Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہمارا پاکستان – گل عدن چترال

شیئر کریں:

ہمارا پاکستان – گل عدن چترال

دیہاتوں میں جب بچہ بہت رونے لگے تو اسکا نام بدل دیا جاتاہے پھر اگر وہ مسلسل بیماری میں مبتلا رہے تو دوبارہ نام تبدیل کیا جاتاہے۔پھر آگے جاکر سکول میں اگر بچہ پڑھائی میں دلچسپی نہ دکھائے تو ایک بار پھر نام کی تبدیلی عمل میں آتی ہے۔یہ ہمارے بزرگوں کا نہایت مضحکہ خیز اعتقاد ہے نام پر۔کہ صرف نام بدلنے سے بچے کی حالت اور قسمت بدل جائے گی۔کچھ ایسا ہی سلوک ہمارے وطن عزیز کے ساتھ ہمارے بڑوں نے کیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑوں اور خاندان کے بڑوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ہم پرانے پاکستان کے باسیوں کو کھبی نئے پاکستان منتقل کردیاگیا کھبی ریاست مدینہ کا خواب دکھایا گیا اور اب ایک نئے نام “ہمارا پاکستان “ہم سے جسطرح متعارف کیا گیا پورا پاکستان مقبوضہ کشمیر’ فلسطین’شام اور برما کے حق میں بولنے کے قابل نہیں رہی۔گو کہ کچھ بھی نیا نہیں ہوا پچھلے ستر سال کی یہی مختصر کہانی ہے۔ہر بار اس گھر کو آگ ‘گھر کے چراغ سے ہی لگی.جب جب جس نے چاہا آئین کا مذاق بنایا ‘جمہوریت کی دھجیاں اڑادیں،قانون کی خلاف ورزیاں ستر سالوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں بار ہوا۔

 

سیاست میں حصہ لینے والی خواتین کے ساتھ بھی علاقائی’صوبائی سطح پر ڈرانے دھمکانے کی نیچ کوششیں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں ہاں البتہ بین الاقوامی سطح پر خواتین کی اتنی بے حرمتی اور ایسا توہین آمیز سلوک تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ایسے واقعات سے کسی ایک ادارے کا نقصان نہیں ہوا۔بلکہ بین الاقوامی سطح پر لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کی گئی ایک پوری ریاست کی توہین ہوئی ہے۔مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ملک کا کوئی ایک ادارہ بھی اس توہین کو محسوس نہیں کررہا کسی ایک سیاسی یا مذہبی جماعت نے کوئے مذمتی بیان نہیں دیا اور یہ ان جماعتوں کے لئے زیادہ بے عزتی کی بات ہے لیکن سچ کہا ہے کسی دانا نے کے توہین انکی ہوتی ہے جنکی عزت ہو ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار کی حرص میں اپنی عزت کب کی گنوا چکے ہیں۔ان واقعات اور ایسے واقعات پر اس خاموشی کے پیچھے اس قوم کی سطحی ذہنیت چھپی ہوئی ہے۔اسی لئے میں قوم کا ایک خالصتا گھریلو تجزیہ پیش کررہی ہوں کیونکہ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا کہ ہمارے ملک کے بڑوں اور خاندان کے بڑوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ہمارے گھروں میں بھی کنبہ چھوٹا ہو یا بڑا ایک باس بےبی ضرور ہوتا ہے جو نا صرف اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں پر حکومت کرتا ہے بلکہ اسکے بڑے بہن بھائیوں سمیت والدین بھی گھر کی امن و سلامتی کی خاطر ‘جھگڑے فساد سے بچنے کے لئے گھر کی سکون کے لئے اپنے ہی باس بےبی کے ماتحتی میں زندگی گزار لیتے ہیں۔

 

اپنی مرضی اور خوشی سے ایک بے بی کو “باس بے بی” بنانے والے والدین باقی بچوں کو قربانی صبر برداشت اور سمجھوتے کی گھٹی پلاتے نہیں تھکتے۔۔اہم چیز یہ نہیں ہے کہ فسطائیت کا آغاز گھروں سے ہوا ہے یا ملک کی فسطائیت کا اثر گھر گھر پر ہوا ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی غلام ذہنیت کی وجہ سے گھر گھر میں فسطائیت جھیل رہے ہیں۔ہماری تربیت میں ہی غلط کو غلط نہ کہنے کا درس شامل ہے۔اختلاف رائے کی صورت میں آپکو بد اخلاقی اور نافرمانی کا سرٹیفکیٹ بھی ملتا ہے اور آپ کو غدار ثابت کرکے عاق بھی کیا جاسکتا ہے سو ناانصافی کا بد ترین دور شروع ہوتا ہے جسکا نتیجہ نا اتفاقی آپس میں دشمنی کی صورت میں نظر آتا ہے کیونکہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو اس معاشرے میں ظلم ہوتا ہے اور کا انجام انتشار، فساد، تباہی کے سوا کچھ نہیں۔اور جن بڑوں میں اختلاف رائے سننے کی طاقت نہیں ہوتی انہیں پھر بچوں کی بدتمیزی سہنی پڑ جاتی ہے۔میں موجودہ حالات کی اس گھریلو سطح پر تجزیہ کرنے پہ اس لئے بھی مجبور ہوں کیونکہ میں نے ہمیشہ دیکھا ہےکہ سیاسی اختلافات میں ہمارے کتنے پڑھے لکھے بظاہر مہذب اور خاندانی لوگ محض سیاسی اختلافات کی بنیاد پر اپنے مخالفین کے لئے کتنی نیچ اور گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں۔

 

عوام کو چھوڑیں ہمارے سیاسی قائدین کی مثال لیجئے جو آئے دن بڑے پیمانہ پر بلا وجہ جلسوں کا انعقاد کرتے ہیں جس زور و شور سے جلسوں کی تیاری ہوتی ہے گمان ہوتا ہے کہ شاید ملک کی مفاد کے لئے اہم ترین فیصلوں کا اعلان ہونے جارہا ہے۔انکی ایک آواز پر دور دور سے انکے حمائتی اپنی جان مال اور وقت کو داو پر لگا کر آتے ہیں مگر کیا سننے آتے ہیں؟خطاب کے نام پر ہمارے عظیم لیڈروں کا ایک دوسرے کی کردار کشی’ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا’برے برے القابات سے نوازنا۔اس سب سے سیاست کا یا کسی کے اعلی تعلیم یافتہ لیڈران ہونے کا تاثر نہیں ملتا بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سوتیلے بہن بھائیوں اور ساس بہو کے روایتی لڑائی جھگڑوں کی عدالت سجائی گئی ہو۔لیکن اس سب کے باوجود بھی افسوس کا مقام یہ ہے کہ نہ تو ان جلسوں میں کمی آتی ہے نہ ان کے شرکاء میں جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہم چاہے کتنے ہی پڑھ لکھ جائیں کتنی ہی ترقی کرلیں’خود کو کتنا ہی لبرل دکھائیں ‘رہیں گے ہم مجموعی طور پر سطحی سوچ والے گھریلو قوم ہی۔۔دوسرا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس قوم کے سب سے بڑے دشمن اس ملک کی عوام ہیں۔ملک کے اداروں پر انگلی اٹھانا اور انہیں ملک دشمن ثابت کرنے کی کوششیں کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لئے عوام سوچے کے ہم خود کتنے پانی میں ہیں؟آج احتجاج اور جلسوں کے نام پر ہم ہر سیاسی جماعتوں کے ذاتی مفادات کی جنگ میں شامل ہیں۔انکی آپس کی لڑائیاں نمٹانے انکی ایک آواز پر گھر میں بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر پارٹی سے وفاداری نبھانے جارہے ہیں بنا سوچے کہ اس جنگ میں ہمارا فائدہ کیا ہے۔

 

کرسی کی لڑائی میں 23 کروڑ عوام کو کتنا فائدہ ہوگا۔جس دن عوام صرف اپنے ذاتی حقوق کے لئے باہر نکلے گی یقین کریں اس دن کوئی سیاسی جماعت آپ کا ساتھ نہیں دے گی۔مثال کے طور پر جب جب سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں کے لئے احتجاجا سڑکوں پر آکر بیٹھ جاتی ہیں تو آپکے علاقے کے کتنے سیاسی جماعتیں آپکے احتجاج میں شریک ہو کر آپ کا ساتھ دیتی ہیں؟؟عوام پر جب مشکل وقت آتا ہے تو یہ سیاسی جماعتیں گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔سمجھنے کی ضرورت صرف اتنی ہے کہ ان سیاست دانوں نے اپنے بچوں کو باہر ملک سے پڑھانا ہے’ان لوگوں نے اپنے سر درد کا بھی علاج دوسرے ملک جاکر کرنا ہے ان لوگوں نے ہمارے ووٹ سے کرسی پا کر اتنی دولت اکھٹی کرلی ہے کہ ان کی سات نسلیں بھی بیٹھ کر کھائیں تو ختم نہیں ہوں گی۔مگر اس خانہ جنگی سے ہمارے ہاتھ میں کیا آئیگا؟؟؟ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ‘سہولیات سے محروم ہسپتال،جعلی ڈاکٹر جعلی پیر جعلی ادویات ‘دو نمبر کے علماء،بے روزگاری مہنگائی بھوک افلاس غربت ترقی کے نام پر پھٹی جینز؟؟؟جلسوں اور سیاسی جماعتوں کے حمائتی ہمیں ضرور بتائیں۔یہاں میں اس قورمہ کا ذکر ضرور کرنا چاہتی ہوں جو خانہ جنگی کی صورتحال میں کورکمانڈر کے گھر سے چوری کی گئی۔رونے کا مقام ہے کہ حالت جنگ میں ایک شخص فریج سے قورمہ کا سالن چراتا ہے ایک کیچپ اور ایک پیپسی کی بوتل اٹھائی جاتی ہےاور ان واقعات کو لیکر عوام ایک مخصوص ملوث سیاسی پارٹی کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔۔

 

تو مجھے اس واقعے سے 2008 کا زلزلہ یاد آگیا ہے جہاں ملبے تلے دبے مردہ لوگوں کے ہاتھوں سے زیورات چرائے گئے تھے۔کیا وہ زیورات چرانے والے کسی سیاسی پارٹی کے کارکن تھے؟ہرگز نہیں ۔یہ قورمہ چور بھی پاکستانی عوام ہیں اور وہ مردوں کے ہاتھوں سے زیورات چرانے والے بھی پاکستان کی عوام تھے۔کسی پارٹی کے نام کا لیبل لگانے سے پاکستانی عوام کی افلاس چھپ نہیں سکتی۔ان واقعات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں بھوک اور حرص بڑھتی جارہی ہے اشرافیہ کی حرص اور عوام کی بھوک۔۔جو اشرافیہ عوام کو اپنی رعایا سمجھ کر اور اقتدار کو اپنی میراث سمجھ کر ستر سالوں سے عوام کو انکم سپورٹ پروگرام ‘آٹے کی تھیلیوں’ٹکے ٹکے کی نوکریوں’لنگر خانوں ‘ سے بہلاتے آرہے ہیں تو ایسی بھولی عوام نے آج حالت جنگ میں قورمہ ہی چرانا تھا۔لیکن اب بہت سننے میں آرہا ہے کہ عوام میں شعور آگئی ہے اگر واقعی شعور آگیا تو آئندہ اشرافیہ کی لالی پاپ اسکیمز کامیاب نہیں ہوں گی انشاءاللہ۔بشرطیکہ شعور آئے۔شعور لانے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں ایسا تعلیمی معیار ہو جو صرف (اشرافیہ کو) دو جمع دو نہ سکھائے۔اور بحثیت ایک اسلامی ریاست کے ایسا نظام ہو تعلیم کا کہ دینی تعلیم یونیورسٹی لیول تک لازمی قرار دی جائے تاکہ ملک سب سے پہلے دین فروشوں سے پاک ہوجائے۔

 

دوسرا ہر ادارے کو پتہ ہو کہ اسکی اصل دینی اور دنیاوی ذمہ داری کیا اور کتنی ہیں ۔(اور یہ معیار تعلیم بدلنے سے ہی آئیگا )ہر ادارہ اپنی ذمہ داری نبھائے گا اپنے کام سے کام رکھے گا’تو یقینا ملک میں نا انصافی نہیں ہوں گی اور جب ناانصافی نہیں ہوگی تو فسادات بھی نہیں یوں گے۔مگر یہ نظام کون لائے گا جہاں عوام سیاست کا شکار ہوکر مختلف جماعتوں میں بٹ گئی ہو۔یاد رکھیں ملک کی سلامتی میں کردار ادا کرنے کے لئے کسی سیاسی جماعت کی حمائتی بننا کسی پر لازم نہیں ہے جب تمام جماعتیں صرف اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہوں تو عوام کو چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے اپنی راہیں الگ کرلیں لیکن اگر اتنا بھی نہ کرسکیں تو کم از کم اپنی رائے الگ کرلیں۔ساحر لدھیانوی صاحب نے شاید ہمارے پاکستان کے لئے ہی کہا تھا کہ، “لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے’ میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی’ میں جہاں ہوں وہاں انسان نہ رہتے ہوں گے’ لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ۔۔۔۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
74683