Chitral Times

Mar 5, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غریبی ختم – تحریر:کلثوم رضا

Posted on
شیئر کریں:

غریبی ختم – تحریر:کلثوم رضا

“مبارک ہو غریبی ختم ،امیری ہی امیری ہو گی….نئی انقلابی حکومت ائی ہے”

یہ بات چھ سال پہلے جب ہم ایک رشتہ دار سے ملنے گئے تو کسی بات پر ان کے جواں سال بیٹے نے کہا ۔کچھ حیرانی سے ان کی طرف دیکھا تو مزید کہا ۔”کہ جس تیز رفتاری سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس سے یقیناً غریبی ختم ہو جائے گی۔کیوں کہ جب غریب کھانے کے لیے کھانا اور علاج کے لیے دوا لینے کے قابل نہیں رہے گا تو اس کی موت یقینی ہے۔اور جب سارے غریب ایک ایک ہو کر مر جائیں گے تو بچیں گے صرف امیر لوگ۔یوں غریبی ختم امیری ہی امیری رہ جائے گی”_
اس کی بات ذرا دل کو لگی مگر ہم نے ناامیدی اور مایوس کن خیالات سے خود کو اذاد کرکے جواب دے دیا “کہ ہو سکتا ہے نئی حکومت کچھ تبدیلی لائے۔”
لکین روزانہ تو کیا صبح و شام کے حساب سے مہنگائی بڑھتی ہی چلی گئی ۔

پہلے ہر کوئی سستی چیزوں میں دال، روٹی اور چائے چپاتی کی مثالیں دیتا تھا اب یہی دال ،روٹی ،چائے چپاتی بھی غریب کی پہنچ سے دور جا چکی ہے۔سنا ہے اکثر گھرانوں میں دودھ والی چائے پینا بھی بند ہو گیا ہے۔دال ،گھی،اٹا،چاول،چائے،چینی، ادویات حتیٰ کہ سبزی اور میوے کی قیمتیں بھی اسمان سے باتیں کرنے لگیں تو گوشت کا کوئی کیسے سوچ سکتا ہے۔ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں مناسب ہوتیں تو غریب،مزدور کار اور متوسط کلاس کے لوگ اپنے بچوں کو کچھ کھلا پلا سکتے۔کچھ توانائی ان کے جسم میں آ جاتی ۔مناسب غذا اور بنیادی تعلیم ہر شہری کا حق ہے۔اب ہر کوئی پیٹ کی فکر میں ہلکاں ہوئے جا رہا ہے تو تعلیم کی طرف سوچے بھی کیسے۔۔۔بیچارے لوگوں نے تو اپنی معمولی خواہشات کی تکمیل کو بھی فراموش کر دیا ہے۔

بقول راحیل احمد
*اتنی مہنگی پڑی ہیں تعبیریں
خواب آنکھوں میں اب نہیں اتے*

گزشتہ تین ،چار برسوں میں ہم نے جس تیز رفتاری سے بنیادی ضروریات زندگی کے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور عوام کی امیدوں کو بکھرتے دیکھا، بیان سے باہر ہے۔چونکہ بندی کے ذمہ الخدمت فاؤنڈیشن ویمن ونگ ضلع چترال کی نگرانی ہے تو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ مزید پریشانی کا باعث بنا۔دو سال پہلے ایک چھوٹا راشن پیکج 24سو 20کلو اٹا 930 ملاکے 33سو، پچھلے سال وہی راشن پیکچ 44سو 20کلو اٹا 14سو پچاس ملا 5ہزار 8سوپچاس اور اس سال وہی راشن 6ہزار سے تجاوز اور اٹا 3ہزار میں 20کلو یعنی تقریباً 55 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔اور اسی سلسلے میں پچھلے دنوں چکدرہ جانا پڑا تو چترال میں گاڑی میں پیٹرول ڈال کر گئے شام کو واپسی پر دیر میں 6روپے فی لیٹر میں اضافے کے ساتھ ڈالا۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مہنگائی تب بھی بڑھتی رہی جب دنیا میں کہیں اور نہیں بڑھی۔
گزشتہ رمضان میں جس طرح پریشانی اور بے غیرتی سے لوگ آٹوں کے پیچھے ذلیل ہوئے، اور عید پر اپنے بچوں کے لیے عید کی خریداری کرنے بازاروں میں نکل کر ہر دکان میں یہ سوچ کر گھسنا کہ شاید کہیں سے معصوم بچوں کے لیے کچھ خرید سکیں ،جیب ٹٹولتے رہ جانا اور مایوس گھر کو لوٹنا ان کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔میرے سکول کے اکثر بچے عید پر نئے کپڑے نہیں پہن سکے۔۔۔سکول اتے ہوئے بھی زنانہ ومردانہ،ناپ بے ناپ کا فرق نہ کرتے ہوئے پرانے جوتے پہن کر اتے ہیں (حالانکہ بازاروں میں پلاسٹک کے جوتے بھی دستیاب ہیں ) یقینا یہ لوگ وہ بھی نہیں خرید سکتے۔۔ٹوٹے چپل پہن کر دور سے اتی بچی کو دیکھ کر جب ان کی والدہ سے یہ کہا کہ ان بچیوں کے لیے بےنظیر انکم سپورٹ والوں کی طرف سے تو پیسے اتے ہیں کم از کم ان سے ان کی ضروریات کو ہورا کریں تو اس نے کہا کہ ہم کہاں سے پورا کریں کوئی مزدوری بھی نہیں ہے ادھار لا کر کھاتے ہیں جب یہ پیسے ملتے ہیں تو ادھار ہی پورا نہیں ہوتا جوتے کہاں سے لا کر دیں۔

سب سے بڑی مایوس کن بات تو یہ ہے کہ ہر پڑھا لکھا نوجوان موجودہ ملکی حالات کی بے ترتیبی سے اتنا مایوس ہو چکا یے کہ اسے اپنی مستقبل کی کوئی امید اس ملک میں بر انے کی نہیں رہی۔ہر نوجوان یہ کہتا نظر اتا ہے جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس ملک سے فرار ہونا ضروری ہے۔یہ اسلام کے نام ہر حاصل کیا گیا پاکستان نہیں رہا۔یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔یہاں کسی غریب کو تو کیا متوسط طبقے کا جینا بھی محال ہوتا جا رہا ہے۔یہ کچھ جاگیر داروں کا پاکستان ہے جو باری باری اپنی آقائی کو تسلیم کروانے کے لیے چھینا جھپٹی کر کے اقتدار میں آتے ہیں۔اور عوام کا خون چوس چوس کر اپنی من پسند مشروب سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں ۔اس ملک میں تبدیلی اور ترقی کے کوئی آثار نظر نہیں اتے ۔جس چیز نے روز بروز ترقی کر لی ہے وہ بدامنی،ناامیدی اور مہنگائی ہے۔اور متبادل راستہ بھی کوئی نہیں یے جس سے بندہ اپنی امدن بڑھا سکے ۔ اس ملک میں رہ کر بندہ اپنی کون کونسی ضروریات کے لیے تگ و دو کرتا ریے۔

*زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمین
پاوں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے*۔۔
(شاعر نامعلوم)

معشیت کے ماہرین کے مطابق چیزوں کی قیمتیں امدن سے دوگنی بڑھ رہی ییں جس کے سبب والدین اپنے بچوں کی ضروریات و معمولی خواہشات کو پورا نہ سکنے پر جوان اولاد خودکشی کرتے ہیں یا نشے کی لعنت کو گلے لگا کر دنیا سے بے رغبتی اختیار کر لیتے ہیں۔

اور یہ بھی انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ حکومت اس مہنگائی اور پریشانی سے نپٹنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرتی۔اب عوام کو خود ہی اس بارے میں سوچنا ہو گا کہ
????کیا ہم یوں ہی اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دن رات کوشش کے باوجود ایک وقت کھانے ہر اکتفا کرتے رہیں گے؟
????کیا ہم یوں ہی اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو بھی دفن کرتے رہیں گے؟
????کیا ہم شرمندہ تعبیر نہ ہونے کے ڈر سے خواب دیکھنا چھوڑ دیں؟
????کیا ہم یہ سب دیکھتے رہ جائیں کہ ہمارے زہین اور ہنر مند جوان اپنی مستقبل سنوارنے بیرون ملک روانہ ہوتے رہیں؟
????اور ہمارے ملک میں صرف غذائی قلت کے شکار لاغر جسم والے اور تعلیم و تربیت سے محروم جاہل پیٹ کے پجاری سیاسی نعرے باز ہی رہ جائیں؟
????یا ہم ان ازمودہ نسخوں کو پھینک کر نیا اور بہتر نسخہ آزمائیں گے؟
????️*کیوں چھینتے نہیں ہو موالی سے اقتدار
ڈھایا ہے ظلم جس نے ہر خاص و عام پر*
(رشید حسرت)

کیا ہی اچھا ہو اگر اس بار عوام اپنے لیے ایک ایسے حکمران کا چناؤ کریں جو صاحب علم ہو اپنے اقتدار کے اصول و ضوابط قرآن وسنت سے اخذ کر سکے۔دین کی نفاذ کی طاقت رکھتا ہو جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومت کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔دین کے خلاف کوئی بات اپنی دور حکومت میں نہیں ہونے دیا اور ساتھ ساتھ تبلیغ دین اور ا سکی نشرو اشاعت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔۔۔ملکہ سبا کا اپنے دین کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ تعالیٰ کے اگے جھکنا اسی دیندار حکمران کی تبلیغ کا نتیجہ ہے۔

صاحب حکمت و دانا ہو جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے قحط پڑنے سے پہلے اس سے بچنے کی تدبیر کی۔۔۔اور ہمارے حکمران اس چکر میں پڑے رہتے ہیں کہ کب کوئی افت ائے اور ہم کشکول لیے دنیا بھر میں پھرتے رہیں” ایک روپئی بابا ایک روپئی”۔
ہمارے پاس بہتر تدبیریں نہ ہونے کی وجہ سے اب تو سیلاب سے ہماری زمینیں بھی گئیں دہقان بھی گئے۔

اب کی بار اگر عوام چنیں تو ایسے حکمران کو جو عدل وانصاف والا ہو،جس طرح ہمارے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ _قبیلہ بنو مخزوم کی ایک صاحب حیثیت عورت نے چوری کی تو اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔۔۔سفارش آنے پر خدا کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ “اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرے تو اس کے لیے یہی حکم ہے”.اور اپنی پاک دور حکومت میں عوام کی فلاح بہبود کے لیے بہترین منصوبہ زکوٰۃ ،عشر اور صدقات کے نظام کو قائم کیا۔

کاش اس بار عوام ایسے حکمران کا انتخاب کر سکیں جو انہیں اندرونی اور بیرونی شر پسندوں سے محفوظ رکھ سکے اور ان کی طرف انے والی ہر مصیبت کے سامنے ایسا بند باندھے جس طرح حضرت ذوالقرنین نے یاجوج و ماجوج کے اگے باندھا ہے۔۔۔۔

لیکن یہ سب تب ممکن ہے جب عوام ایسے لوگوں کو اپنا قائد اور راہنما بنائیں جو درج بالا اوصاف کے مالک ہوں ورنہ یہی کرپٹ اور عدل و انصاف کے دوہرے معیار والے ہی ان پر باری باری حکومت کریں گے ۔۔


شیئر کریں: