحوم: آپکا تعلق شاہ نوے قبیلے سے تھا۔

آپ نے انیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں دارالعلوم امینہ دہلی سے تحصیل علم کیا اور واپس چترال آکے اپنے علمی استعداد کی وجہ سے بہت جلد ممتاز علماء میں شامل ہوئے۔ہزہائی نس محمدناصر الملک نے اپنے گورنری کے زمانے میں ان کو مستوج میں آباد کیا اور دینی امور میں ان سے رہبری حاصل کرتے رہے۔اُنہوں نے مستوج کے علاقے میں یہاں لوگوں کی دینی رہنمائی کے سلسلے میں قابل قدر خدمات انجام دئیے۔آپ فصیح و بلیغ خطیب کے طورپر تمام چترال میں مشہور تھے اور پاکستان بننے کے بعد آپ کوکچھ عرصے کےلئے ریاست کا قاضی القضاۃ بھی مقرر کردیا گیا تھا۔

مولانا محمد وزیرمرحوم:
آپ مولانا حضرت الدین مرحوم کے چھوٹے بھائی تھے۔آپ کا تعلق بھی استارو سے تھا۔آپ نے بھی ہندوستان کے ایک اہم دیی ادارے سے تحصیل علم کیا تھا۔اور ہزہائی نس محمد ناصر الملک کے زمانے میں چترال آئے۔ان کو خذاراہ کے علاقے کاقاضی مقررکردیا گیا تھا۔ہزہائی نس محمد مظفر الملک کے زمانے میں ان کی طرف سے نمائیندے کے طورپر دہلی میں قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کے لئے جووفدگئی تھی۔یہ ان کے سربراہ کے طورپر گئے تھے۔پاکستانی بننے کے بعد جب چترال کو پاکستان میں شامل کرنے کے سلسلے میں معاہدہ کیلئے وفد کراچی گئے تو یہ اس وفد کے بھی اہم رکن تھے۔
استاد غلام محمد مرحوم(المعروف استاریکی استاد)۔
آپ کاتعلق بیگالے قبیلے سے تھا۔

آپ نے1924کے عشرے میں ہندوستان میں بھوپال سے میٹرک پاس کیا تھا۔یہ ایسا زمانہ تھا کہ چترال میں محمد ناصرالملک اور سکتر غلام مصطفیٰ کے علاؤہ کوی اعلی تعلیم یافتہ لوگ نہیں تھے۔وہاں سے جب واپس آے تو اسوقت شہزادہ محمد ناصر الملک مستوج کے گورنر تھے ۔ان کا سب سے چھوٹا بھای محمد خلیل الملک اس زمانے میں اپنے سواری والدین کے ہاں پرورش پارہے تھے۔جس کے لئے ایک قابل ٹیوٹر کی ضرورت تھی۔ شہزادہ موصوف کو غلام محمد مرحوم کا پتہ چلا۔ تو انکو ٹیوٹر مقرر کردیا۔ اسکے بعد جب دروش میں شہزادہ محمد حسام الملک نے سکول قایم کیا ۔تو آپ وہاں پر سکول کے بانی ہیدماسٹر مقرر ہوئے بعد میں چترال ہائی سکول ٹرانسفر ہوئے اوریہاں خدمات انجام دیتے رہے۔غلام محمد مرحوم ان استاتذہ کرام میں شامل تھے۔آج جن کے شاگردوں کے شاگرد تمام چترال میں پھیلے ہوئے ہیں۔
(باقی آئیندہ)


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74967