Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختصر سی جھلک – باہمی مہارتیں – فریدہ سلطانہ فریؔ

شیئر کریں:

مختصر سی جھلک – باہمی مہارتیں – فریدہ سلطانہ فریؔ

باہمی مہارتیں وہ مہارتیں ہیں جوہم روززندگی میں انفرادی طور پراورگروہوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے استعمال کرتےہیں۔ان میں مہارتوں کی ایک وسیع تعداد موجود ہے،لیکن ان میں سے خاص طورپربات چیت کی مہارتیں جیسے سننا، موثربولنا اپنے جذبات اور احساسات کوالفاظ میں ڈھال کردوسروں تک اچھے سے پہنچانا اوران جذبات پرقابوپاکراپنی بہترین نمائندگی کرنا یہ تمام صلاحیتن شامل ہیں۔ باہمی مہارتوں کواکثرلوگوں کی مہارت یا سماجی مہارت بھی کہتے ہیں۔ اس میں اَن اشاروں کوسمجھنا شامل ہوتا ہے جوہم روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے سےرابطہ کرتے ہوئےاستعمال کرتے ہیں اوراس غرص سےکہ موثرروابط پیدا ہوسکےاس کا درست جواب دیتے ہیں ۔ زندگی کی بنیادی مہارتوں میں اس مہارت کواس لئے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ زندگی کے ہرمیدان میں انسان کو ایڈجسٹ ہونے میں مدد دیتی ہے کیونکہ مضبوط مہارتوں والے لوگ ہی خاندان ،دفاتروکاروبار کھیل کودغرض زندگی  کےہرمیدان اورہرشعبےمیں موثرتعلقات پیدا کرکےکامیابی سے ہم کنار ہوسکتے ہیں۔

 

اب جب بات بچوں کی کرتے ہیں توان کے لئےاس مہارت کوسیکھنااس لئے ضرروی ہے کہ اس کے زرئعے ان کواپنے دوستوں اورکلاس فیلوزسے بہترین وخوشگوارتعلقات استوارکرنےمیں مدد ملتی ہےاورکلاس روم میں باہمی تعاون،دوستانہ ماحول اورمثبت رویوں سےسیکھنے کےعمل میں بھی اسانی پیدا ہوتی ہے یہی بچےپھراگےجا کرزندگی کے ہرمیدان میں اپنی بہترین نمائندگی کرتے ہوئے اسانی سے اپنا نام ومقام پیدا کرسکیں گیں۔اب اس مہارت کوہم سکول اورگھرکی سطح پرکس طرح بچوں میں پروان چڑھا سکتے ہیں۔گھروں کے اندرازادی رائےکا حق بچوں کوضروردیں تاکہ وہ اپنے احساسات اورجذبات کوالفاظ کی شکل میں اسانی سے بیان کرنےکےقابل ہوسکیں کیونکہ اب کا گھرایک چھوٹا معاشرہ ہے اوراپ اس چھوٹے معاشرے میں انہی سرگرمیوں کی مدد سے اپنےبچےکو بڑے معاشرے کے لئے تیار کر لیتے ہو۔

 

زبانی بات چیت کےعلاوہ خود کو ظاہرکرنے کے بہت سے اور بھی طریقہ کارہیں۔اپنے بچےکوالفاظ کااستعمال کیےبغیراپنےجذبات کا اظہارکرنے کے دوسرے طریقوں سے ذہن سازی کرنے میں مدد کریں۔

 

کیونکہ غیرزبانی بات چیت بھی اہم ہے۔ کچھ جگہوں میں، غیرزبانی اظہار کو زبانی اظہار سے زیادہ طاقتورسمجھا جاتا ہے. اپنے چھوٹے بچوں سے کہیں کہ وہ الفاظ استعمال کیے اپنےچہرے کے تاثرات سے اپنے جذبات کا اظہارکریں اس کےساتھ ساتھ بچوں کے مشاغل اوردلچسپیوں میں بھی ان کا ساتھ دیں اور ہرقدم پران کی حوصلہ افزائی کریں ان کو دوسرے بچوں سے ملنے جلنےاوراچھے روابط قائم کرنے کا درس دیں ۔ سب سے اہم بات یہ کہ جوکام اپ کرنےکا بول رہے ہواس میں رول مڈل بن کرانہیں دیکھائے کیونکہ بچے ہراس کام میں دلچسپی لیتے ہیں جوان کے بڑے ان کے سامنےعملی طور پرکررہے ہوتے ہیں۔ اس کےعلاوہ اساتذہ کرام سکولوں میں بہت سے ایسے طریقےبھی اختیار کرسکتے ہیں جوبچوں کے اندراس ہنرکو فروغ دینے میں مدد گار ہو جیسا کہ

اسٹڈی گروپس۔

ٹیم ڈیبیٹ پروجیکٹس۔

-پییرمنٹورینگ

یہ ایسی سرگرمیاں ہیں جن میں بچوں کا ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ رہتا ہے اوران میں بولنے،سننے سمجھنےاورایک دوسرے کوبرداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔بچے ہمارے کل کا مستقبل اورقوم کا معمار ہیں ان کی تعلیم اورتربیت میں اساتذہ اوروالدین دونوں کا کرداراہم ہے اسی لئے ہمیں ہراس حکمت عملی کواپنانا چاہیے کہ جس کی وجہ سے ہرلحاظ سے بچوں کی مکمل تربیت اورنشوونما ہوسکیں ۔

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
74056