Chitral Times

Mar 5, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ

Posted on
شیئر کریں:

کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(چترال ٹایمزرپورٹ)حکومت پاکستان نے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اسٹیٹ بینک اور وزارت آئی ٹی نے کرپٹو کرنسی بند کرنے پر کام شروع کر دیا، کرپٹو کرنسی سے متعلق سافٹ ویئر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔اسٹیٹ بینک نے کرپٹوکرنسی سے متعلق بریفنگ میں کہا کرپٹو کرنسی مارکیٹ 2.8 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر 1.2 ٹریلین ڈالر رہ گئی ہے۔ ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سہیل جواد نے کہا کرپٹو کرنسی ہائی رسک ہے جو صرف ہوائی کرنسی ہے، یہ ٹوٹل فراڈ ہے پاکستان میں کبھی اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انھوں نے کہا ”کرپٹو ہے کیا اس کا کسی کو کچھ نہیں پتا، کرپٹو کرنسی میں پاکستانی انویسٹمنٹ پر ایف آئی اے اور ایف ایم یو کارروائی کر رہا ہے، کرپٹو کرنسی کی 16 ہزار سے زائد کرنسی بن چکی ہیں جن کو کوئی استعمال نہیں کرتا۔“عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ حساس معاملہ ہے ہم ابھی فیٹف سے نکلے ہیں، یہ معاملہ رسک سے بھرپور ہے اس سے دور رہنا چاہیے، پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کبھی لیگل نہیں کیا جائے گا۔ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سہیل جواد نے کہا کہ 2018 میں بینکوں کو کہا گیا تھا کہ کوئی اس کرنسی میں لین دین نہ کرے، اس جیسی کرنسیوں کا نشانہ ہمارے جیسے ملک ہیں، اس کرنسی کو ریگولیٹ اور مانیٹر نہیں کیا جا سکتا، چین نے بھی انٹرنیٹ پر جا کر اس کرنسی کو بند کیا۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان کے اربوں ڈالر کرپٹو کرنسی میں انویسٹ ہوئے ہیں، میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کرپٹو کرنسی میں کاروبار کر رہے ہیں، ہمارے روکنے سے وہ نہیں رکیں گے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو پاکستانی اس میں کام کر رہے ہیں ان کو سزا ہونی چاہیے، اس سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے اور کسی ادارے کی ذمہ داری لگائی جائے۔

 

 

گیس کمپنیوں کو صارفین سے اضافہ شدہ گیس میٹر رینٹ کی وصولی روکنے کی ہدایت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے گیس کمپنیوں کو صارفین سے اضافہ شدہ گیس میٹر رینٹ کی وصولی روکنے کی ہدایت جاری کر دیں۔چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ یکم جنوری سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نور عالم خان نے کہا کہ میٹر پر 500 روپے ماہانہ کرایہ بہت زیادہ ہے، یہ ظالمانہ ہے اس کو واپس لیا جائے، غریبوں پر بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ ایک کیوبک ہیکٹا میٹر تک استعمال کرنے والے صارف کو میٹر کا کرایہ 50 روپے ماہانہ ہے، میڑ رینٹ میں اضافے سے سردیوں میں بل کم آئے گا اور تنخواہ دار طبقہ کو فائدہ ہوگا۔ صارفین پر جنوری فروری کا بل کم ڈالا گیا اور واجبات کی مارچ سے وصولی شروع کی۔نور عالم خان نے کہا کہ اس سلسلے کو روکا جائے اور صارفین سے سردیوں میں مکمل کیا جائے۔ گیس کی نئے کنیکشنز پر پابندی کیوں نہیں ہٹائی گئی، پی اے سی نے پابندی ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے لے کر گئے تھے انھوں نے سمری مسترد کر دی تھی۔ نور عالم خان نے کہا کہ پی اے سی نے گیس کنیکشنز پر پابندی ہٹانے کے لیے اپنی سفارشات وزیر اعظم آفس کو بھجوا دیں۔رکن کمیٹی احمد خان نے کہا کہ صارفین کو گیس کے بلوں میں 1500 سے 2000 روپے ایڈجسٹمنٹ چارجز کس چیز کے ہیں۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ دو برنر والا چولہا اور ایک ہیٹر رکھنے والے صارفین کے گیس کے بلوں میں کمی واقع ہوگی، کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیس میٹر کا کرایہ 40 روپے سے بڑھا کر 50 روپے ماہانہ کیا گیا ہے۔سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ زیادہ گیس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیس میٹر کا کرایہ بڑھا کر 500 روپے کیا گیا ہے لیکن زیادہ گیس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بھی اضافہ شدہ گیس میٹر کا کرایہ قابل ایڈجسٹ ہے۔ تمام یوریا پلانٹس کو ایک قیمت پر گیس فراہم نہیں کر سکتے، ان پلانٹس کو فراہم کرنے والی گیس کی پیداوار مختلف ہے۔

 


شیئر کریں: