Chitral Times

Feb 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوکھی روٹی بھی قوت خرید سے باہر – محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

سوکھی روٹی بھی قوت خرید سے باہر – محمد شریف شکیب

رواں سال اچھی بارشوں کی بدولت گندم کی ریکارڈ پیداوار کی خوش خبریاں مل رہی ہیں سندھ اور پنجاب میں گندم کی فصل تیار ہوکر مارکیٹ پہنچ چکی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں فصل تیار ہے جبکہ بالائی علاقوں میں گندم کی فصل تیار ہونے میں مزید ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔ عوام یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ گندم کی اچھی پیداوار ہوگی تو باہر سے گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آٹا سستا ہوگا مگر عوام کی امیدوں پر اس وقت پانی پھیر گیا جب آٹا ڈیلروں نے بیس کلو گرام آٹے کی قیمت دو ہزار 8سو سے بڑھا کر تین ہزار دوسو روپے کردی۔جبکہ دانے دار فائن آٹے کا بیس کلوگرام کا تھیلا ساڑھے تین ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ آٹا مہنگا ہونے کیوجہ سے بعض تندورمالکان نے ڈیڑھ سو گرام روٹی کا وزن کم کرکے سو گرام کردیا ہے۔اور بعض تندور والوں نے ایک سو بیس گرام روٹی کی قیمت بیس روپے اور 180گرام روٹی کی قیمت 30روپے کردی ہے۔ فلور ملزمالکان کاموقف ہے کہ نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے باوجود فلور ملوں کو گندم کو مطلوبہ کوٹہ نہیں مل رہا۔

 

وفاقی حکومت اور پنجاب نے الزام لگایا ہے کہ پشاور سے گندم اور آٹا افغانستان سمگل کیا جارہا ہے۔اس سمگلنگ کو روکنے کے بہانے خیبر پختونخوااور پنجاب کے درمیانی علاقے میں پنجاب حکومت نے متعدد چیک پوسٹیں قائم کردی ہیں جہاں سے گندم اور آٹا پشاور لانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔خیبر پختونخوا کی نگراں حکومت اس صورت حال پر تاحال خاموش ہے البتہ سابقہ حکومت کے نمائندوں نے پشاور سے گندم اور آٹے کی افغانستان سمگلنگ کے الزامات کا من گھڑت قرار دیا ہے۔ ان کاموقف ہے کہ طورخم بارڈر کا چارج سیکورٹی فورسز کے پاس ہے جو وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔ اگر واقعی گندم اور آٹا افغانستان سمگل ہورہا ہے تو اس میں وفاقی حکومت ملوث ہوسکتی ہے۔ جس کی سزا خیبر پختونخوا کو دینا سراسر ظلم ہے۔ پشاور کے آٹا ڈیلروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہیں پنجاب سے آٹا مہنگا مل رہا ہے۔اور قیمتوں میں اضافے کافیصلہ بھی مرکز میں ہوتا ہے۔ انہیں جس قیمت پر آٹا ملتا ہے اسی قیمت پر وہ پرچون فروشوں کو فراہم کرتے ہیں۔

 

پہلے یہ جواز بھی پیش کیاجاتا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔جس کے اثرات گندم اور آٹے کی ترسیل پربھی پڑتے ہیں۔آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے لئے یہ گھسا پٹا جواز بھی پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے کے ساتھ ہر چیز کی قیمت میں من مانا اضافہ کیا جاتا ہے مگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ کبھی عوام تک نہیں پہنچتا۔ لوکل اور بین الاضلاعی و بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کاکرایہ تیل مہنگا ہوتے ہی بڑھایاجاتا ہے مگر تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ کرائے کم نہیں کئے جاتے۔یہ سارا مسئلہ انتظامی مشینری میں جھول کا نتیجہ ہے۔ جب ملک میں مجسٹریسی نظام رائج تھا تو ڈیوٹی مجسٹریٹ بازاروں اور ٹرانسپورٹ اڈوں کا چکر لگاتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، تہہ بازاری، گرانفروشی پر قابو پایا جاتا تھا۔ آج اسی مجسٹریٹ کا کام چھ اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

 

محکمہ خوراک والے چھاپہ مار کر اپناحصہ لے جاتے ہیں تو محکمہ فوڈ اتھارٹی والے وارد ہوتے ہیں۔وہ دکانداروں سے مک مکا کرکے چلتے ہیں تو تیسرے محکمے کی باری آتی ہے۔ سب کی مٹھی گرم کرنے کے بعد دکاندار کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا کہ قیمتوں میں اضافہ کرے، ملاوٹ کرے، اصلی چیز کی قیمت پر جعلی اور نقلی اشیاء فروخت کرے۔اس ساری صورتحال میں بیچارہ صارف ہی نقصان میں رہتا ہے۔ اسے پوری قیمت ادا کرنے کے باوجود غیر معیاری اور نقلی چیز ملتی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ اگر ایک روٹی کی قیمت تیس روپے ہے تو چھ افراد پر مشتمل خاندان کو ایک وقت کی روٹی 180روپے اور دن بھر کی تین وقت کی سوکھی روٹی 540روپے کی پڑتی ہے۔ چھ سو روپے کلو گھی، سو روپے کلو ٹماٹر، ڈیڑھ سو روپے کلو پیاز اورچار سو روپے کلو دال خرید کر ایک وقت کا سالن بنالیں تو ایک غریب خاندان کو ایک دن کا کھانا دو ہزار روپے میں پڑتا ہے۔ جبکہ دیہاڑی دار آدمی دن بھرمزدوری کرکے ہزار بارہ سو روپے ہی کماتا ہے۔وہ اپنی اس دیہاڑی میں بچوں کو روٹی کھلائے گاتو ان کے علاج اورتعلیم کے اخراجات کہاں سے پورا کرے گا۔بجلی، گیس کا بل اور مکان کا کرایہ کہاں سے ادا کرے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اجتماعی خود کشیوں پر مجبور ہورہے ہیں۔


شیئر کریں: