Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غریب کی عیاشی، بس ایک روٹی – محمدشریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

غریب کی عیاشی، بس ایک روٹی – محمدشریف شکیب

خیبر پختونخوا کے نگراں وزیر اعلی محمد اعظم خان کا کہنا ہے کہ ہمارا صوبہ اپنی ضرورت کی 80فیصد گندم پنچاب سےخریدتا ہے۔پنجاب سے ایک سو کلو گرام گندم چترال پہنچانے میں قیمت اور ٹرانسپورٹیشن سمیت ساڑھے بارہ ہزار روپے لاگت آتی ہے۔صوبائی حکومت اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے ایک من گندم کی خریداری پرزیادہ سےزیادہ ایک ہزار روپےکی سبسڈی دےسکتی ہے۔قوم کو گذشتہ دو مہینوں سےیہ نوید سنائی جاتی رہی کہ ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور ملکی ضروریات کے لئے باہرسےگندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جونہی گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آگئی اس کی قیمت میں اچانک 50فیصد اضافہ کردیا گیا۔ محکمہ خوراک کی طرف سے گندم کی قیمتوں میں اضافے کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے اور فلور ملوں کو سرکاری ریٹ کے مطابق آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

گندم کی قیمت میں اضافے کے بعد بیس کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 2850روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ دس کلوگرام کے تھیلے کی قیمت 1425روپے مقرر ہے۔ ایک سال قبل جب ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم درآمد کی گئی تھی اس وقت بیس کلوگرام آٹے کی قیمت 970روپے تھی ایک سال کے اندر اس کی قیمت میں 300فیصد اضافہ نہایت ظالمانہ اور غریب کش فیصلہ ہے۔ روٹی ہر انسان کی ضرورت ہے اور روزانہ صبح، دوپہر اور شام کو ہر انسان روٹی کھاتا ہے۔ گوشت، چاول، دال ، سبزی پکانا تو آج کے دور میں عیاشی کےزمرے میں آیا ہے۔ غریب لوگ روٹی چائے اور لسی کے ساتھ کھاتے ہیں۔گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تندور والوں نےروٹی کا وزن بھی کم کردیا ہےاور ریٹ غیر اعلانیہ طور پر بڑھادیئے ہیں 150گرام کی روٹی پشاور سمیت صوبے کےاکثر مقامات پرچالیس روپے میں بیچی جاتی ہے۔اگرایک خاندان میں چھ افراد رہتے ہیں اور ہر فرد ایک وقت میں صرف ایک سوکھی روٹی بھی کھالےتو اس خاندان کو ایک دن میں اٹھارہ روٹیاں درکار ہوتی ہیں جن کی قیمت 720روپےیومیہ بنتی ہے۔

 

ایک دیہاڑی دار مزدور دن میں بمشکل آٹھ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک کماپاتا ہے۔ہمارے حکمران اور پالیسی ساز مہربانی کرکے اس دیہاڑی دار مزدور کا مہینہ کا بجٹ بھی بنا کردیدیں تو ہم معیشت کے حوالے سے ان کی مہارت کو تسلیم کریں گے۔ ایک ہزار کی دیہاڑی میں غریب خاندان کےسربراہ کو بچوں کےسکول کی فیس،بجلی، گیس اور پانی کا بل، مکان کاکرایہ اورتین وقت کےکھانےکابھی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ ایک وقت کی دال سبزی کی ہانڈی چھ سات سو روپے میں بنتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ گذشتہ چار پانچ مہینوں سےتیل کی قیمت 272روپے لیٹر پر برقرار تھی،چند روز پہلے اس میں دس روپے فی لیٹر کمی کردی گئی تو کیا تیل کی قیمت کم ہونے سےٹرانسپورٹیشن کاخرچہ بڑھ جاتا ہے؟گندم کی قیمت میں حالیہ ہوشرباءاضافےپر تمام شعبہ ہائے زندگی کےلوگ نہ صرف پریشان بلکہ سراپا احتجاج ہیں۔گذشتہ روز اس صورتحال پر غور اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے چترال میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی۔ موجودہ حکمران جماعتوں کے مقامی قائدین سمیت تمام سیاسی پارٹیوں نے گندم کی قیمت میں اضافے پرشدید احتجاج کیا ہے۔اورفیصلے پر ایک ہفتے کےاندر نظر ثانی نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس سےامن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74723