Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاسی دکان، کامیابی کا نشان – محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

سیاسی دکان، کامیابی کا نشان – محمد شریف شکیب

سیاست کے مفکر اول افلاطون کا اپنی شہرہ آفاق کتاب الجمہوریہ میں یہ ماننا تھا کہ سیاست کرنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں۔اس کے لئے وسیع ذہن اور وژن درکار ہے دس سے پندرہ سال کے بچوں کا ذہنی استعداد جانچنے کے بعد ذہین ترین بچوں کی سیاسی تربیت کرنی چاہئے پھر انہیں قیادت و سیادت کی ذمہ داری سونپ دی جائے تو ریاست کا نظام بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔افلاطون کے شاگرد اور سکندر اعظم کے استاد ارسطو نے بھی سیاست کے لئے بہترین دماغوں کے چناو کی ضرورت پر زور دیا۔لیکن عہد وسطی کے ایک سیاسی مفکر میکاولی کا کہنا ہے کہ سیاست کے لئے ذہین اور قابل ہونا چنداں ضروری نہیں، شاطر، چالاک اور سنگدل ہونا اولین شرط ہے جو معاشرے کے مختلف طبقوں کو آپس میں لڑائے اور سکون سے اقتدار کے مزے لوٹے۔میکاولی کے اس سیاسی گائیڈ کو موجودہ دور کا ہر سیاست دان اپنے سرہانے کے نیچے رکھتاہے۔۔موجودہ دور کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو ننانوے فیصد حکمران میکاولی کے چیلے نظر آتے ہیں۔وطن عزیز کی سیاست پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان انسانوں کا میلہ ہے، جس میں صرف سیاست دانوں کا ٹھیلا ہے۔ہمارے کچھ پاکستانی دیر سے بیدار ہوتے ہیں، کچھ زیادہ دیر سے بیدار ہوتے ہیں، اور کچھ کے ضمیر کبھی بیدارنہیں ہوتے۔ یہ والے لوگ وہ ہوتے ہیں، جن کے دل میں بغض اور زہر بھرا ہوتا ہے۔

مگر بول ہمیشہ میٹھا بولتے ہیں۔ یہ ہمیشہ بے وفا محبوب کی طرح جھوٹے وعدے کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی پوری زندگی دو اصولوں پر کاربند نظر آتی ہے، پہلا اصول اپنی غلطی ہمیشہ دوسرے پر ڈال دو اور دوسرا اچھا کام کبھی غلطی سے بھی نہ کرو۔ہمارے سیاستدان ان جونکوں کی طرح ہیں، جو معاشرے کے ساتھ جڑ کے رہتے ہیں اور خون چوستے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی جڑیں اس لیے بھی کھوکھلی کرتے ہیں، تاکہ ان کی جڑیں مضبوط ہوں۔قوم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیاہے ظالم اور مظلوم ، امیر اور غریب ۔ یہی ان کے نزدیک دو قومی نظریہ ہے. انہیں اللہ تعالی نے مختلف اوصاف سے نوازا ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارا پاکستانی ووٹر میڈیا کی آگاہی کی وجہ سے مرچ کی طرح تیز ہوتا جا رہا ہے۔ مگر ووٹر جتنا بھی تیز ہو، سیاستدان اسکا اچار ڈال ہی لیتا ہے۔ دوسری صفت اس سے بھی اعلی ہے۔ آپ کے علاقے میں گیس آتی ہو یا نہ ہو اگر سیاستدان کا آنا جانا ہے تو گھر گھر آگ لگی ہو گی۔آبادی کی شرح افزائش پر پوری دنیا متفکر ہے مگر ہمارے سیاست دان آبادی بڑھنے پر خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کو بے زبان غلام مفت میں مل جاتے ہیں۔

 

سنا ہے باہر کے ملک میں بچہ پیدا ہو تو کھلونے لے کر دیتے ہیں تاکہ بچہ کھیلے، پاکستان میں بچہ پیدا ہو تو والدین ایک اور پیدا کردیتے ہیں تاکہ دونوں آپس میں کھیلیں اور اگر سیاستدان کے گھر بچہ پیدا ہو تو وہ دن رات ایک کر کے اپنے حلقے کے مسائل میں اضافہ کرنے میں لگ جاتا ہے، تاکہ اسکا بچہ بڑا ہو کر حلقہ پر حکمرانی کر سکے اور ان کے جذبات سے کھیل سکے۔مہنگائی کے دور میں بھی کچھ بکے یا نہ بکے۔ سیاست دانوں کا ہر نیا چورن ضرور بکتا ہے۔ کبھی روٹی کپڑا مکان ، کبھی نیا پاکستان، کبھی لبرل یا سیکولر پاکستان تو کبھی اسلامک پاکستان، کبھی شیر کا پاکستان تو کبھی بھائی اور قائد کا پاکستان۔ عموماً یہ چورن بیچنے والے سیاست دان خود ان پڑھ ہوتے ہیں۔مگر وہ پڑھے لکھوں کوذہنی طور پر اپنا غلام بنا کر رکھنے میں یدطولی رکھتے ہیں۔ سنا ہے الیکشن کے دنوں میں ایک سیاستدان ہسپتال کے احاطے میں ٹہل رہا تھاکہ نرس نے آکر مبارکباد دی اور کہا آپ کے تین جڑواں بچے پیدا ہوئے ہیں۔

 

سیاستدان خیالات سے چونکا، اور جلدی سے بولا یہ نہیں ہوسکتا، دوبارہ گنتی کراؤ۔ ہمارے ایک ووٹر دوست ایک دن ہم سے مشورہ کر رہے تھے، کہ نوکری تو ملتی نہیں سوچتا ہوں کہ سیاست شروع کروں۔کیونکہ اس کے لئے کسی قابلیت یا سرمایے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچوں کو بھی پڑھ لکھنے اور کام دھندہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔سیاست خاندانی پیشہ بن جاتی ہے اور ہمارے ہاں سیاست دان کے لئے مواقع کی کوئی کمی نہیں۔عام انتخابات میں اگر دال نہیں گلتی تو نگراں حکومت میں بھی چانس نکل سکتا ہے۔اور کامیاب سیاست دان بننے کے لئے کوئی پہاڑ کھود کر دودھ کی نہر نکالنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔صرف جلسوں اور میڈیا ٹاک میں وعدے وعید کے سبز باغ دکھانے سے کام چلتا ہے.


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74100