Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چیئرمین ایم ڈی اے کا جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب، گزشتہ سال کے سیلاب میں نقصانا ت 30 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ لیفٹنٹ جنرل انعام حیدر

Posted on
شیئر کریں:

چیئرمین ایم ڈی اے کا جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب، گزشتہ سال کے سیلاب میں نقصانا ت 30 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ لیفٹنٹ جنرل انعام حیدر

اقوام متحدہ(چترال ٹایمزرپورت )پاکستان نے آفات سے خطرات کو کم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال تباہ کن سیلاب کے بعد شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، تین کروڑ سے زیادہ متاثرین کو فوری خطرات سے بچانیکے لئے تیزرفتاری سے ریسکیواور ریلیف کی کارروائیاں کی ہیں۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کے دوروزہ اجلاس کو بتایا کہ پاکستان کی حکومت نے بڑے مالی چیلنجوں کے باوجود سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو فوری خطرات سے نکالنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے بھر پور عزم کا مظاہرہ کیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے سینڈائی فریم ورک فار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن 30۔2015 پر نظر ثانی کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کو بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب میں 1700 اموات کے ساتھ ساتھ ایک تہائی ملک سیلابی پانی میں ڈوب گیا جس سے ہونے والے نقصانا ت 30 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس طرح پاکستان کو بحالی اور تعمیر نو کے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ایک مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی فوج، خاص طور پر فوج کی قیادت میں ریسکیواور ریلیف کی کارروائیوں سے بحالی کے ابتدائی مراحل کو مستحکم کرنے میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں نقصانات اور اثرات پر بہت زیادہ قابو پایا گیا۔

 

انہوں نے اس موقع پر گلوبل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ ا س حوالے سے علاقائی سطح پر دیزاسٹر رسک ریڈکشن کی ضروریات کو ماحولیاتی مالی معاونت سے علیحدہ کیا جا سکے۔انہوں نے مندوبین کو بتایا کہ پاکستان نے زلزلہ سے متاثرہ ترکی اور شام کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھایا اور 10 ہزار ٹن سے زیادہ امدادی سامان فضائی، زمینی اور سمندری راستوں سے روانہ کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان آفات کے خطرے میں کمی کے لیے سینڈائی فریم ورک کو نافذ کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے اس موقع پر مشترکہ معلومات اور ٹیکنالوجی تک رسائی کا مطالبہ بھی کیا تاکہ تاکہ کمزور ممالک کو قبل از وقت وارننگ کی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات عالمی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر ردعمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تباہ کن سیلاب کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کرنے پر تمام عالمی شراکت داروں کی معاونت کا اعتراف کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پی ٹی وی کے جنرل منیجر کے خلاف ہراسانی کیس میں سزا کا حکم برقرار

اسلام آباد(سی ایم لنکس)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان ٹیلی ویڑن(پی ٹی وی) کے جنرل منیجر (جی ایم) خالد محمود لکھن کے خلاف وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کی جانب سے عائد کردہ سزا کا حکم برقرار رکھا ہے۔ جنسی ہراسانی کیس میں جی ایم پی ٹی وی کو ملازمت سے برطرفی اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔ خالد محمود پر پی ٹی وی سینٹر ملتان کی ایک خاتون میک اپ آرٹسٹ کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے ایک ہفتے کے اندر ملزم پر سزائیں عائد کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے جی ایم پی ٹی وی کی طرف سے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہمارا مذہب اور قانون دونوں ہی اس طرح کے عمل کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتے ہیں، معاشرے میں سماج دشمن اور خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو واضح پیغام دینا ضروری ہے، پاکستان خواتین کی جانب ایسے نامناسب رویے کو برداشت نہیں کرے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملزم نے خود کارروائی کو طول دیا اور بار بار التوا کا فائدہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ منصفانہ ٹرائل کا حق انصاف کا تسلیم شدہ اصول ہیمگر قانونی عمل کے غلط استعمال کی بھی اجازت نہیں، ضروری ہے کہ ہم خواتین کے لئے عوامی اور ملازمت کے مقامات کو محفوظ بنائیں، بار بار التوا کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس کیس میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے درست حکم جاری کیا، فیصلہ قانون اور حقائق پر مبنی ہے۔

 

خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے، وفاقی شرعی عدالت

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)وفاقی شرعی عدالت میں خواجہ سراوں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کیخلاف کیس کا قائمقام چیف جسٹس محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے اور خواجہ سرا مرد یا عورت نہیں کہلوا سکتے۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت ایسے افراد کو طبی، تعلیمی اور معاشی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے،اسلام خواجہ سراؤں کو تمام انسانی حقوق فراہم کرتا ہے اور حکومت انہیں تمام حقوق دینے کی پابند ہے۔فیصلے کے مطابق جنس کا تعلق انسان کی بائیولاجیکل سیکس سے ہوتا ہے،نماز، روزہ، حج سمیت کئی عبادات کا تعلق جنس سے ہے،جنس کا تعین انسان کی احساسات کی وجہ سے نہیں کیا جا سکتا،اسلام میں خواجہ سراؤں کا تصور اور اس حوالے سے احکامات موجود ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کی سیکشن 2این شریعت کیخلاف نہیں،خواجہ سرا تمام بنیادوں حقوق کے مستحق ہیں جو آئین میں درج ہیں،خواجہ سراوں کی جنس کی تعین جسمانی اثرات پر غالب ہونے پر کیا جائے گا۔جس پر مرد کے اثرات غالب ہیں وہ مرد خواجہ سرا تصور ہوگا،وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کیخلاف درخواستیں نمٹا تے ہوئے فیصلے میں کہا کہ سیکشن 7 کے تحت مرضی سے جنس کا تعین کرکے کوئی بھی وراثت میں مرضی کا حصہ لے سکتا تھا،وراثت میں حصہ جنس کے مطابق ہی مل سکتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ مرد یا عورت خود کو بائیولاجیکل جنس سے ہٹ کر خواجہ سرا کہے تو یہ غیرشرعی ہوگا، شریعت کورٹ نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کی سیکشن ایف ٹو بھی خلاف شریعت قرار دے دی، عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے تحت بننے والے رولز بھی غیرشرعی قرار دیدئیے، کہا گیا کہ غیرشرعی قرار دی گئی دفعات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74655