Chitral Times

Apr 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس، اجلاس میں 9 مئی کے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی بھر پور مذمت کی گئی

Posted on
شیئر کریں:

نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس، اجلاس میں 9 مئی کے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی بھر پور مذمت کی گئی

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاورمیں منعقد ہوا جس میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیااور اجلاس میں آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات کے موثر تدارک کیلئے لائحہ عمل پر غور و خوص کیا گیا اور کئی ایک اہم فیصلے کئے گئے ۔ نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل ، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنر ل حسن اظہر حیات، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری ، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈا پور ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان اور دیگراعلیٰ سول و عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔تمام ڈویژنل کمشنرز بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک تھے ۔ اجلاس کو صوبے میں امن و امان سے جڑے مختلف امور کے علاوہ مختلف مقامات پر 9 مئی کے پر تشدد مظاہروں میں ہونے والے نقصانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں 9 مئی کے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کی بھر پور مذمت کی گئی اور مظاہروں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات کسی صورت قابل برداشت نہیں اور ان پرتشدد واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائیگی۔

 

اجلاس کو صوبے کے مختلف مقامات پر 9 مئی کو ہونے والے پر تشدد مظاہروں اور ان میں ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کے 176 مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ ان مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 4063 سڑکیں بلاک کی گئیں۔ ان مظاہروں کے دوران20 سرکاری اور 10 نجی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف 101 ایف آئی آرز درج کرائی گئی ہیں ۔ ان مظاہروں کے دوران جلاو گھیراو اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لئے کارروائیاں جاری ہیں۔اجلاس میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے اسمبلی چوک میں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ حکام کو احتجاجی مظاہروں کے لئے متبادل مناسب جگہ مختص کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ۔

 

اجلاس میں پرتشدد مظاہروں کی روک تھام کے لئے خیبرپختونخوا پولیس کے اینٹی رائٹس سکواڈ کو مضبوط کرنے کے لئے قلیل المدتی ، وسط المدتی اور طویل المدتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اینٹی رائٹس سکواڈ کے لئے جدید آلات کی خریداری کے لئے فوری طور پر 303 ملین روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ دوسرے مرحلے میں اینٹی رائٹس سکواڈ کے لئے 601ملین روپے جبکہ تیسرے مرحلے میں 1.2 ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں 9 مئی جیسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لئے Rapid Response Contingency Plan تیار کرنے اور ریڈ زون کی سکیورٹی کے لئے جدید آلات سے لیس پولیس کا خصوصی دستہ مختص کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ریڈ زون سے باہر واقع اہم سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کی نشاندہی کرنے اور ناخوشگوار واقعات کے موثر تدارک کے لئے صوبے اور ڈویژنز کی سطح پر جوائنٹ کنٹرول رومز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں احتجاجی مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاو اور گھیراو کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور نجی و سرکاری املاک کا تحفظ حکومت وقت کی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ ان مظاہروں کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکےں گے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت اپنی رٹ ہر صورت قائم رکھے گی اور کسی کو بھی صوبے کا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے ان مظاہروں کے دوران صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے پرپولیس ، سکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے کردار کو بھی سراہا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74845