Chitral Times

Dec 1, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم

شیئر کریں:

قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ)سپریم کورٹ میں پنجاب عام انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم ادائیگی پر اِن چیمبر سماعت کے موقع پر ججز نے فنڈ جاری نہ کرنے پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے واضح کردیا کہ عدالتی حکم پر عمل کرنا پڑے گا۔عدالت نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم بھی دے دیا۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر عملدرآمد کیا ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے رقم کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے انتخابات کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز کے اجرا کے بل کو مسترد کیا، پارلیمنٹ سے بل مسترد ہونے کے بعد حکومت اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کا نہیں کہہ سکتی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ اِن چیمبر سماعت کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں۔اس سے قبل سماعت شروع ہونے پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سیما کامل، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اور ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ 3 رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔اٹارنی جنرل، سیکریٹری الیکشن کمیشن، وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی چیمبر میں پیش ہوئے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت فنڈز کے اجرا کے معاملے میں بے بس ہے، پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ذرائع کے مطابق قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کے ہمراہ آنے والے دیگر افسران کو سماعت کے وقت باہر بھیج دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ کے اسپیشل اور ایڈیشنل سیکریٹری کے علاوہ دیگر حکام کو بھی سماعت کے وقت باہر بھیجا گیا جبکہ اٹارنی جنرل، سیکریٹری اور ڈی جی لاء الیکشن کمیشن سماعت میں موجود رہے۔

 

آئین کے تحت اختیار پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا، آرمی چیف

اسلام آباد(سی ایم لنکس)آرمی چیف جنرل جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آئین کے تحت اختیار پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔اسمبلی ہال میں قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری آپریشن اور اعلیٰ عسکری حکام، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، وفاقی سیکرٹریز داخلہ، خارجہ، فنانس، دفاع اور اطلاعات نشریات، چاروں صوبائی وزراء اعلی، چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز اور آئی جیز اجلاس میں شریک ہوئے۔اعلی عسکری حکام نے داخلی سلامتی سے متعلق بریفنگ دی۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے امن و امان اور وزیرستان میں انسداد دہشتگردی کے آپریشن سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے شہدا کی عظیم قربانیوں سے امن بحال ہوا، یہ محنت چار سال میں ضائع کر دی گئی، ملک میں دہشت گردی واپس کیوں آئی، کون لایا؟تمام صوبوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور فاٹا اصلاحات کے تحت مقاصد کے لئے رقوم دی تھیں، وہ کہاں گئیں؟، خیبرپختونخوا کو دیئے جانے والے اربوں روپے کے وسائل کہاں استعمال ہوئے؟ ان کا جواب لینا ہوگا۔آرمی چیف نے 1973 کے آئین کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہونے پر پارلیمنٹ اور ارکان کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوام کی رائے کا مظہر ہیں، عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، حاکمیت اعلی اللہ تعالی کی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے ہی آئین کو اختیار ملا ہے، آئین کہتا ہے کہ اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی اجلاس کا شیڈول تبدیل کردیا گیا، اجلاس 26 اپریل کے بجائے آج شام 5 بجے ہوگا۔اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اجلاس میں تبدیلی کا مراسلہ جاری کر دیا گیا۔

 


شیئر کریں: