Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ممنوعہ علاقوں میں جانے والے، بھیجنے والے اور جانے میں مدد کرنے والے پر ملٹری ایکٹ لگتا ہے,پنجاب اور کے پی کے 33 افراد کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ

شیئر کریں:

ممنوعہ علاقوں میں جانے والے، بھیجنے والے اور جانے میں مدد کرنے والے پر ملٹری ایکٹ لگتا ہے,پنجاب اور کے پی کے 33 افراد کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ ممنوعہ علاقوں میں جانے والے، بھیجنے والے اور جانے میں مدد کرنے والے پر ملٹری ایکٹ لگتا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ملٹری ایکٹ کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جودفاع سے متعلقہ جگہ ہو جب کہ جناح ہاؤس کور کمانڈر کی رہائش گاہ اور کیمپ آفس تھا، وہاں بہت حساس چیزیں بھی موجود تھیں، جناح ہاؤس سے اٹھائی گئی چیز اگرکسی ہمسایہ ملک سے استعمال ہو جائے تو کیا وہ سیاسی احتجاج ہوگا،کینٹونمٹس کے علاقوں، دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہوگاسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ کرنے والوں کے کیسز سول و خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں گے، پنجاب اور کے پی کے کے 33 افراد کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا ہے جن کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوگا، 499 میں سے صرف 6 ایف آئی آر ہیں جنہیں پراسس کیا جارہا ہے، صرف 6 ایف آئی آر کا ٹرائل ممکنہ طور پر ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے۔

 

وہ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نیکہا کہ نفرت کی سیاست ایک ناسور کی طرح معاشرے میں داخل کی جارہی تھی اور ایک پروگرام کے تحت پاکستان کی سیاست کو گندا کرنے کی کوشش جاری تھی، ایک پروگرام کے تحت ملک کے دارالحکومت کو سیز کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک سال سے مسلسل نفرت کی سیاست کررہے تھے، انہوں نے نفرت کی سیاست میں 25 مئی کو اسلام آباد پر حملہ کرنا تھا، ایک پروگرام کے تحت لوگوں کو پٹرول بم بنانے کی ٹریننگ دی گئی، عمران خان ایک فتنے کا نام ہے، قوم نے اس فتنے کی شناخت اور ادراک نہ کیا تو یہ فتنہ قوم کو خطرے سے دوچارکردیگا، اس سے پہلے یہ فتنہ ملک کوکسی حادثے سے دوچار کرتا، خود ہی اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو حادثے سیدوچار کرلیا۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر مجموعی طور پر 499 ایف آئی آر درج کی گئیں، جن میں 5 ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں سے 80 فیصد لوگ ضمانت پر رہا ہیں، اے ٹی اے کے مقدمات میں 3944 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 88 مقدمات انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ اعتراض اٹھایا جارہاہے کہ ملٹری ایکٹ کا اطلاق سویلین پر ہورہا ہے، ممنوعہ علاقوں میں جانے والے، بھیجنے والے اور جانے میں مدد کرنے والے پر ملٹری ایکٹ لگتا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ملٹری ایکٹ کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جودفاع سے متعلقہ جگہ ہو جب کہ جناح ہاؤس کور کمانڈر کی رہائش گاہ اور کیمپ آفس تھا، وہاں بہت حساس چیزیں بھی موجود تھیں، جناح ہاؤس سے اٹھائی گئی چیز اگرکسی ہمسایہ ملک سے استعمال ہو جائے تو کیا وہ سیاسی احتجاج ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جوبھی ملزم ممنوعہ علاقوں میں جاتا ہے توکوئی نیا قانون بنانے کی ضرورت نہیں،اس پر قانون موجود ہے،اس لیے اگرکوئی دفاع سیمتعلق ایریا میں داخل ہوا تو اس کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات سب کے سامنے اور مختلف باتیں سامنے آ رہی تھی، میں آج تک میں خاموش تھا کہ حقائق مکمل سامنے آئیں تو بات کروں اور جو حقائق پیش کروں گا وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ کروں گا۔انہوں نے یقین دلایا کہ 9 مئی کے واقعات میں جو ملوث نہیں ہوگا اس کو کیسز میں شامل نہیں کیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کے حوالے سے کسی قانون سازی یا ترمیم کی ضرورت نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ فوجی حکام مقدمات کی تفتیش کریں گے لیکن پورا ٹرائل شفٹ نہیں ہوگا وہ یہ دیکھیں کہ کیس میں کہاں کہاں ملٹری ایکٹ یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر ایک اے ٹی اے کے کیس میں 300 ملزمان میں سے 10 ایسے ہیں جنہوں نے ملٹری یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تو اس پر فوجی ٹرائل صرف ان کی حد تک محدود ہوگا بقیہ ملزمان کے ٹرائل عام عدالتوں میں چلیں گے۔واشنگٹن میں ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپٹل ہل میں کی گئی ہنگامہ آرائی کا حوالہ دیتے ہوئیانہوں نے کہا کہ وہاں ایسی تنصیبات نہیں تھیں۔لندن فسادات میں ملوث افراد سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیا جس نے اسپیکر کے ٹیبل پر تصویر کھچوائی تھی اسے 4 سال سزا ہوئی تھی۔ وہاں تو زلمے خلیل زاد نے۔کوئی ٹوئٹ نہیں کیا۔وہاں انہیں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر ایسا کہا تو نہیں جاسکتا لیکن شاید اللہ کو اس قوم کی بھلائی مقصود تھی کہ یہ اس سے پہلے یہ فتنہ ایسی شکل اختیار کرتا کہ قوم و ملک کو کسی حادثے سے دوچار کرتا اس نے خود ہی اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو حادثے سے دوچار کرلیا۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات نے موقع دیا کہ قوم اس فتنے کا ادراک کرے اور اس سے اپنے وجود کو پاک و صاف کرے۔

 

عمران خان کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ کے زمرے میں تو آتا ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے خود ہی اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو حادثے سے دوچار کرلیا، ان کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ کے زمرے میں تو آتا ہے۔رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک فتنے کا نام ہے، قوم نے اس فتنے کی شناخت اور ادراک نہ کیا تو یہ فتنہ قوم کو خطرے سے دوچار کر دے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آج 9 مئی کے واقعات کے حقائق سامنے رکھوں گا، 9 مئی کے واقعات پر مجموعی طور پر 499 ایف آئی آر درج کی گئیں، 88 مقدمات انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی اے کے مقدمات میں 3944 افراد کو گرفتار کیا گیا، 5 ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے تقریباً 80 فیصد لوگ ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف 6 ایف آئی آر کا ٹرائل ممکنہ طور پر ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے،پنجاب میں صرف 19 اور خیبرپختونخوا میں صرف 14 ملزمان کو ملٹری حکام کے حوالے کیا گیا دیگر ملزمان کا کیس متعلقہ عدالتوں میں چلے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اے ٹی اے میں پنجاب سے 2588 اور خیبرپختونخوا سے 1099لوگ گرفتار کیے گئے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 9 مئی کو جو واقعات ہوئے ان پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ ملٹری ایکٹ کا اطلاق سویلین پر ہو رہا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ممنوعہ علاقوں میں جانے والے، بھیجنے والے اور جانے میں مدد کرنے والے پر ملٹری ایکٹ لگتا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ملٹری ایکٹ کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جو دفاع سے متعلقہ جگہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جناح ہاؤس کور کمانڈر کی رہائش گاہ اور کیمپ آفس تھا جہاں بہت حساس چیزیں بھی موجود تھیں، اگر کوئی دفاع سے متعلق ایریا میں داخل ہوا تو اس کا ٹرائل آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ نفرت کی سیاست ایک ناسور کی طرح معاشرے میں داخل کی جا رہی تھی، ایک پروگرام کے تحت پاکستان کی سیاست کو گندا کرنے کی کوشش جاری تھی، ایک پروگرام کے تحت ملک کے دارالحکومت کو سیز کرنا تھا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نفرت کی سیاست معاشرے کی تقسیم کا باعث بنتی ہے، عمران خان ایک سال سے مسلسل نفرت کی سیاست کر رہے تھے، اسلام آباد حملے میں ناکامی پر اسمبلیاں توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں، اسمبلیاں توڑنے کے بعد دوبارہ وفاق پر چڑھائی کا پروگرام بنا۔انہوں نے کہا کہ ایک پروگرام کے تحت لوگوں کو پیٹرول بم بنانے کی ٹریننگ دی گئی اور مسلسل نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر انجیکٹ کیا گیا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74958