Chitral Times

Apr 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور فروغ دینے کے لیے“نیشنل لینگویج پروسیسنگ لیبارٹری (این ایل پی ایل) کے قیام کی منظوری دیدی گئی

Posted on
شیئر کریں:

 اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور فروغ دینے کے لیے“نیشنل لینگویج پروسیسنگ لیبارٹری (این ایل پی ایل) کے قیام کی منظوری دیدی گئی

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )وزارت برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور فروغ دینے کے لیے“نیشنل لینگویج پروسیسنگ لیبارٹری (این ایل پی ایل) کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔وزارت برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق وزارت قومی ورثہ اور ثقافت ڈویڑن سپانسرنگ ایجنسی ہے جبکہ نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی) اس منصوبے کی عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔اس منصوبے کا بنیادی مقصد اردو کو وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا وسائل کے ساتھ زبانوں کے درجے تک پہنچانا اور اسے جدید ٹیکنالوجی کی ایپلی کیشنز سے آراستہ کرنا ہے۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل این ایل پی ڈی کا اس منصوبے کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ادارہ اکتوبر 1979 میں قائم گیا تھا جس کا مقصد قومی زبان اردو کو فروغ دینا ہے اور یہ لیب اس ادارے کے تحت قائم کی گئی ہے۔ منصوبے کے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں مشین ٹرانسلیشن (MT)، سپیچ ریکگنیشن (SR) اور آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (OCR) جیسی متعدد ایپلی کیشنز کی تیاری شامل ہے، جس سے زبان سیکھنے میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ اس منصوبے کے تحت قابل رسائی،سرحد پار مواصلات اور تجارت کو آسان بنانا، لوگوں کو آن لائن مواد تک رسائی کے قابل بنانا، ثقافتی تفہیم کو فروغ دینا اور زبان کے وسائل کو محفوظ رکھنے میں مدد کرنا شامل ہیں۔

 

واضح رہے کہ 2015 میں سپریم کورٹ نے حکومت کو آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت تمام سرکاری محکموں میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں اور 78.186 ملین روپے کے منصوبے کے نظرثانی شدہ PC-I کی منظوری دے دی ہے۔ اپریل 2022 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سیموجودہ حکومت نے ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ان اقدامات کے پیچھے انتہائی محرک رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجی شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک سٹیئرنگ کمیٹی قائم کی تھی اور کمیٹی کا مقصد ڈیجیٹل تبدیلی کے نفاذ میں سہولت فراہم کرنا اور ملک کی برآمدات کے حجم میں اضافہ کرنا ہے۔سیدہ روشن علی نقوی، پروگرام منیجر این ایل، پی ڈی اس منصوبے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ مشین ٹرانسلیشن (MT) ماڈیول کمپیوٹر الگورتھم کا استعمال کرتا ہے تاکہ متن کا انگریزی سے اردو میں خود بخود ترجمہ کیا جا سکے، یہ ماڈیول تمام موجودہ سرکاری دستاویزات کا انگریزی سے اردو میں مؤثر طریقے سے ترجمہ فراہم کرے گا، بشمول پالیسیاں، پریس ریلیز، اقتصادی سروے، سالانہ رپورٹس، طویل مدتی منصوبے، خبرنامے، عوامی نوٹس، ٹینڈرز اور اشتہارات شامل ہیں۔ سیدہ روشن علی نقوی نے قومی زبان کی بقا، ترقی، فروغ اور ترقی کے لیے لیب کی اہمیت پر زور دیا۔ان کے مطابق کے سپیچ ریکگنیشن (SR) اور آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن (OCR) ماڈیولز ڈیجیٹل آلات کو انسانی تقریر کو اردو متن میں پہچاننے اور نقل کرنے کے قابل بنائے گا۔

 

یہ ٹیکنالوجی اردو آڈیو وسائل کو ڈیجیٹائز کرنے میں مدد کرے گی، جیسے کہ پارلیمانی تقاریر اور میٹنگ منٹس۔ مزید برآں، سپیچ ریکگنیشن ٹیکنالوجی ان لوگوں کے لیے رسائی اور شمولیت کو بڑھا سکتی ہے جن کی سماعت اور گویائی خراب ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اردو متن کو بصارت سے محروم افراد تک آڈیو بک کی صورت میں قابل رسائی بنا سکتی ہے۔مذکورہ اور دیگر AI پر مبنی ایپلی کیشنز کے ساتھ اردو مختلف پلیٹ فارمز پر زیادہ قابل رسائی اور قابل استعمال بن سکتی ہے۔ ایڈووکیٹ کوکب اقبال جنہوں نے 2003 میں سپریم کورٹ کے سامنے ایک تاریخی مقدمہ دائر کیا نے اس فیصلے کو ملکی تاریخ کا ایک اہم لمحہ قرار دیا۔ 2015 میں اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکومت کو فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں اردو زبان کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔

 

امریکی کمپنی کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش

اسلام آباد(سی ایم لنکس)امریکہ کی ایک معروف کمپنی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی۔امریکن کمپنی میریکل سالٹ ورکس کولیٹیو نے پاکستان کے سفیر مسعود خان سے ملاقات کی اور پاکستانی پنک ہمالین سالٹ میں دلچسپی اور سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔نمک کی درآمد، تیاری اور سپلائی کے حوالے سے مشہور غیرملکی کمپنی نے پاکستان میں موجود پنک ہمالین سالٹ کے ذخائر نکالنے اور ایکسپورٹ کی مد میں 200 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔پاکستانی سفیر کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان پنک سالٹ کے وسیع ذخائر رکھتا ہے جس کی سالانہ آمدنی 12 ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔ ان ذخائر کی بدولت بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔ پالیسی فریم ورک، پروسیسنگ، پیکیجنگ اور عالمی سطح پر تقسیم کے لیے سہولیات کی کمی کے سبب اس وقت پاکستان اس منفرد نمک کی ایکسپورٹ سے صرف 70 ملین ڈالر کما ریا ہے جبکہ یہ صلاحیت تقریباً 12 ارب ڈالر سالانہ ہے۔مسعود خان نے کہا کہ پنک نمک کی پوری دنیا میں ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جو اس شعبے میں منافع بخش کاروباری منصوبے کی ضمانت دیتی ہے۔ سفارت خانہ کمپنی کو اپنے کاروباری منصوبے کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر عمل درآمد میں ہر ممکنہ سہولت کاری فراہم کرے گا۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74442