Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زیارتِ حرمین شریفین (۲) – طواف و سعی کی روحانی لذتیں – سہیل انجم

شیئر کریں:

زیارتِ حرمین شریفین (۲) – طواف و سعی کی روحانی لذتیں – سہیل انجم

 

ہم لوگ رات میں بارہ بجے کے بعد عمرے کی ادائیگی کے لیے حرم شریف کے لیے روانہ ہوئے۔ بارہ بجے کے بعد عموماً رش کم ہو جاتا ہے۔ عمرہ کے لیے جاتے وقت میقاط پر احرام باندھ کر عمرے کی نیت کی جاتی ہے۔ ہندوستان کی طرف سے جانے والوں کا میقات یلملم نامی مقام ہے۔ جو لوگ خشکی کے راستے جاتے ہیں وہ وہاں احرام باندھتے اور عمرہ کی نیت یا حج کر رہے ہیں تو حج کی نیت کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ بذریعہ طیارہ جاتے ہیں وہ ایئرپورٹ پر ہی احرام باندھ لیتے ہیں۔ حالانکہ اگر آپ سعودی ایئر لائنز سے جائیں تو یلملم آنے سے قبل طیارے کے اندر کیبن کریو کی جانب سے اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لیکن بہتر یہی ہوتا ہے کہ آپ ایئرپورٹ ہی پر احرام باندھ لیں۔ ورنہ خدا نخواستہ طیارے میں اعلان نہیں ہوا یا آپ سو رہے ہیں یا کسی وجہ سے اعلان نہیں سن سکے تو پھر آپ جدہ یا اگر طیارہ مدینہ لینڈ کرنے والا ہے تو مدینہ پہنچ جائیں گے اور احرام نہیں باندھ پائیں گے۔ اس صورت میں آپ کو دم دینا پڑے گا۔ ہم لوگوں نے اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بنے ایک کمرے میں جسے مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں بیت الخلا اور وضو کا بھی انتظام ہے، احرام باندھ لیا تھا۔

 

ہمارے ساتھ چونکہ پانچ خواتین اور دو کم عمر بچے بھی تھے لہٰذا ہمیں مکہ کے ہوٹل سے حرم شریف تک جانے میں بیس پچیس منٹ لگتے ورنہ اکیلا شخص دس پندرہ منٹ میں پہنچ سکتا ہے۔ اِدھر سے جانے والے بابِ ملک فہد سے جو کہ 79 نمبر کا گیٹ ہے، حرم شریف میں داخل ہوتے ہیں۔ وہاں سے مطاف تک پہنچنے میں بھی دو چار منٹ لگتے ہیں۔ اب حرمین میں کافی توسیع کر دی گئی ہے۔اندر بھی لوگوں کا ازدہام ملتا ہے۔ بلکہ ہوٹل سے نکلتے ہی یہ سلسلہ چل پڑتا ہے۔ جب ہم حرم کے اندر کافی آگے تک جاتے ہیں تب کہیں جا کر نشیب میں کعبہ دکھائی دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کعبہ پر پہلی نگاہ پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے۔ اس لیے زائرین کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جب حرم شریف میں داخل ہوں تو نگاہیں نیچی کیے رہیں اور جب مطاف کے بالکل قریب پہنچ جائیں جہاں سیڑھیوں سے نیچے اترنا ہوتا ہے وہاں نگاہ اٹھائیں اور کعبہ پر نظر پڑتے ہی دعائیں مانگیں۔

عام طور پر مصروف ایام میں مطاف میں کافی رش ہوتا ہے۔ پورا مطاف بھرا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم عید الفطر کے فوراً بعد گئے تھے اس لیے بھیڑ کم ہو گئی تھی۔ نصف مطاف خالی تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گراؤنڈ فلور پر اب صرف محرِم لوگوں کو ہی جانے دیا جاتا ہے۔ جو احرام میں نہیں ہیں وہ گراؤنڈ فلور پر نہیں جا سکتے۔ گراؤنڈ فلور پر طواف کے بڑے فوائد ہیں بلکہ بڑی روحانی لذتیں ہیں۔ اسی طرح سعی بھی اگر گراؤنڈ فلور سے کی جائے تو وہاں بھی روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت ہاجرہ سامنے کھڑی ہیں اور مسکرا رہی ہیں۔ گراؤنڈ فلور سے طواف کرتے وقت نگاہیں بار بار کعبہ پر جم جاتی ہیں۔ حالانکہ کعبہ کی طرف رخ کرکے طواف کرنے کے بجائے سامنے دیکھ کر طواف کرنا چاہیے۔ کعبہ پر نظر پڑتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں۔ اور جب ایسا احساس ہوتا ہے تو پھر طواف کرنے والا عجیب و غریب لذتوں سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ وہ بار بار اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور دوبارہ حاضری کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ ممتاز مفتی نے اپنے سفرنامہئ حج ”لبیک“ میں کعبہ کو اللہ کا کوٹھا لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ میں طواف کرتے وقت جدھر بھی جاتا ادھر ہی اللہ تعالیٰ کوٹھے پر بیٹھا مجھے دیکھتا رہتا۔ مجھے ہر کونے پر اللہ بیٹھا ہوا نظر آتا۔ یہ ممتاز مفتی کا انداز تحریر ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ طواف کرتے وقت ایسا لگتا ہے کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اس کا قرب حاصل ہو گیا ہے۔ اسی لیے ہم نے لکھا کہ طواف اور سعی میں بڑی روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ہم نے تو طواف کرتے وقت ایسے ایسے جذباتی مناظر دیکھے ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے صفحات کے صفحات درکار ہیں۔

بہرحال ہم لوگوں نے آرام آرام سے طواف کیا اور ذرا دور سے کیا۔ البتہ ایک بار سب ہمت کرکے مقام ابراہیم تک پہنچ گئے اور خوبصورت شیشے کے خول میں بند حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشان دیکھے۔ وہاں ایک پتھر پر دو پاؤں کے نشانات ہیں جو ذرا سے گہرے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی پر کھڑے ہو کر کعبہ کی عمارت تعمیر کی تھی۔ ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کو پتھر دیتے جاتے اور وہ دیوار چنتے جاتے۔ پہلے مقام ابراہیم کعبہ کے بالکل قریب تھا لیکن لوگوں کی سہولت کے پیش نظر اسے تھوڑا دور کر کے نصب کر دیا گیا ہے۔ وہاں سے آگے بڑھیے تو حطیم آتا ہے۔ یہ انگریزی کے حرف U یا قوس کی شکل کا ہے۔ وہ حصہ بھی پہلے کعبہ ہی میں شامل تھا۔ کتابوں میں درج ہے کہ ایک بار مکہ میں زبردست سیلاب آیا جس کے نتیجے میں کعبہ کی عمارت ڈھے گئی تھی۔ وہاں کے مکینوں نے اس کو دوبارہ تعمیر کیا لیکن سرمایے کی قلت کی وجہ سے کچھ حصہ چھوڑ دیا گیا۔ اسی کو حطیم کہتے ہیں۔ اب قد آدم دیوار اٹھا کر اسے گھیر دیا گیا ہے۔ حطیم میں نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ آپ نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔ پہلے دیوار نیچی تھی اور اس میں نماز کی اجازت تھی۔ خود ہم دو بار اس میں نماز ادا کر چکے ہیں۔ لیکن اب شاید کسی ایک وقت ہی میں وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ اس بار ہم نے کسی بھی وقت اس میں کسی کو نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

حطیم ہی کے حصے میں کعبہ کی چھت سے نکلا ہوا وہ پرنالہ ہے جسے میزابِ رحمت کہا جاتا ہے۔ اگر طواف کے دوران بارش ہونے لگے اور آپ کو میزاب رحمت کے نیچے غسل کرنے یا خود کو بھگو دینے کا شرف حاصل ہو جائے تو سمجھیے کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں۔ حجر اسود والے کونے کے بعد کعبہ کا دروازہ ہے جسے باب کعبہ کہا جاتا ہے۔ کعبہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان کے حصے کو ملتزم کہتے ہیں۔ دروازے کے بعد والے کونے کو جو کہ حطیم کا پہلا حصہ ہے رکن عراقی، حطیم کے بعد والے کونے کو رکن شامی اور اس کے بعد یعنی حجر اسود سے پہلے والے کونے کو رکن یمانی کہا جاتا ہے۔ رکن شامی کے بعد بھیڑ کم ہو جاتی ہے اور زائرین دیوانہ وار کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں اور اس کا غلاف پکڑ کر چمٹ جاتے ہیں۔ ایک بار ہم لوگوں نے بھی جست لگائی اور کچھ دیر تک غلاف کعبہ سے اپنے ہاتھوں کو مس کرتے رہے۔ سب سے زیادہ بھیڑ حجر اسود والے کونے پر ہوتی ہے جہاں سے استلام کرکے طواف شروع کیا جاتا ہے۔ رکن یمانی سے حجر اسود تک ربنا آتنا فی الدنیا والی دعا پڑھی جاتی ہے۔

چونکہ رمضان کے زائر وہاں سے جا چکے تھے اس لیے ہمارے پہنچنے کے وقت کوئی بہت زیادہ بھیڑ نہیں تھی لیکن پھر بھی عام آدمی کے لیے کافی بھیڑ تھی۔ ازدہام کو کنٹرول کرنے کے لیے گارڈوں کی جانب سے بار بار حرم شریف کے اندر جانے کے راستے بدلے جاتے ہیں۔ کبھی یہ گیٹ بند کر دیاگیا تو کبھی وہ گیٹ۔ کبھی بہت دور تک جانے کے بعد حرم میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ بھیڑ کے مواقع پر یا جمعہ کے روز ایک ایک گوشے کو بتدریج بھرا جاتا ہے۔ ایک سمت کے تمام راستے بند کرکے ایک دو راستے کھولے جاتے ہیں۔ وہاں سامنے کی جگہیں پُر کرنے کے بعد بتدریج باقی راستے کھولے جاتے ہیں تاکہ اندر تک خالی جگہیں پُر ہو جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ کہیں ایک جگہ بیٹھ جائیں اور دوسرے اطراف میں جگہیں خالی پڑی رہیں اور بعد میں آنے والوں کو دشواریوں کا سامنا ہو۔ جمعہ کے دن ہم لوگ پونے دس بجے ہی حرم میں جا کر صف میں بیٹھ گئے تھے۔ تاخیر کی جاتی تو اندر جگہ نہیں ملتی۔ وہاں کے گارڈ ایسے ہیں کہ اگر ایک بار انھوں نے نہیں بول دیا تو دنیا کی کوئی طاقت ان سے ہاں نہیں کرا سکتی۔ اور چونکہ زائرین اس جگہ کے احترام کے پیش نظر گارڈوں سے بحث نہیں کرتے اس لیے کوئی بدنظمی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ نماز ختم ہوتے ہی سارے گیٹ کھول دیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو باہر نکلنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ان لوگوں کا فارمولہ یہ ہے کہ اندر سے باہر جانے کی جگہ خوب کشادہ رہے لیکن باہر نکلنے کا دروازہ تنگ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسی طرح رش پر قابو پاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر آپ حرم میں ہیں اور نماز سے کچھ پہلے آپ کو دوبارہ وضو کرنے کی حاجت ہوئی اور آپ باہر نکل گئے تو پھر اندر جاپانا مشکل ہو جائے گا۔ آپ کو باہر نماز پڑھنی ہوگی۔ حرم کے چاروں طرف کشادہ صحن ہے۔ بہت سے لوگ وہیں نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہاں چوبیس گھنٹے لوگ پڑے رہتے ہیں۔ اگر آپ حرم کے اندر ہی پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو دو دو تین تین گھنٹے تک پیشاب روکنے اور وضو کوبچائے رکھنے کی ضرورت پڑے گی۔ غیر محرِم لوگوں کو اوپری منزلوں پر نماز ادا کرنی پڑتی ہے۔

بہرحال ہم لوگوں نے طواف کے بعد مقام ابراہیم سے ذرا آگے باب فتح کے بورڈ کے نیچے جہاں رش کم ہوتا ہے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر آب زمزم پیا۔ صلوۃِ طواف مقام ابراہیم کے سامنے ادا کرنی چاہیے لیکن علما کا کہناہے کہ بھیڑ کے پیش نظر کہیں بھی دو رکعت نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ مطاف سے طواف کرنے میں کم وقت لگتا ہے لیکن اگر آپ اوپری منزلوں سے یا چھت سے طواف کریں تو اوسط چال میں بھی ایک چکر میں کم سے کم دس پندرہ منٹ لگیں گے۔ یعنی ساتوں چکر مکمل کرنے میں سوا ڈیڑھ اور اگر وہاں بھی بھیڑ ہے تو دو گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔ اس لیے لوگ گراؤنڈ فلور سے طواف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب جبکہ صرف احرام پوش ہی مطاف میں جا سکتے ہیں اس لیے بہت سے لوگ جو عمرہ نہیں بھی کر رہے ہوتے اور نیچے سے طواف کرنا چاہتے ہیں تو وہ یوں ہی احرام باندھ لیتے ہیں اور گراؤنڈ فلور پر چلے جاتے ہیں اور پندرہ بیس منٹ میں طواف کرکے واپس آجاتے ہیں۔ حالانکہ یہ مناسب نہیں ہے۔ گراؤنڈ فلور سے طواف کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کو وہیں مطاف میں نماز پڑھنے کا بھی موقع مل جاتا ہے۔ اگر آپ کو کعبہ کے قریب کی صف میں جگہ مل گئی تو آپ نماز کے فوراً بعد غلاف کعبہ سے لپٹ بھی سکتے ہیں۔ دو بار ایسا ہوا کہ ہمیں مطاف میں کعبہ سے چند صفوں کے فاصلے پر نماز ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ ہم لوگوں نے دیکھا کہ سلام پھیرتے ہی اگلی صف کے نمازیوں نے دوڑ لگائی اور پھر وہ غلاف کعبہ سے چمٹ گئے۔

رات میں تین بجے کے آس پاس تہجد کی اذان ہوتی ہے اور اسی وقت سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ تیز ہو جاتا ہے۔ آجکل چار بج کر اٹھارہ منٹ پر فجر کی اذان ہو رہی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر نماز فجر کی ادائیگی کے اور ہی مزے ہیں۔ نماز میں جب امام قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو کھلے آسمان کے نیچے ہونے کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کے تلاوت کی آواز آسمان سے بھی آرہی ہے اور زمین سے بھی۔ چاروں سمتوں سے قرآن کی آیات سنائی دیتی ہیں۔ اور جب امام عربی لہجے میں زیر و بم کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تو پھر جو لطف آتا ہے اور جو خشوع و خصوع پیدا ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ تہجد کی اذان ہوتے ہی مطاف میں لوگ صفیں بنانے لگتے ہیں جو بتدریج کعبہ کی جانب آگے بڑھتی جاتی ہیں۔ ادھر طواف بھی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن چونکہ صفیں آگے بڑھتی جاتی ہیں اس لیے طواف کی جگہ تنگ ہوتی جاتی ہے اور نماز سے عین قبل تو یہ صورت ہوتی ہے کہ صفیں کعبہ تک آراستہ ہو جاتی ہیں اور طواف کرنے والے صفوں کے درمیان سے گزرتے ہیں۔ مطاف میں نماز کی ادائیگی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ نماز سے قبل بیٹھے ہوئے آپ حجر اسود سے نگاہیں چار کیجیے کون آپ کو روکے گا۔ بار بار دیکھیے اور خوب دعائیں کیجیے۔ کیا پتہ اللہ کس لمحے میں اور کون سی دعا قبول کر لے۔(جاری)


شیئر کریں: