Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط 5) ۔ پروفیسر اسرارالدین

شیئر کریں:

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط 5) ۔ پروفیسر اسرارالدین

وادی کھو
تعارف
وادی کھو تورکھو(بالائی کھو)اور موڑکھو(زیرین کھو)کے علاقوں پرمشتمل ہے۔جسکا مطلب ہے کھو باشندوں کا علاقہ۔اگرچہ تمام چترال میں بروغیل سے ارندو تک کھوار آبادی کے لحاظ سے کھو قبیلہ فوقیت رکھتا ہے۔اسلئے ساری چترال کھو وادی ہے۔لیکن اس نام کو مذکورہ علاقوں کے لئے مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کوکھو ار زبان کی جنم بومی تصور کیا جاتا ہے۔یایہ کہ کھوار بولنے والے قدیم لوگ سب سے پہلے یہاں آباد ہوئے تھے۔یہاں سے جوں جوں دوسرے علاقوں میں پھیلتے گئے اپنے ساتھ کھوار زبان کو بھی پھیلاتے رہے۔

تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کھونام اس علاقے کے ساتھ ڈھائی ہزار سال پہلے سے وابستہ رہا ہے۔سکندر اعظم یونانی کے جغرافیہ دانوں نے دریائے چترال(کنہار)کو جلال آباد تک کھواپس نام سے ظاہر کیا ہے۔بعض ریکارڈ میں کھوس (Khoes)بھی لکھا گیا ہے۔البتہ یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ آیا یہ نام یہاں کے کسی کھونامی قبیلے کی وجہ سے پڑگیا تھا۔یا اس علاقے کانام پہلے سے کھو تھا۔اور اس علاقے کے نام پریہاں رہنے والوں کانام پڑگیا۔اس معمے کاجواب دینا مشکل ہے۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ علاقہ قدیم الایام سے کھو علاقہ ہی تصور ہوتا رہا ہوگا۔مشہور ماہر لسانیات پروفیسر جارج مارگنٹیسن نے بھی یہ لکھا ہے کہ پرانی چینی زبان میں کھونام Kiu-weiکے طورپر مستوج یابالائی چترال کے لئے استعمال ہوا ہے۔یہ مفروضۃ اس لئے بھی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ سنگلیچی لوگ کھو کو Kiviنام سے پکارتے ہیں۔مشہور ماہر لسانیات گرئیرسن نے کھوار کو اریانی زبانوں کے درد خاندان میں شامل کردیا ہے۔اس خاندان میں ذیل شامل زبانیں شامل ہیں۔

الف۔ کافر گروپ:بشگالی وار ،کلاشہ،گواربتی،باشاے گروپ وغیرہ۔

ب۔کھوار(چترالی یا آرنیہ)

ج۔اصل درد گروپ مثلاًشنا،کشمیری،کوہستانی وغیرہ۔

گرئیرسن کے مطابق اگرچہ کافر گروپ کے ساتھ کھوار کی کچھ قدر مشترک ہے۔مگر دوسری زبانوں کی نسبت یہ ایک آزاد مقام رکھتی ہے۔البتہ دردخاندان میں شامل تمام زبانوں کی بہ نسبت کوہ ہندوکش کے شمال میں مروجہ غالچہ زبانوں کے ساتھ اسی کا گہرا رابطہ ہے۔درد خاندانوں میں شامل زبانوں کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ درد گروپ کاکافر گروپ کی زبانوں کے ساتھ بہ نسبت کھوار کا زیادہ گہرا رشتہ ہے اور بڈلف کی رائے کے مطابق کسی زمانے میں اس تمام علاقے میں یعنی درستان میں ایک ہی زبان بولی جاتی ہے۔جسے بعد میں کھوار زبان نے درمیان میں حائل ہوکر دوحصوں میں تقسیم کردیا۔گرئیرسن اس کا جواز یوں پیش کرتے ہیں کہ کھوار ان درد حملہ آوروں کی زبان معلوم ہوتی ہے۔جوبعد میں آگئے تھے۔اس لئے اس زبان نے اپنے میں موجود غالچہ اور ایرانی خصوصیات کی وجہ سے اصل درد گروپ اور کافر گروپ کی زبانوں کے درمیان حائل ہوکر اس کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
کھوار بحیثیت زبان وجود میں آنے کے بعد اس خطے میں داخل ہوگئی تھی۔اور اسکے مزید پنپنے اور پرورش پانے کے حالات یہاں میسر آئے۔یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ زبان اسی کھو علاقے میں پہلے نمودار ہوئی ۔

پروفیسر مارگنسٹینس(Morgenstiene) جنہوں نے افغانستان اور پاکستان کے شمال مغربی زبانوں پر دقیق ریسرچ کی ہے۔کھوار پرکوہ ہندوکش کے پار والی زبانوں کے اثر کے بارے میں گرئیرسن کو حق بجانب قرار دیتے ہیں۔اور لکھتے ہیں کہ کھوار کے ذخیرہ الفاظ میں زیادہ ترالفاظ ایسے ہیں جو ایرانی زبانوں سے اخذ شدہ ہیں اسکے علاوہ بروشسکی اور شنازبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں لیکن بے شمار ایسے الفاظ ہیں جن کا ماخذ معلوم نہیں“۔

پروفیسر موصوف ایک جگہ کھوار کی اہمیت کے بارے ان خیالات کااظہار کرتے ہیں۔”کھوار نے سنسکرت سے بالکل مختلف رہ کر اپنا ایک نیا تصریفی نظام(Inflactional System)تشکیل دیا ہے لیکن اپنی بناوٹ کے لئے اسی نے علیحدہ محل وقوع مین کسی دوسری ہندی اریائی زبان کے مقابلے میں زیادہ ترایسے مواد کا استعمال کیا ہے۔جوزمانہ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔لہذا ہندی آریائی زبان کے ارتقاء کو سمجھنے کےلئے یہ زبان نہایت اہمیت کاحامل ہے“
کھوار زبان کے بارے تفصیلی بحث علیحدہ طورپرکی جائے گی۔یہاں اتنا اشارہ شاید کافی رہے گا۔

وادی تورکھو:
یہ50میل لمبی وادی ہے۔اسکودریائے تورکھو سیراب کرتا ہے۔اس کی ایک شاخ دریا ہندوکش کلان میں کچ درہ کے دامن میں ایک گلیشئیر سے نکلتا ہے۔دواور شاخیں مشرق اور مغرب کی طرف آتی ہیں اور مغلنگ میں آپسمیں مل جاتی ہیں۔اسکے بعد یہ کئی ندی نالوں کو اپنے ساتھ جمع کرکے بومباغ (کوشٹ) میں دریائے مستوج کے کاساتھ شامل ہوجاتا ہے۔اس کا سب سے بڑا معاون نالہ تریچ نالہ ہے جو شمال مغربی موڑکھو سے آکر سوروخت کے مقام پر اس کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔اس سے آگے اسکے مغربی کنارے پر موڑکہو کاعلاقہ اور اسکے دیہات آجاتے ہیں۔تورکھو میں زیادہ تردیہات دریا کے مشرق کی طرف آباد ہیں۔ان میں سے سورریچ،موڑریچ،اوژنو،ماہ چراغ،کھوت،شوت خار۔ ،شاگرام،شیرجوویلی،میڑپ،رائین،ورکھوپ اور استارو مشہور ہیں۔مغربی کنارے پرواسچ اور کھوت رباط ،تاجیان لشٹ قابل ذکر ہیں۔

شمال سے یارخون کی طرف سے جب شاہ جنالی درے(14100فٹ)سے تورکھو وادی میں داخل ہوتے ہیں۔توشاہ جنالی کاقدرتی پارک آپ کا استقبال کرتا ہے۔یہ ایک نہایت خوبصورت سبزہ زار ہے اور تقریباً5میل تک پھیلاہوا برچ(شیتل)اور بید(Willow) کا وسیع جنگل ہے۔اسکی اونچائی1000فٹ ہے اور یہاں سے15میل کے فاصلے پر تورکہو سے تین درے کوٹ گاز،اوچھیلی اور کچ واخان کی طرف کھلتے ہیں۔اندازہ لگایا جاتا ہے۔کہ پُرانے زمانے میں کئی قبیلے ان دروں سے ہوکے وسطی ایشیائی ملکوں سے اس علاقے میں آتے رہے تھے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ واخان اور بدخشان کے لوگ یہاں آکے ڈاکہ زنی کرتے تھے۔اسلئے لوگوں نے مصنوعی گلیشئیر لگاکے ان دروں کو بند کردیا تھا۔(مصنوعی گلیشئیر لگانے کے بدیسی فن کا بعد میں ذکر کیا جائے گا)۔لیکن عام طورپر شمال سے یہاں داخلہ شاہ جنالی درے سے بھی ہوا ہے۔چترال گزیٹیر(1928)کے صفحہ 313پر ایک واقعہ لکھا ہے کہ 1846عیسوی میں بدخشان کے میر نوری شاہ نے تین ہزار کے لشکر کے ساتھ براستہ یارخون اور شاہ جنالی درہ اس علاقے پر حملہ کیا تھا یہ حملہ مکمل طورپر بے خبری میں ہوا تھا۔چنانچہ اُنہوں نے نوغور گول تک تمام علاقے کو لوٹا،جہاں ریچ کاحاکم مقیم تھا۔امان الملک مہترکو جب معلوم ہوا تواُنہوں نے مشہور سپہ سالار روشن علی خان کے ہمراہ ان تاجکوں کا تعاقب کیا۔اور رشت کے مقام پر (جو شاہ جنالی کے یارخون کی طرف واقع ہے)ان کو جالیا اور اُن سے جنگ کی لیکن وہ کافی نقصان اُٹھانے کے باوجود اپنے لوٹے ہوئے سامان اور قیدیوں کے سمیت بھاگنے میں کامیاب رہے۔تورکھو کے علاقے کی کئی خصوصیات کے علاوہ ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ چترال کے چار مشہور بادشاہ امان الملک،شیر افضل،نظام الملک اور محمد مظفرالملک کی رضاعت اس علاقے کے مختلف اہم خاندانوں میں ہوئی تھی،نیز چترال کے مشہور ہیرو محمد عیسے غازی کاتعلق بھی یہاں کے اوژنوسے تھا۔مشہور شمشر زن روشن علی خان کا اگرچہ موڑکھو سے تعلق تھا لیکن اُن کو یہاں ریچ میں بھی جائیداد ملی تھ۔اور ان کو یہاں کا حاکم بنایا گیا تھا۔

اہم مقامات:
(1) ریچ:۔
شمال سے آتے ہوئے دریا کے بائیں کناریپر9257فٹ پر ایک خوبصورت گاؤں ہے اسمیں یہ ذیلی دیہات شامل ہیں۔روا،پھرگرام یا پرگرام،بولشٹ،دوکان،سوریچ نیا لشٹ،راغ،سلان دور،مورچ،پتریچ،نیسُر۔
بتایا جاتا ہے کہ ریچ بہت قدیم سے آباد علاقہ ہے۔ڈانگرک دور یاکلاش دور سے آباد بتایا جاتا ہے۔روایات سے بھی یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقے رئیس دور سے پہلے یارکند کے ماتحت تھا۔ان کے بعد یہ خوشوقتے جومستوج کے علاقے کے حکمران رہے تھے۔ان کے ماتحت آگیا۔بدخشان کا اس کے اوپر تسلط کے بارے کوئی خاص روایات معلوم نہیں۔البتہ ان کے ساتھ وقتاًًفوقتاًچپقلیش ضرور رہی تھیں۔اورانکوپسپاکیاجاتارہاتھا۔

یہاں کے اہم قبیلے سید،رضاخیل،خوشے،بائیکے،نظارے،جانسوارے،قاسمے،بکاؤلے،قمبارے،گاڑئیے،موچی(اھنگر)۔

سید:
یہ خاندان اصفہان،خراسان پھر بدخشان سے چترال آیا تھا۔اس خاندان کے اولین بڑے شاہ بوریاولی،شاہ رضائے ولی،محمد رضائے ولی اور شاہ رئیس ولی بدخشان سے چترال آئے۔ان میں سے شاہ رضائے ولی اور شاہ رئیس ولی ریچ مین آباد ہوئے۔باقی شاہ بوریا ولی اورمحمد رضائے ولی سنوغر میں آباد ہوئے۔ریچ والے سادات شاہ رضائے ولی اور شاہ رئیس ولی کی اولاد ہیں۔ان میں بعض اشقامون،کوشٹ،بونی،چرن اور چترال کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔

رضا خیل:
یہ بابا ایوب کی اولاد ہیں (جسکی تفصیل بعد میں آئے گی)۔قزل بیگ کے بعد یہ ریچ میں آکر آباد ہوئے۔محمد اعظم اور سکندر اسی قوم کے اولین اصحاب ہیں جو یہاں آباد ہوئے۔روشن علی خان مشہور شخصیت کا تعلق اس خاندان سے تھا جوکسی وقت اس علاقے کاحاکم رہا تھا۔ان کے جنگی کارنامے تاریخ چترال کی زینت ہیں (ان کا تفصیلی ذکر بعد میں کیا جائے گا)۔

خوشے اور بائیکے:
(جن کا ذکر بعد میں کیا جائے گا)۔تورکھو کے دوسرے دیہات سے یہاں آبادہوئے۔

نظارے اور خذارے:
جوایک ہی نسل کے لوگ ہیں۔لٹکوہ سے کافی پُرانے زمانے میں یہاں آکرآباد ہوئے تھے۔

جان سوارے:
رئیس کے دور میں بدخشان سے آئے۔

قاسمے:
ورشگوم سے کافی عرصہ پہلے یہاں آئے۔

نجارے اور گارائیے:
یہ بھی ورشگوم سے پُرانے زمانے میں یہاں آکر آباد ہوئے۔

(2)اوژنو:
یہ گاؤں دریائے تورکہو کے بائیں طرف دریا اور اوژنو گول کے اتصال پرواقع ہے۔چھوٹا گاؤں ہے لیکن تاریخی طورپر بہت اہم ہے۔یہاں کے اہم قبیلے خوشے،بائیکے،موسنگھے،قوبیلے،پٹانی،داشمنے اور خوجلے ہیں۔

خوشے اور بائیکے تورکھو کے دوسرے دیہات سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ان کے بارے تفصیل بعد میں دی جائے ی۔البتہ بائیکے کے حوالے سے محمد عیسے خان غازی کا ذکر ضروری ہے جن کاتعلق اس گاؤں تھا۔محمد عیسے غازی اس علاقے اور قبیلے کی مشہور شخصیت حرمت شاہ کے فرزند ارجمند تھے۔تاریخ میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی اہم شخصیات گذرے ہیں۔جن کے نام ہائے گرامی تاریخ میں مذکور ہیں اور جومختلف بادشاہوں کے درباروں میں معتبر رہے ہیں۔راقم نے غازی محمد عیسےٰ کے بارے چترال کے اس لوک ہسٹری کی پہلی قسطوں میں کچھ نہ کچھ تذکرہ کیا ہے۔یہاں پر اخوانزدہ فضل واحد بیگ کی کتاب اقوام چترال سے ان کے بارے ایک اقتباس پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔”غازی محمد عیسےٰ اور غازی مہترشیر افضل باہم رضاعی بھائی تھے۔دونوں نے ایک ماں کادودھ پیا تھا۔دونوں کی تربیت بھی محمد عیسےٰ کے نامور والد چارویلو حرمت شاہ نے کی تھی۔محمد عیسےٰ میں جہاں زوربازو قدرتی طورپر مسلمہ ہے مگر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس خطے میں گوریلا جنگ کا تصور محمد عیسےٰ نے دیا۔جنگ نسرگول اور جنگ چکول وخت اور جنگ کڑاک اس عظیم گوریلا سالار جنگ کے ہی منصوبے تھے۔غازی محمد عیسےٰ نے نامساعد حالات کے باوجود چترال کی سرزمین کوانگریزوں کے لئے ترنوالہ نہیں بننے دیا بلکہ ان کو ان کے فوجیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کرنیز انگریزافسروں کو قیدی بناکر ان کو یہ سبق سکھایا کہ مسلمان قوم کے لئے ہتھیار کی نہیں بلکہ ایمان اور حب الوطنی کی ضرورت ہے۔غازی محمد عیسےٰ جب تک زندہ رہے۔انگریزوں کوسانس لینے نہیں دیا۔شیرافضل کوجب صلح کے بہانے بلایا گیا تو محمد عیسےٰ نے ان کوواضح طورپر مشورہ دیا کہ ان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ ہے۔بہرحال جب شیر افضل انگریزوں کے بلاوے پردھوکاکھاگیا توغازی محمد عیسےٰ نے کسی بھی صلح سے صاف انکار کیا۔اور کوہستان داریل میں جاکے وہاں انگریزوں کے خلاف منظم جدوجہد کرنے کے لئے فوج تیار کرنے لگا۔لیکن وہاں انگریزوں نے سازش کرکے ان کو زہر دلاکر شہیدکردیا“۔

موسنگھے:
یہ یہاں کا ایک باعزت قبیلہ ہے۔قدیم زمانے سے اس گاؤں میں آباد ہیں۔یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کب سے یہاں آباد ہیں اور کہاں آئے ہیں۔

داشمنے:
موڑکھو سے یہاں آکر حالیہ زمانوں میں آباد ہوئے ہیں۔
پٹانے:بتایاجاتا ہے کہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کاگروہ ہے جو مختلف زمانوں میں آئے اور تورکھو کے مختلف دیہات میں بس گئے۔مقامی لوگوں نے ان کو پٹانے یا نام سے شناخت دی۔

قوبیلے اور خوجلے بھی دواہم قبیلے ہیں جو کسی قدیم زمانے سے یہاں آباد ہیں۔

(3) کھوت:
دریاے تورکھو کے بائیں طرف بوزوند یا کھوت نالہ اسکے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔یہ نالہ تقریباًچالیس میل لمباہے اور اسکے سرے پرچھوٹے موٹے کئی گلیشئیر ہیں جن سے پانی پگھل کر اس نالے کوسیراب کرتا ہے۔گرمیوں میں گلیشئیر پگھلنے کی وجہ سے پانی کی مقدار میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس نالے کے ساتھ چبوترہ نما زمین کے لمبے چوڑے ٹکڑوں پرکھوت قریہ آباد ہے۔جو تقریباًچودہ میل وسیع ہے اسمیں واقع دیہات کے نام یہ ہیں۔لشٹ کھوت،ترنگہ توری،یخدیز،نچھاغ،رباط،پوچونگ،پھورکھوت۔یہ دیہات نوہزار فٹ اور دس ہزار فٹ اونچائی کے درمیان پھیلے ہوئے ہے۔برف پوش پہاڑوں کے درمیان سفیدہ اور بید(Willow) درختوں کے جھنڈوں کے درمیان یہ علاقہ ایک رومان پرور نظارہ پیش کرتا ہے۔یہ نہایت قدیم زمانے سے آباد علاقہ ہے۔یہاں کا راژوئے نامی نہر تقریباً5سوسال پرانی ہے۔جواُس زمانے میں خوشیے اور بائیکے خاندانوں کے بڑوں کی سرپرستی میں تعمیر ہوئی تھی۔اسی طرح اس تمام ہندوکش کے علاقہ میں یہ قدیم ترین نہروں میں شمار ہوتی ہے قدامت کے علاوہ کئی اور خصوصیات ہیں جو اس نہر کو ممتاز کرتی ہیں۔اس لئے ذرا تفصیل سے اس نہر کا ذکر کیا جائے توبے محل نہ ہوگا۔

راژوئے: ایک مقامی سکالر رحمت عزیز صاب کی روایت کے مطابق “خوشے قبیلے کے جد آمجد (جسکا نام میر خوش تھا) اور بائیکے قبیلے کے جد آمجد نے ملکر مقامی لوگوں کی مد سے اس نہر کی تعمیر کرائی تھی۔شروع میں اس نہر کی لمبائی13میل تھی۔بعد کے زمانوں میں اسکی توسیع چالیس میل تک کردیگئ۔اس زمانے میں جب پہاڑوں اور چٹانوں کوکاٹنے کے لئے لوہے کے سازوسامان نہیں تھے۔تو مارخور کی سینگوں کواوزار بناکر پہاڑوں کو کاٹنے کاکام لیا تھا”۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پُرانے زمانے میں سخت چٹانوں کوپھاڑنے کاایک طریقہ یہ ہوتا تھا۔کہ اسکے نیچے آگ چلاکرتاپتے تھے۔پھر اس پرٹھنڈا پانی ڈالتے۔جس سے وہ پھٹ جاتے۔ان پہاڑی علاقوں میں ایک مسئلہ لیولنگ کاہوتا تھا۔اس نہرکی لیولنگ کے بارے یہ روایت ہے کہ جب لوگ اس نہر کونکالنے کے لئے تیار ہوے تو قدرتی طورپر کہیں سے ایک چیل آیا۔وہ اس پہاڑ کے ساتھ اڑتارہا۔اور اس کا سایہ پہاڑ کے ساتھ چلتا رہایہاں تک کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کے سایے کے ساتھ نہر کی نشاندہی ہوئی۔بہرحال یہ روایت ہے”۔ ویسے مقامی طورپر تمام چترال میں لیولنگ کادیسی طریقہ یہ رہا ہے کہ نہر کوہیڈورکس سے تعمیر کرنا شروع کرتے ہیں اور پانی خود اپنا لیول متعین کرتا رہتا ہے اور اسی کی پیروی میں تمام نہر کی تعمیر ہوئی ہے۔راژوئے کافی بڑی نہر ہے۔اس کی چوڑائی تقریباً 6,5فٹ اور گہرائی بھی تقریباً7,6فٹ ہوگی۔اس میں اتنا پانی ہوتا ہے کہ کوئی کمزور آدمی اسکو آسانی سے عبور نہیں کرسکتا۔”

راقم نے اس نہرکی پروفیسر رحمت کریم بیگ اور پروفیسر ہدایت الاسلام کی مدد سے1980 کے عشرے میں تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔جس پرمیری را ژوے پر رپورٹ ایک جرمن پروفیسر کی دنیا کی اہم نہروں پر کتاب Sharing Water میں چھپی ہے۔
را ژوے ۔ اس نہر کے بارے کچھ نکات پیش کرتا ہوں تاکہ اسکا تعارف ہوسکے۔
اس نہری نظام کو سمجھنے کےلئے زیل امور پیش نظر رکھنا ہوگا۔

۔۔مقامی طور پر نظام کو بحال رکھنے کا بندوبست ۔
۔۔لوگوں کے فرائض۔
۔۔ لوگوں کے حقوق۔
۔۔۔ متنازعہ امور کے تصفیے کے اصول ۔
راژوے کے تین حصے ہیں
۔۔۔عرفی حصہ ۔اسکی لمبائی 13میل ہے۔یہ نہر کا اولین حصہ ہے۔
۔۔۔زانگ لشٹ ژوے۔ یہ آٹھ میل پہلی توسیع ہے۔
۔۔۔ماہ چراغ حصہ ۔یہ بیس میل لمبی تیسری توسیع ہے

اس تمام سسٹم کا کمانڈ ایریا تقریبا” پچاس مربع میل ہے۔ اور ستر دیہات اس سے سیراب ہوتے ہیں ۔اس قدر بڑی نہر کی بحالی نیز یہاں کے لوگوں کے فرائضِ اور حقوق کی اور دیگر امور کی پاسداری کے خاطر یہاں کے بڑوں نے ایسے اصول وضع کئے جو صدیاں گذرنے کے بعد بھی تسلیم شدہ ہیں ۔ ان کبھی بھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئ۔ اور نہ ہی ان کی خلاف ورزی ہوی۔ اور یہی اس نظام کی کامیابی کاثبوت ہے۔اس نظام کے بعض اہم پہلو ذیل ہیں۔

(1)پھی سسٹم: پھی لکڑی کے بیلچے کوکہتے ہیں۔ تمام سسٹم کو16پھی میں تقسیم کیاگیا ہے۔مثلاًعرفی حصہ۔۔ 4پھی
زانگ لشٹ حصہ۔۔۔ 6پھی
ماہ چراغ حصہ۔۔۔۔6پھی

ہرپھی کی طرف سے16سے 30تک افراد نہرکے مختلف کاموں کے لئے وقتاًفوقتاًدستیاب کئے جائینگے۔

ہرپھی والوں کویومیہ پانی سے دوحصے دئیے جائینگے۔تاکہ8دن میں ہرایک کی باری مکمل ہو۔پھی والے افراد کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی لیکن ان کا حصہ وہی رہے گا۔پھی والوں کے فرائض میں سالانہ مرمت کاکام،ہنگامی مرمت کاکام،شب وروز ہیڈورکس اور نکاسی جگوں پرڈیوٹی،ایسی جگہوں پرڈیوٹی جہاں لینڈ سلائیڈ کاخطرہ رہتا ہے۔کام کاشیڈول ایسا رکھاگیاہے۔کہ تمام پھی والے مکمل طورپر اپنی باری کے کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔صرف ذیل کاذکر کیاجاتا ہے۔

سوروغ اور سوا:
جیسا پہلے ذکر کیا گیا۔16پھی والوں کو2×16=32سوروغ الاٹ کئے گئے ہیں۔لیکن اولین قبیلوں جنہوں نے اس سسٹم کی ابتدا کی ان کو دومزید باری دی جاتی ہے جسے سوا کہاجاتا ہے۔سواہندی لفظ ہے جو زاید کوکہتے ہیں۔شاید اسی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہوگا۔
ان کی بہت بڑی تفصیل ہے جن کا یہاں موقع نہیں۔

چاختوغ:
چاختوغ پانی کی تقسیم کاایک اور طریقہ ہے یہ37خاندانوں کودیا جاتا ہے۔چاخت کھوار زبان میں ایک تنگ دراڑ یاروزن (opening)کوکہتے ہیں۔یہاں پرتین قسم کے چاخت مقررکئے گئے ہیں۔استورو نعل، ٹٹوو نعل اور گوردوغونعل۔استورو نعل یاگھوڑے کی نعل کاقطر چار انچ،ٹٹوکاایک انچ اور گدھے کی نعل کا1/2ہوتا ہے۔

راژوئے کاانتظام:
انتظام کرنے والے کانام میرژوئے ہے۔یہ تمام نظام کامحور ہوتا ہے۔یہ اس نظام کے تمام اصولوں اور قوانین کاکسٹوڈین ہوتا ہے۔اسکی بات حرف آخر ہوتی ہے۔اور اس کوماننا سب کے لئے لازم ہوتا ہے۔پہلے میرژوئے عرفی حصے سے مقرر ہوتا تھا۔اوور وہ عامطورپربائیکے قبیلے کابڑا ہوتا تھا۔لیکن1970ء کےبعد یہ سسٹم تبدیل کیا گیا ہے۔اب لوگوں کے اتفاق رائے سے میرژوئے مقرر ہوتا ہے۔

تنازعات:
اب تک کوئی خاص بڑے تنازعات پیدانہیں ہوئے۔چھوٹے موٹے تنازعات میرژوئے خونمٹالیتے ہیں۔

نتائج:
(1) اس سسٹم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے لوگوں میں ہم اہنگی اور یکسانیت ہے۔
(2) بااختیار میرژوئے کارول نہایت اہم ہے۔
(3) پانی مقامی لوگوں کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔اس تصور نے یہاں کے لوگوں کو اس اثاثے کی حفاظت اور اسکے صحیح استعمال کاڈھنگ سکھایا۔
(3) کوئی بھی منصوبہ نیچے سے اوپر (جسے انگریزی میں Bottom upکہتے ہیں)ترتیب سے تشکیل پائے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور کوئی بھی منصوبہ اوپر سے نیچے تشکیل پائے یعنی کوئی باہر کاادارہ بغیرلوگوں کوساتھ لئے منصوبہ تیار کرے وہ عموماًناکام ہوجاتا ہے۔یہاں بھی ائیندہ کے لئے اگرکوئی بھی ترقیاتی کا اس نظام کی بہتری کے لئے کئے جائیں وہ مقامی لوگوں کی رہنمائی میں اس طرح ترتیب دیئے جائیں کہ اس سسٹم کے پُرانے نظام کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

حضرت گیسو کی روایت:(روای رحمت عزیزعزیز)

کھوت کاقصہ حضرت گیسو کے مزار کے لئے بھی مشہور ہے۔جواس خطے کے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔مقامی روایات کے مطابق حضرت گیسو میں حضرت محمدﷺ کاموئے مبارک موجود ہے۔خوشے قبیلے کاجد امجد مسمی میرخوش ایک نیک صالح انسان تھے۔اُنہوں نے ایک دن خواب دیکھا۔ایک نیک خوبصورت باصفا شخص اس سے کہہ رہا تھا۔”اے میرخوش!اُٹھو اور معجامو ڑی کے مقام پرچلے جاؤاور ایک بکرہ ذبح کرکے اسکی کھال الٹی کرکے موئے مبارک عزت واحترام سے اُٹھاو۔اور سات اوپر نیچے کمرے بناکر اس موئے مبارک کو اس آخری کمرے میں عزت واحترام کے ساتھ رکھ دو۔اوراس کی حفاظت کرو۔میرخوش خواب سے بیدار ہوا۔اور بتائی ہوئی جگہ پرموئے مبارک کوپالیا اور دئیے گئے ہدایات کے مطابق اس کو سنبھال کے رکھ لیا جواب تک اس جگے میں موجود ہے۔

حضرت گیسوکی کہانی کی جڑیں مقامی روایات میں بہت گہری ہیں اور یہ خیال کیاجاتا ہے۔کہ حضرت گیسو کی زیارت میں حاضری دینے سے بیماروں کواللہ تعالیٰ شفا یابی عطا فرماتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ بابامیرخوش اور اس کے ساتھی کاشغر سے نقل مکانی کرکے قدیم زمانے میں اس علاقے میں اسلام کوپھیلانے کے لئے آئے تھے۔یہ بتایا جاتا ہے کہ میرخوش بابا نے کھوت میں اپنے قیام کے دوران بہت سے کرامات دکھائے اور اس علاقے میں اس کے لوگوں کو اپنی روحانی طاقتوں سے سرفراز کیا۔ان کی دعائیں ہمیشہ قبول ہوتی تھیں۔

یہ مبارک مقام اب بھی مرجع خلایق ہے۔اور سالانہ بے شمار لوگ یہاں زیارت اور امن وسکون حاصل کرنے کے لئے حاضرہوتے ہیں۔

پتھر پر نقش کاری:
بوزوند سے کھوت جاتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک پتھر پرقدیم زمانے کی نقش کاری راقم نے نوٹ کی تھی۔جوچیلاس میں پہاڑوں کی چٹانوں پرنقش کاری کے مانند تھی۔جن کا گندھارا زمانے سے تعلق بتایاجاتاہے۔میں نے اس کاذکر کارل جٹمار صاحب سے کیا تھا اور اس نے اسکی تصدیق کی تھی۔

قبیلے:
علاقہ کھوت میں مندرجہ زیل قبیلے آباد ہیں۔خوشوقتے،بائیکے،داشمنے،زوندرے،لالیکے،قوزئیے،خوشوقتے،دارغیر(لکڑی کے برتن بنانے والے)،ساڑھے،ڈنزے،موچی(اہنگر)۔

(تورکھو جاری باقی ائیندہ)


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74238